بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / مادر بم اور شمالی کوریا کا جواب

مادر بم اور شمالی کوریا کا جواب

کل تک ہم سوچ رہے تھے کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان کیوں نہیں دیاآج ہم صوبہ ننگرہار کے گاؤں شوگال پر گرنے والے تیس فٹ لمبے اور ساڑھے نو ہزار کلو گرام وزنی بم کہ جسے مدر آف آل بامبز کہا جاتا ہے کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے اسکی ضرورت کیوں پیش آگئی لگتا ہے کہ ہم جب غم روزگار کے جھمیلوں میں الجھے ہوئے تھے تو اسوقت وہ لوگ کہ جن کا کام ہی آگ برسانا ہے اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان میں امریکہ اس مادر پدر آزاد بم کو استعمال کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتاواشنگٹن اور کابل میں امریکی ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعدسے افغان پالیسی کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کر رہے تھے عراق‘ شام اور افغانستان کی جنگیں گذشتہ ایک سال سے اسلئے سست روی کا شکار تھیں کہ سابق صدر باراک اوباما اپنی صدارت کے آخری ایام میں کسی نئی مہم جوئی سے گریز کر رہے تھے انکے پاس وقت کم تھا اور وہ جو کچھ حاصل کر چکے تھے اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں دنیا ایک بازیچۂ اطفال کی مانند اسکے سامنے کھلی پڑی ہے۔

اس جہان خراب میں شب و روز ہونے والے تماشوں سے وہ کماحقہ لطف اندوز ہو رہے ہیں انہیں ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ وہ دنیا کے طاقتور ترین شخص بن چکے ہیں آپ کہیں گے کہ اس عالم میں بھی انہوں نے شام پر انسٹھ میزائل اور افغانستان پر بموں کی ماں گرا دی ہے انہیں اگر اپنی طاقت کا اندازہ ہو گیا تو پھر کیا بنے گا جواب یہ ہے کہ اس عالم میں جو عالم پنہاں ہے اسکے اسرارو رموز سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ اصلی طاقتیں انہیں اس مقام افتخار تک کبھی بھی پہنچنے نہ دیں گی ان طاقتوں میں واشنگٹن کی سرکاری انتظامیہ اور ٹرمپ کابینہ کے جرنیل شامل ہیں بعض اخباری اطلاعات کے مطابق مادر بم کے استعمال کا فیصلہ افغانستان میں نیٹو افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کیا اسکی منظوری انہوں نے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے لی یہ اقدام اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جسکے تحت بڑی طاقتوں کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ امریکہ دنیا میں کہیں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے مگر افغانستان میں اامریکہ کو اچانک دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری بم کے استعمال کی ضرورت کیوں درپیش آئی اسکا جواب جنرل جان نکلسن نے یہ دیا ہے کہ اسلامک سٹیٹ یا داعش نے ننگرہار کے پہاڑوں میں ایسی سرنگیں ‘بنکر اور غاریں بنا ئی ہوئی ہیں جنہیں تباہ کرنے کیلئے MOAB یا massive ordinance air blast جسے عرف عام میں مدر آف آل بامبز کہا جاتا ہے کی ضرورت تھی مگر چاراپریل کو شام کی الشیعرات ایئر بیس پر انسٹھ میزائل برسانے کے نو دن بعد ایسا ہیبت ناک بم کہ جسے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا کو ایک تباہ شدہ مقبوضہ ملک کی سرزمیں پر کیوں داغا گیا دو جنگ زدہ اور تاخت و تاراج کئے ہوئے مسلمان ملکوں میں طاقت کے اتنے بڑے مظاہرے کیوں کئے گئے اسکا ایک

جواب توبقول شاعر یہ ہے کہ
اک گردن مخلوق جو ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خون ریز بہت ہے

