بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھارت کی حقیقت!

بھارت کی حقیقت!

بھارت گھن راجیہ یعنی ری پبلک آف انڈیا کی سرحدیں چھ ممالک (بنگلہ دیش‘ بھوٹان‘ برما‘ چین‘ نیپال اور پاکستان) سے ملتی ہیں اگر ہم بھارت کے اپنے چھ ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے تعلقات کسی بھی ملک سے مثالی نہیں اور وہ ہمیشہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے۔بھارت بنگلہ دیش تعلقات: بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے مکتی باہنی اور شانتی باہنی نامی تحریک کی پشت پناہی کی۔ ہندو تنظیم ’’بنگا سینا‘‘ ایک عرصے تک بنگلہ دیش میں دہشت گرد کاروائیاں کرتی رہی‘ جن کا مطالبہ تھا کہ بنگالی ہندوؤں کے لئے الگ ملک بنایا جائے۔بنگلہ دیش فوج کے سابق تھری سٹار‘ لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم چوہدری جو کہ بنگلہ دیش رائفلز کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں کے مطابق بھارتی فوج نے ’بنگا سینا‘ کے عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کی اور ان کے مراکز بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں قائم کئے گئے جہاں انہیں عسکری کاروائیوں کی تربیت اور اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے حکمت عملیاں دی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں بھارت نے بنگلہ دیش میں ایک کٹھ پتلی حکومت بھی قائم کر رکھی تھی۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 54 مشترک دریا ہیں بھارت ر بنگلہ دیش کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس نے ’فاراکا بیراج (Farakka Barrage)‘ کے ذریعے دریائے گنگا کا پانی کلکتہ کی جانب موڑا جو کہ ’آبی دہشت گردی‘ کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کا دعویٰ ہے کہ اسے دریائے گنگا سے اپنے حصے کا خاطرخواہ پانی نہیں ملتا بالخصوص جب گرم موسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے لیکن جب مون سون بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو اسکے دریاؤں میں بھارت اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے علاقے زیرآب آ جاتے ہیں اور بڑے رقبے پر کھڑی فصلیں اور تعمیرات تباہ ہو جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق سال 2001ء سے سال 2011ء کے درمیان بھارت بنگلہ دیش سرحد پر کم و بیش ایک ہزار افراد کو گولی ماری جا چکی ہے اور صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحدی محافظوں کو حکم ہے کہ بنگلہ دیش کی طرف سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے! بھارت کا بنگلہ دیش کیساتھ سرحدی تنازعہ 44 سال پرانا ہے۔ اپریل 2001ء میں بنگلہ دیش کے سرحدی مسلح محافظین ’بارڈر گارڈز بنگلہ دیش‘ اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے درمیان مسلح تصادم ہوا جو 1971ء کے بعد سے ہونے والا ایسا شدید ٹکراؤ تھا۔ بھارت کا ’میری ٹائم باؤنڈری‘ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر ملکیت کا دعویدار ہے۔بھارت بھوٹان تعلقات: بھارت نیپال میں ہمیشہ اور صرف کٹھ پتلی حکومت ہی برسراقتدار چاہتا ہے۔ 1975ء میں بھارت نے سیکم (Sikkim) کے سرحدی علاقے میں ایک لاکھ فوجی تعینات کئے اور بعدازاں اس علاقے کو ملک کی بائیسویں ریاست قرار دے دیا۔بھارت چین تعلقات: خفیہ ادارہ ’را‘ مشرقی ترکستان ( Turkestan) آزادی کی تحریک کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے جو چین کے صوبے سنکیانگ (Xinjang) میں ہے۔

’را‘ تین دہشت گرد عسکری تنظیموں (ایسٹ ترکستان انڈی پینڈنس موومنٹ‘ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور تحریک طالبان پاکستان) کی مربوط اور باہم رابطہ کاری میں بھی ملوث ہے۔بھارت کے چین کے ساتھ چار سرحدی تنازعات بھی ہیں اورانچل پردیش اور توانگ کے اضلاع بھارت کے کنٹرول میں ہے لیکن ان پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور اسی طرح اکسائی چن (Aksai Chin) اور شاکسگم وادی (Shaksgam) چین کے کنٹرول میں ہیں ان کی ملکیت کا دعویٰ بھارت کرتا ہے۔بھارت نیپال تعلقات: نیپال میں سرگرم عسکری مزاحمت کار گروہ ’موؤسٹ‘ کے بھارت سے کئی تعلقات ہیں اس بارے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ بھارت کی فوج کے سابق اہلکار اور سابق گورکھا سپاہیوں نے ’موؤسٹ پیپلز لبریشن آرمی‘ کو عسکری تربیت دی۔انیس سو باسٹھ میں بھارت کی ’اِنڈو بارڈر پولیس‘ نے کالاپ نائی (Kalapnai) کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا جسکی ملکیت کا دعویٰ نیپال کرتا ہے۔ بھارت کا 35 ہزار ایکٹر کے نیپالی علاقے سستا (Susta) پر ملکیت کا دعویٰ بھی ہے۔

بھارت پاکستان تعلقات:1984ء سے 2004ء تک‘ بھارت اس کوشش میں رہا کہ پاکستان کو دو حصوں میں توڑ دے لیکن اپنی اِس خواہش اور کوششوں کی نامرادی و ناکامی کے بعد بھارت کی فوجی قیادت نے ایسے عناصر کی پشت پناہی شروع کردی جو پاکستان کے داخلی ریاستی مفادات پر حملہ آور ہوں اس حکمت عملی کے بھی جب خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی‘ دی بلوچستان ری پبلکن آرمی‘ تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کو اپنی مہمات کے مالی وسائل فراہم کرنا شروع کر دیئے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان میں اس کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو۔ بھارت ایک محکوم و غلام پاکستان چاہتا ہے۔ بھارت ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اُس پر انحصار رکھتا ہو۔بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے چھ میں سے پانچ ہمسایہ ممالک میں علیحدگی پسند تحریکوں کی مختلف طریقوں سے ایک جیسے مذموم مقاصد کیلئے حمایت کرتا رہا ہے۔ ’را‘ بھارت کے چھ ہمسایہ ممالک میں سے کم سے کم پانچ میں دہشت گردی‘ عسکریت پسندی اور باغی تحریکیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ سری لنکا کی خانہ جنگی (سول وار) کے دوران بھارت نے تامل ایلم کے ’لبریشن ٹائیگرز‘ کو تربیت دی جنہوں نے اپنے ہی ملک (سری لنکا) کے 23 ہزار 327 باشندوں کو قتل جبکہ دہشت گرد حملوں میں 60 ہزار افراد کو زخمی کیا۔ اِسی طرح بنگلہ دیش میں ’را‘ نے دہشت گرد تنظیموں ’مکتی باہنی‘ اُور ’شانتی باہنی‘ کی پشت پناہی کی تبت میں بھارت نے ’خامپا باغیوں کو عسکری تربیت دی اور اِن سبھی کاروائیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی اور تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)