بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / باچا خان یونیورسٹی میں بھی تحقیقات کا آغاز

باچا خان یونیورسٹی میں بھی تحقیقات کا آغاز


پشاور۔محکمہ انٹی کریشن خیبرپختونخوانے باچاخان یونیورسٹی چارسدہ میں کلاس فور اور دوسرے مختلف کیڈرز میں 53 سے زائد افراد کی غیر قانونی وخلاف ضابطہ بھرتیوں اورسرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے حکومتی خزانے کو لاکھوں کانقصان پہنچانے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ڈائریکٹر انٹی کرپشن زیب اللہ خان کو شکایات ملی تھیں کہ باچاخان یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر ز نے یونیورسٹی ایکٹ سیکشن فور اورپانچ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلاس فورسے لیکر گریڈ اٹھارہ ،انیس اوربیس میں 53 افراد کی بھرتیاں کیں جس کے تحت یونیورسٹی کے سپرنٹنڈنٹ کو اسسٹنٹ رجسٹرار ایڈیشنل چارج دیکر اپنی گریڈ بیس سے اکیس میں پروموش کرکے باقاعدہ تعینات کردیاگیاجس کے نوٹی فیکشن پر سپرنٹنڈنٹ کے دستخط ہیں۔

اسی طرح اسسٹنٹ پروفیسر کو کنٹرولر کاایڈیشنل چارج، اسسٹنٹ پروفیسر کو رجسٹرار باچاخان یونیورسٹی کاایڈیشنل چارج،اسسٹنٹ پروفیسر کو خزانچی کے ایڈیشنل چارج اورڈاکٹر اکرام کوایڈیشنل چارج کیو ای سی لگادیاگیااوراس سلسلے میں یونیورسٹی کے سپرنٹنڈنٹ کے دستخط سے باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری کیاگیاہے اس کے علاوہ دیگر غیر قانونی کام بھی کئے گئے ہیں جس پر انٹی کرپشن سرکل آفیسر نے بھرتیوں اورمالی بے قاعدگیوں کی باقاعدہ آغازکردیاہے اوراس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ سے تمام تر ریکارڈمانگ لیاہے ۔