دوسرا جواب یہ ہے کہ جن کم نصیب سر زمینوں سے کسی خفیف سے رد عمل کی توقع بھی نہ ہو وہاں کسی بھی وقت آتش و آہن برسایا جا سکتا ہے اور جہاں کم جونگ ان جیسا بے لگام ڈکٹیٹر بیٹھا ہو وہاں ثالثی کیلئے چین کی خدمات حاصل کر لی جاتی ہیں گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے پام بیچ فلوریڈا میں اپنی قیام گاہ Mar-A-Lago میں چین کے صدر ژی جنگ پنگ سے ملاقات کے دوران انہیں شمالی کوریا پر دباؤ بڑھا کر اسے انٹر کانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل کے تجربے سے باز رکھنے کامطالبہ کیا یہ میزائل امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے صدر ژی پنگ نے اپنی ملکی سیاست کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی وعدہ تو نہیں کیا مگر انہوں نے شمالی کوریا پرکچھ نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کی یقین دہانی کرا دی کم جونگ ان نے چین کے منع کرنے کے باوجود پندرہ اپریل کو بیلسٹک میزائل کا تجربہ کر دیا یہ کوشش اگرچہ کہ ناکام ثابت ہوئی مگر کم جونگ امریکہ کی کسی بھی دھمکی کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں اوپر کی سطور میں پوچھے ہوئے سوال کا دوسرا جواب وہ چشم کشا اور فکر انگیزبیان ہے جو شمالی کوریا کی پیپلز آرمی کے ترجمان نے ٹرمپ انتظامیہ کی ’’اشتعال انگیزعسکری پیش قدمی‘‘ کے رد عمل میں دیا کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کوچودہ اپریل کو دےئے گئے بیان میں ترجمان نے کہا ‘‘ امریکہ اگر شمالی کوریا کو عراق‘ لیبیا یا شام سمجھتا ہے تو وہ اس سے بڑی دوسری کوئی حماقت نہیں کر سکتا ‘‘

فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ ’’یہ تینوں امریکی جارحیت سے روندھے ہوئے ممالک ہیں شام تو اس قابل بھی نہیں رہا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے میزائل حملوں کا جواب دے سکتا‘‘ کم جونگ ان اگر چین کے سمجھانے کے باوجود امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوا ہے تو ستاون مسلمان مما لک کیوں بھیگی بلیاں بنے ہوئے ہیں یہ وہ سوال ہے جس کا جواب مریخ سے آنے والا اجنبی بھی جانتا ہے اور بہ قائم ہوش و حواس ہر مسلمان بھی اس سے بے خبر نہیں اسلئے ان زخموں کو سہلانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا یہ ہمارے بکے ہوئے کرپٹ اور وطن فروش لیڈروں کی صورت میں ہمارے جسم سے چپکے رہیں گے انہیں رہنے دیتے ہیں اور امریکہ اور شمالی کوریا کے تنازعے کی طرف لوٹتے ہیں کم جونگ ان کے نائب وزیر خارجہ Han Song -Ryol نے جمعے کے دن ایسو سی ایٹڈ پریس کو دےئے گئے ایک بیان میں کہا کہ’’ ٹرمپ انتظامیہ تشدد اور جارحیت پر تلی ہوئی ہے مگر اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اسکے ساتھ کسی بھی وقت جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہیں‘‘ شمالی کوریا کو اتنا تندو تیز لب و لہجہ استعمال کرنے کی ضرورت اسلئے درپیش آئی کہ امریکہ نے پہلے اسے بیلسٹک میزائل تجربہ کرنے سے منع کیا پھر اپنا بحری جنگی بیڑہ ایئر کرافٹ کیرےئر کارل ونسن جزیرۂ کوریا میں لا کھڑا کیا ان دونوں ممالک کے درمیان تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد صورتحال اتنی سنگین ہو گئی کہ جاپان کی حکومت نے جنوبی کوریا سے اپنے ستاون ہزار شہری واپس بلانے کا اعلان کیا ہے جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو سیرین گیس سے لدے ہوئے ہیں اسوقت امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس جنوبی کوریا کے دارالخلافے سیول میں تیزی سے بدلتی ہوئی اس صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے گئے ہوئے ہیں اس آپا دھاپی اور تکرارو تصادم کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
(اس پر مزید بات اگلے حصے میں ہو گی)