بریکنگ نیوز
Home / کالم / حبیب ا لرحمان / عزیز بلوچ‘ سیاسی منظر نامہ پر ممکنہ اثرات

عزیز بلوچ‘ سیاسی منظر نامہ پر ممکنہ اثرات


لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین میں اس بات کے ممکنہ سیاسی اثرات ونتائج کے بارے میں گرماگرم بحث چھڑگئی ہے اور کراچی میں وسیع پیمانے پر سیاسی وانتظامی اکھاڑ پچھاڑ کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں لیاری کو گزشتہ چار دہائیوں سے پی پی پی کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے، عزیر بلوچ نے اپنے بیان میں جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت گزشتہ سال ایک مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کرایاگیا، پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کے منہ بولے بھائی اویس مظفرٹپی پر سنگین الزامات لگائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان کے کہنے پر غیر قانونی کام کرتا تھا، عزیر بلوچ کے بیان میں صداقت جاننے کیلئے اس کے الزامات کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا، تجزیہ کاروں کے مطابق قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک تحویل میں ہونے کے باوجود نہایت حساس دعوؤں اور سنگین الزامات پر مبنی یہ بیان ایسے وقت پرکیوں منظر عام پر لایاگیا ہے جب عام انتخابات میں محض چند ماہ باقی رہ گئے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق ضروری ہے کہ عزیر بلوچ کے الزامات کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیاجائے اور اس کی رپورٹ تین ماہ کے اندر شائع کردی جائے تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کیخلاف الزامات کے خصوصی حوالے سے سیاسی عناصر کو انتخابات میں فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے،بیان میں عزیر بلوچ نے کہاہے کہ آصف علی زرداری کے کہنے پر اس نے 30تا 40بنگلوں کو خالی کراکے ان پر قبضہ کرایا جبکہ ان کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کو چودہ شوگر ملوں کا قبضہ دلایا جو نہایت کم قیمت پر خریدی گئیں، جن بنگلوں اور اپارٹمنٹس کو خالی کرایاگیا وہ کراچی میں بلاول ہاؤس کے اردگرد واقع ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی نے عزیر بلوچ کے الزامات مسترد کئے ہیں اورا س سے لاتعلقی ظاہر کی ہے، اپنے اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے کہا کہ آصف علی زرداری‘ فریال تالپور‘ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا‘ سینیٹر یوسف بلوچ اور پی پی پی کے دیگر رہنماؤں سے اس کے گہرے مراسم تھے۔

وہ ان کے کہنے پر غیر قانونی کام کرتا رہا، عزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ اس کے سر کی قیمت سمیت اس کے خلاف مقدمات آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی مداخلت پر ختم کئے گئے، لیاری گینگ وار کے سربراہ نے اپنے بیان میں جس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں، دعویٰ کیا کہ اسے اور اسکی بیوی کو آصف علی زرداری سمیت کئی سیاسی لیڈروں سے جان کا خطرہ تھا اس نے گزشتہ سال ایک مجسٹریٹ کے روبرو بیان میں اپنے خلاف کئی مقدمات میں لگائے گئے الزامات کو تسلیم کیا تھا، عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار کے طورپر جانا جاتا تھا، رینجرز نے اسے 30جنوری 2016ء کو حراست میں لیا تھا اور پھر اسے فوج کے حوالے کردیا تھا کیونکہ اس نے کئی بیرونی ممالک کی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا رینجرز کی تحویل میں 90روز ریمانڈ کی مدت کے بعد اس نے 29 اپریل 2016ء کو ایک مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164کے تحت اعترافی بیان قلمبند کرایا جس میں اس نے سارے الزامات تسلیم کئے، اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ ایران کی خفیہ ایجنسی کو حساس نوعیت کی معلومات مہیا کرتا رہا، اس نے کہا کہ حاجی ناصر نامی ایک شخص نے جو ایرانی خفیہ ایجنسی کا اہلکار تھا، اسے ایرانی ایجنسی کے دیگر اہلکاروں سے ملوایا تھا اس نے کورکمانڈر‘ سٹیشن کمانڈر اور نیول کمانڈر کے بارے میں معلومات افشاء کیں، عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ کراچی کے کئی تھانوں میں اس نے اپنے تھانیدار مقرر کرائے اور کئی جرائم پیشہ افراد کو پولیس میں بھرتی کرایا وہ مختلف شخصیات اور محکموں واداروں سے کروڑوں روپے بھتہ وصول کرتا تھا۔

جس میں سے ایک کروڑ روپے بھتہ فریال تالپور کو جاتا تھا، فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی میں سعید بلوچ اور نثار مورائی کو بھی اس نے بھرتی کرایا جو اسے دو کروڑ روپے ماہانہ بھتہ دیتے تھے، اس نے یہ بھی بتایا کہ اپنی مرضی کے تھانیدار مقرر کرنے میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا‘ عبدالقادر پٹیل اور یوسف بلوچ جیسے لوگ اس کی مدد کرتے تھے، اگست 2010ء میں اس نے ذاتی انتقام کیلئے دو افراد کو قتل کیا، اس نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ بھی لے لیا، لیاری کے علاقے سے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو ٹکٹ اس کی مرضی سے جاری کئے جاتے تھے یہ افراد اسمبلیوں کے ممبر منتخب ہونے کے بعد قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اس کی وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے 2012ء میں اس نے دو پولیس ملازمین کو روکا، ایک کو گھسیٹ کر گلی میں لے گیا اور قتل کردیا، اس کے کہنے پر شہر میں پولیس والے قتل کئے جاتے تھے اور بعض صورتوں میں دہشت پھیلانے کیلئے ان کی لاشیں جلادی جاتی تھیں، اس نے کہا خدشہ ہے کہ ان انکشافات کے بعد اسے قتل کردیاجائے گا، لہٰذا حکومت اس کا تحفظ یقینی بنائے، عزیر بلوچ کا اعترافی بیان سامنے آنے کے بعد کراچی بالخصوص لیاری کے سیاسی منظرنامہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل اور اکھاڑ پچھاڑ کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