بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہی عمر جاگنے کی، یہی نیند کا زمانہ

یہی عمر جاگنے کی، یہی نیند کا زمانہ

بہت پہلے ریڈیو سے ایک مشاعرے میں ایک شعر سنا تھا شاعر کانام ذہن سے اتر گیا ہے ایسے ہی گماں گزرتا ہے کہ شاید نشور واحدی کا شعر ہے
کوئی آج تک نہ سمجھا کہ شباب ہے تو کیا ہے
یہی عمر جاگنے کی یہی نیند کا زمانہ
میرے بہت سے دوست جب کھلنڈرے موڈ میں ہوتے ہیں تو اس شعر کا صرف ایک ہی مصرع بار بار پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک مکمل اور خود کفیل مصرع ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ ’’ یہ شباب ہے تو کیا ہے‘‘ کہ شباب کو یہ شباب سے بدل کر پڑھتے ہیں اور یہ اشارہ یقیناََ ان دوستوں کی طرف ہو تا ہے جن کا تخلص شبا ب ہو تا ہے مزے کی بات یہ بھی ہے کہ بہت سے دوست جو شاعر نہیں بھی ہوتے اپنے نام کیساتھ شباب جوڑ دیتے ہیں کیونکہ شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے شباب پسند نہ ہو، اسلئے یہ نام عام نہیں بھی ہے تو بھی رکھا جاتا ہے،مجھے علم نہیں کہ نوشہرہ کے معروف سیاسی رہنما لیاقت شباب نے کبھی شعر کہا ہے یا نہیں مگر تخلص شباب ہے اس تخلص کا بھی کیا کہنا ،ایک بار خاطر غزنوی اباسین آرٹس کونسل کے ایک مشاعرے کی نظامت کر رہے تھے تو انہوں نے حاضرین میں مو جودممتاز ادیب مرحوم عبدالکافی ادیب کو بھی کلام پڑھنے کی دعوت دے دی،

وہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئے،شکریہ ادا کیا اور کہا خاطر صاحب میں شاعر نہیں ہوں، خاطر غزنوی نے کہا اچھا مجھے تو آپ کے تخلص نے دھوکہ دیا،حیرت ہے کہ آپ شاعر نہیں ہیں اور تخلص بھی رکھا ہوا ہے،عبدالکافی ادیب دوبارہ کھڑے ہوئے اور کہا جناب میرا تخلص ادیب ہے شاعر تھوڑی ہے۔ اس پر ایک زبردست قہقہہ پڑا تھا۔ تاہم شباب نام کے اردو اور پشتو میں کئی ایک شاعر ہیں جن میں سے ایک شاعر تو فلم انڈسٹری میں تھے جو فلمساز بھی تھے شباب کیرانوی مگر ان کی رحلت کے بعد ان کے غیر شاعربیٹے بھی شباب بن بیٹھے ان میں سے ایک ظفر شباب بھی تھے جن کے حوالے سے ایک بار فلمی میگزینز میں جلی حروف سے یہ خبر شائع ہوئی تھی ’’ممتاز فلمساز اور شباب سٹوڈیوز کے مالک ظفر شباب نے ہندوستان کے ریکارڈز توڑ دئیے ‘‘

ہمسایہ ملک کیساتھ ہماے تعلقات ہمیشہ ایسے ہی رہے ہیں کہ انکی کسی بھی شعبہ میں ہار سے دل بہت خوش ہو تا ہے اور کرکٹ میچ میں تو دل حلق میں اٹکا ہوتا ہے یہ اور بات کہ ان کے بعض کرکٹ سٹار ز ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں بس اتنا ہے کہ وہ ہمارے خلاف نہ کھیل رہے ہوں اسلئے ظفر شباب کی اس خبر کی سرخی نے ہمیں سرشار کر دیاجلدی جلدی پوری خبر پڑھی تو سر پکڑ کر رہ گئے، تفصیل اس سرخی کی یہ تھی کہ ظفر شباب نے اپنے سٹوڈیو کی لائبریری میں ہندوستانی فلمی گیتوں کے سارے لانگ پلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ نواب شیفتہ نے ٹھیک ہی کہا تھا

ہم طا لبِ شہرت ہیں ،ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

ہماری ساری خوشی ساری سرشاری دھری کی دھری رہ گئی، بات شباب کی ہو رہی تھی اور اس تخلص کے حامل دو شاعر پشاور میں ہیں ایک تو خیر ان دنوں کینیڈا میں ہیں ہمارے حلقہ فکر و نظر کے زمانے کے دوست ہیں ایک عرصہ کینیڈا میں رہنے کے بعد واپس پشاور آئے اور کسی اخبار کے اجرا کے حوالے سے فون پر لمبی باتیں اس سے ہوئی تھیں پھر اس نے ایک این جی او کی بنیاد رکھی بیرون ملک سکالرشپ کے حوالے سے ایک گرینڈ فنکشن ترتیب دیاایک دو دوستوں سے ملانے کی بات ہوئی مگر ون گڈ مورننگ چپکے سے واپس کینیڈا سدھار گئے اور میں بھی یار لوگوں کی طرح کہتا ہی رہ گیا
کوئی آج تک نہ سمجھا یہ ’’ شبابُ ‘‘ ہے تو کیا ہے

