بریکنگ نیوز
Home / کالم / معیشت اور آگ

معیشت اور آگ


کپاس کا ہماری معیشت اور برآمدگی میں کتنا حصہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں لگائی گئی شوگر ملوں کو جو کہ حکمران خاندان کی ملکیت تھیں عدالت کے فیصلے سے اس لئے بند کروا دیا گیا کہ شوگر ملوں کی وجہ سے لوگ گنے کی کاشت کی طرف مائل ہو رہے تھے اور اس طرح ہمارے جنوبی پنجاب کی کپاس کی کاشت متاثر ہو رہی تھی۔ چونکہ کپاس وہ پیداواری جنس ہے کہ جس پر ہماری برآمد کا ایک بڑی حد تک دارو مدار ہے۔ ہمارے ہاں کپاس اور کپاس سے تیار کردہ اشیاء جیسے کپڑا ، ہوزری کا سامان وغیر ہ ہما ر ے برآمدی مال میں ایک بڑ حصہ رکھتی ہیں۔اگر ہماری اس فصل کو بند کر دیا جائے تو ہماری بر آمد کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور یوں ہماری ملکی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس بات کا علم ہمارے دہشت گردوں کو بھی ہے اسی لئے ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی گودام یا کارخانہ جس میں روئی یا روئی سے تیار کردہ سامان رکھا ہوتا ہے یا تیار ہوتا ہے ،میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ہم اس میں بجلی کو ذمہ دار قرار دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ آخر روئی اور روئی سے بنی ہوئی اشیا ء ہی کے کارکانوں اور میں شارٹ سرکٹ کیوں ہوتا ہے۔ کراچی میں ایک مل میں آگ لگی جس میں دو ڈھائی سو مزدور آگ کے شعلوں کی نذر ہوئے۔ اولین اطلاعات یہی تھیں کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ۔ معاملہ دب جاتا مگر بے گناہ لوگوں کی آہوں اور موت نے اس کا پول کھول دیا کہ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ بھتہ نہ دینا تھا۔ایک بھتے کی خاطر ایم کیو ایم کے کارندوں نے نہ صرف اس فیکٹری میں آگ لگائی بلکہ مزدوروں کو موت کا سبب بھی بنے ۔

یعنی باہر نکلنے کے سارے راستے بھی مسدود کر دئے۔لوگ پکڑے گئے اعتراف جرم بھی ہو گیا مگرپھر ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا‘ اس لئے کہ مرنے والوں میں کوئی بھی کسی بڑے آدمی کا بھانجا بھتیجا یا بیٹا نہیں تھا بلکہ غریب مزدور تھے اور غریبوں کا مر جانا یا ان کوئی حادثہ پیش آ جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد دیکھا جائے تو جہاں بھی آگ لگی اُن میں سے اٹھانوے فی صد روئی کے گودام یا کپڑے کے گودام یا کارخانے تھے۔ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہمارا دشمن نہ صرف ہمیں جانی نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ وہ ہمیں معاشی طور پر بھی اپا ہج بنانا چاہتا ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف بجلی کے شارٹ سرکٹ کو ملامت کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس کی اصل وجہ کی طرف جا کر اس کا سد باب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ایک آدھ کی بات ہوتی تو جو کہتے ہیں مان لیا جاتا مگر مسلسل ایک ہی قسم کے کارخانوں اور گوداموں کا آگ پکڑ لینا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر تا ہے۔اس لئے کپڑے کے کارخانوں اور دھاگے او ر کپڑے کے گوداموں پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح روئی کے گوداموں پر بھی خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں بھی ہمارے برآمدی سامان کے سٹور ہیں وہ ہمارے دہشت گردوں کا نشانہ ہیں ۔اس لئے ان کو نظر انداز کرنا ہمیں معاشی طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔

اب تو نہ صرف روئی اور اس سے تیار شدہ سامان کی حفاظت ضروری ہے بلکہ ہر وہ چیز جو ہم برآمد کر رہے ہیں یاکرنا چاہتے ہیں ہمارا دشمن اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ہم جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے نکلنا گو آسان نہیں ہے مگر احتیاط سے کام لے کر نقصانات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ ہمیں ہر اُس طرف نگاہ رکھنی ہو گی جہاں سے ہمیں کوئی جانی یا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔جہاں تک جانی نقصان کا تعلق ہے اس کیلئے تو ضربِ عضب اور ردالفسادبہت زیادہ کار آمدثابت ہو رہے ہیں مگر ایک ردالفساد اس طرف بھی ہونا چاہئے کہ جدھر روئی کی پیداوار ہمارے لئے اہم ہے وہیں اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔پہلے تو ٹھیک تھا کہ جہاں چاہا روئی کے ڈھیر لگا دیئے اور جتنی مرضی دن وہاں پڑی رہے اس لئے کہ اس جنس کو کسی طر ف سے بھی کوئی خطر ہ نہیں تھا مگر اب جو ایسے گودام اور کارخانے شارٹ سرکٹ کی زد میں آ رہے ہیں تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معمولی بات نہیں ۔ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور اس کا سد باب بہت ضروری ہے۔