بریکنگ نیوز
Home / کالم / مال مفت دل بے رحم

مال مفت دل بے رحم

صوبے میں تعلیم کا بیڑا غرق کرنے میں جہاں بہت سے عوامل ہیں وہاں کتابوں کی مفت فراہمی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ہمار ے طالب علمی کے زمانے میں آٹھویں جماعت تک کوئی فیس نہیں ہوا کرتی تھی مگر نویں سے فیس شروع ہو جاتی تھی جو دو روپے فی کس ہوتی تھی اس میں ایک رعایت یہ تھی کہ اگر نویں اور دسویں میں دو سگے بھائی یا بہن بھائی پڑھ رہے ہوں تو ایک کی فیس آدھی معاف ہو جایا کرتی تھی۔گو ہمارے صوبے کے اسی فی صد لوگ ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے کہ جو فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے تھے مگر اس میں صرف بیس فی صد کو آدھی فیس کی معافی کی سہولت دی جاتی تھی اسکا ایک فائدہ یہ تھا کہ والدین اپنے بچوں کو اور اساتذہ کوبچے کی تعلیمی حالت کا پوچھا کرتے تھے اوراگر کوئی کمزوری ہوتی تو وہ اس کو دور کرنے کی کوشش کرتے تھے گو اس وقت نوے فی صد والدین ان پڑھ ہوتے تھے اور دیہات میں تو ان کی تعداد ننانوے فیصد تھی مگر چونکہ ان کی خون پسینے کی کمائی سے ان کے بچوں کی پڑھائی پرخرچ ہوتے تھے اس لئے ان کو اس بات کی فکر ہوتی تھی کہ ان کا پیسہ کہیں ضائع تو نہیں ہو رہااور ساتھ ہی ان کو یہ بھی خیال ہوتا تھا کہ انکا بیٹا پڑھ لکھ کر اپنی زندگی کو سنوار نے کے قابل ہو سکے اور ان کی طرح ہر جگہ خوار نہ ہوتا پھرے ۔ ہم دسویں میں تھے کہ سرحد حکومت نے دسویں تک فیس ختم کرنے کا اعلان کر دیا اس کے بعد والدین کو فیس کی طرف سے تو آرام ملا مگر کاپیاں اور کتابیں اور دیگر سٹیشنری کے سامان کی خریداری بھی والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کی جانب توجہ دینے کی طرف مائل رکھتی۔ہمارا کوئی بھی ہم جماعت اگر پڑھائی میں کمزور ہوتا تو اس کے والد یا چچا کو سکول میں بلا کر بچے کی پڑھائی میں کمزوری کا بتایا جاتا تھا اور جس بھی بچے کے والد کو بلا یا جاتا وہ اس کے بعد ایسا سیدھا ہوتا کہ پھر اس کی پڑھائی میں کمزوری یا ہوم ورک نہ کرنے کی شکایت نہیں ہوتی تھی ان دنوں میں بچوں کی اساتذہ کی جانب سے سزا پر پولیس میں رپورٹ نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ اگر ہمیں سکول سے سزا ملتی اور گھر میں معلوم ہو جاتا کہ ہمیں مار پڑی ہے تو گھر میں بھی پٹائی کا اہتمام ہوا کرتا تھا کہ ہم نے کچھ توغلط کام کیا ہو گا کہ ہمیں مار پڑی ہے۔

کالج لیول پر بھی ہمارے پیچھے گھر کے جاسوس لگے رہتے تھے کہ ہم کسی غلط سوسائٹی میں نہ چلے جائیں اسلئے کہ ہمارے غریب والدین ہمارے کالج کی فیسیں بھی ادا کرتے تھے اور ہماری کتابوں کاپیوں اور دیگر اخراجات بھی اپنی خون پسینے کی کمائی سے ادا کرتے تھے اور ان کو اپنی کمائی ا ور اپنے بچے کے مستقبل کا خیال رہتا تھا جوں جوں وقت گزرتا گیا سیاسی لوگوں کو اپنے نمبر بنانے اور غریبوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے تعلیم کو نشانہ بنانے کا موقع تلاشنے کے حربے ڈھونڈنے پڑے۔سب سے پہلے کالجوں اور سکولوں سے ڈیٹینشن ٹیسٹ ختم کروائے گئے اس کے بعد جو پروموشن امتحانات کالجز لیا کرتے تھے وہ ختم کئے گئے اور طلباء کو بغیر کسی رکاوٹ کے یونیورسٹی اور بورڈ کے امتحانات میں جانے کا موقع دیا گیا جس سے طلباء میں حکومتوں کی وا ہ واہ تو ہوئی مگر ان کے تعلیمی معیار کو صفر کر دیا گیااس کے ساتھ ساتھ ایسی بھی رعایتیں دی گئیں کہ طلباء کو اساتذہ کی پہنچ سے باہر کر دیا گیا یہاں تک کہ جن اساتذہ کے ادب کی وجہ سے ہم اپنے اساتذہ کے سامنے سگریٹ تک پینے سے گھبراتے تھے اُن کو اُن کے طالب علموں نے سر عام بے عزت کرنا شروع کر دیا۔استاد اور طالب علم کے اس رشتے نے ہم کو وہ کلچر دیا کہ اب سیاست میں جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ اسی آزادی کانتیجہ ہے۔

ایک او ر ظلم تعلیم پر یہ کیا گیا کہ اول ادنیٰ سے لے کر دسویں تک کے بچوں کو مفت کتابیں دینے کا اہتمام کیا گیاشاید یہ کام کرنیوالوں کے نزدیک ہمارے صوبے کے غریب عوام کا خیال تھا مگر ہمارے نزدیک یہ ایک حربہ تھا کہ عوام میں ان کی واہ واہ ہو جائے۔مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں نے پڑھائی اور والدین نے بچوں کی طرف توجہ دینا ہی چھوڑ دی۔بچوں کا چونکہ کوئی ٹیسٹ سکول یا کالج کی سطح پرلیا ہی نہیں جاتا کہ ان کی جانچ ہو اس نے بچوں میں نقل کے رجحان میں اضافہ کیا‘ مفت کتابوں نے اور بھی بہت بیماریاں پیدا کیں جو کتابوں کے سکولوں میں جانیکی بجائے کتب فروشوں تک جانا۔مختلف پبلشروں میں کتابیں چھاپنے کے لئے کمپی ٹیشن وغیرہ اور سب سے زیادہ والدین اور بچوں کا مال مفت پر رد عمل۔ بہت سے کام کہ جن کو ووٹ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں ۔