اب صبح شام سوشل میڈیا پر چیٹ ہوتی ہے اور اشعار ڈسکس ہوتے ہیں اور اسکا ایک شعر تو غضب کا ہے جسے میں آئے دن ’’ کوٹ ‘‘ کرتا رہتا ہوں یہ شعر اس نے اسّی کی دہائی کے اوائل میں پشاور یونیورسٹی کے ایک مشاعرے میں پڑھا تھا
کہ جیسے چاند مسافر کے ساتھ چلتاہے
چلا وہ ساتھ مگر فاصلہ رکھا ہم سے

اور دوسرے شاعر دوست تو بیک وقت شاعر‘ افسانہ نگار‘کالم نگار اور ڈرامہ نگار ہیں اور اردو ‘پشتو اور ہندکو میں یکساں رواں ہیں تو یار لوگ اسی بنا پر اس شعر کے پہلے مصرع کا مخاطب سمجھنے میں حق بجانب ہیں، ویسے بھی شباب کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ ایک تو یہ دیوانگی کی عمر ہوتی ہے دوسرے سرما کی دھوپ کی طرح جلدی ڈھل جاتی ہے اصل میں عمر کا یہ حصہ جلد ڈھلتا نہیں احساس یہی ہوتا ہے جیسے جلدی بیت گیا ،گویا اگریہ شباب کی گھڑیاں شب فراق کی سی ہیں تو ایک ایک پل صدیوں پر محیط ہو جاتا ہے اور اگر یہ شباب شب وصال کی مانند ہے تو پلک جھپکتے میں کٹ جاتاہے اور عاشق زار کو کہنا پڑتا ہے
شبِ وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو
کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا
شباب ایک بھرپور اور پر شور زمانہ ہوتا ہے جس کے ڈھلنے کے بعد کا زمانہ بہت ہی خاموش اور خالی خالی گذارنا پڑتا ہے اور وہ جو اپنی جوانی کی خوبصورتی اور شباب کی دلکشی سے اترا کر چلتے ہیں کسی کی پروا نہیں کرتے اور ہم چو ما دیگرے نیست کے زعم میں رہتے ہیں اس نیلے آسمان کے نیچے یہ منظر بھی دیکھا جاتا ہے کہ پھر دائیں بائیں کوئی نہیں ہوتا اور کسی خواجہ وزیر کو اس بے کسی کا نقشہ اس طرح کھینچنا پڑتا ہے

اسی خاطر تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسفِ بے کارواں ہو کر

سو یہ شباب بس ایسا ہی ایک بے اعتبار زمانہ ہے دن بھر کے ہنگاموں اور رات دیر تک کے ہاؤ ہو میں کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ جب زندگی کی دیواروں سے دھوپ ڈھلتی ہے تو سارا شوخ و شنگ منظر نامہ کیسا پھیکا پڑ جاتا ہے گرو نے بھی کہا تھا ۔ ’’جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن ‘‘ جی ہاں وہی دن جب ہزار دستکوں پر دروازہ نہ کھولنے والے آخر آخرکھلے در میں شمع رکھ کر خود سے ہمکلام ہو جاتے ہیں

دیا جلائے کھلے در میں بیٹھا ہوں ناصر
کہ جیسے آئے گا وہ میرے پاس عام سی شام

اور ایسے میں کوئی بھولا بھٹکا ادھر نکل بھی آئے تو اس کی حالت مقبول عامر کے نزدیک کچھ یوں ہوچکی ہو تی ہے کہ
دید�ۂ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے
روپ کھو بیٹھا تھا دو چار ہی سا لوں میں کوئی

اور اس انقلاب کی وجہ اگر اسی آنیوالے سے پوچھی جائے تو زیرِ لب مسکرا کر وہ بہادر شاہ ظفر کا شعر گنگنانے لگتا ہے

میں نے پوچھا کیا ہوا وہ آپ کا حسن و شباب
ہنس کے بولا وہ صنم ، شانِ خدا تھی، میں نہ تھا

اسی لئے اگر یار لوگ تمام تر رعایتوں کے ساتھ اگر یہ شعر ادھر ادھر منطبق کرتے ہوئے دہراتے رہتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں
کوئی آج تک نہ سمجھا کہ شباب ہے تو کیا ہے
یہی عمر جاگنے کی، یہی نیند کا زمانہ