Home / اداریہ / بھارت حقائق تسلیم کرے

بھارت حقائق تسلیم کرے

بھارت بلوچستان سے گرفتار ہونے والے اپنے جاسوس کلبھوش یادیو کو سنائی جانے والی سزائے موت پر احتجاج کررہا ہے‘ نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کیا گیا تاہم عبدالباسط نے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایک تو آپ دہشت گردی کریں اور ہمیں بلا کر احتجاج بھی کریں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو سزا ملنی چاہئے ہمیں ملکی سلامتی سے زیادہ کوئی شے عزیز نہیں عبدالباسط نے یہ واضح کیا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کلبھوش کو بچانے کیلئے ہر فورم پر لڑا جائے گا‘ راجیہ سبھا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ملک کا اقدام دوطرفہ تعلقات کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بھارتی وزیر داخلہ ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ کلبھوش یادیو کے پاس بھارتی ویزا موجود تھا وہ جاسوس کیسے ہوسکتا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یادیو کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائینگے۔

دریں اثناء خارجہ امور کے لئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ بھارتی احتجاج کا بھرپور جواب دیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ پھانسی کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے اور سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا جہاں تک پاکستان کی مجموعی پالیسی کا تعلق ہے تو خود وزیراعظم نواز شریف رسالپور میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں کہہ رہے ہیں ک
پاکستان ایک پرامن اور ذمہ دار ملک ہے جو کہ پرامن پالیسی پر عمل پیرا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم ہمسایوں سمیت دنیا بھر سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدلتی دنیا میں قومی سلامتی کے تقاضے تبدیل ہو رہے ہیں ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری جانب بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت ریکارڈ کاحصہ ہیں بھارتی جاسوس خود اعتراف کرچکا ہے وہ 2013ء میں خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ میں شامل کیاگیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے ایسے میں بھارت کو زمینی حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرنا ہوگا۔ عالمی برادری کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور سپورٹ کرے۔

مہنگائی اور ملاوٹ پر احتجاج

پشاور کی ضلع کونسل کے اجلاس میں مہنگائی اور ملاوٹ پر اراکین کا احتجاج ان کے احساس و ادراک کا عکاس اور فوری اقدامات کا متقاضی ہے۔ کونسل کے اراکین نے اس برسرزمین حقیقت کا اظہار کیا کہ عوام کو گراں فروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیا ہے۔ لوگ پیسے دے کر دودھ کی شکل میں زہر خرید رہے ہیں۔ مرغی اور ٹماٹر کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔جہاں تک ذمہ دار اداروں کا تعلق ہے تو وہ دفتر کے اندر تیار ہونے والی سب اچھا ہے کی رپورٹوں پر انحصار کئے بیٹھے رہتے ہیں۔ کونسل کے اراکین کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ ذمہ دار لوگ دفتروں سے نکل کر خود صبح سویرے مارکیٹ میں آئیں اور صورتحال کو چیک کریں جب تک اس چیک کا پورا انتظام نہیں ہوتا حکومتی اعلانات محض اعلانات ہی رہیں گے اگر کے پی کے گورنمنٹ اصلاح احوال میں پہل کرنا چاہے تو اسے ماہرین کے مشورے سے مجسٹریسی نظام بحال کرنا ہوگا۔ یہ ہی وہ سسٹم ہے جو چیک اینڈ بیلنس کیلئے بنایاگیا تھا جسے مشرف دور میں ختم کردیاگیا اس کے بعد سے کوئی حکومت مارکیٹ کنٹرول کرسکی نہ ہی اہم اور ضروری معاملات میں فوری فیصلہ سازی ممکن ہوسکی۔