Home / اداریہ / عسکری ترجمان کی بریفنگ

عسکری ترجمان کی بریفنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ میں بتایاگیا ہے کہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے ترجمان کمانڈر احسان اللہ احسان نے خود کو فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ عسکری ترجمان کا کہنا ہے کہ مزید لوگ بھی خود کو قانون کے حوالے کریں گے۔ وہ کلیئر کر رہے ہیں کہ کرنل (ر) حبیب بھارتی جاسوس کلبھوشن کو گرفتار کرنے والی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ وہ یہ بھی واضع کر رہے ہیں کہ کلبھوشن کو قانون کے تحت قونصلر رسائی نہیں مل سکتی۔ ڈان لیکس سے متعلق پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اتفاق رائے کا نہیں ہے جن کی نشاندہی ہوئی ہے ان کے نام سامنے آئیں گے اور فیصلہ جلد آئے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیرداخلہ نے اتفاق رائے کا کہا ہے تو ان سے پوچھا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں عسکری ترجمان نے کہا کہ افغانستان کیساتھ بارڈر مینجمنٹ اہم ایشو ہے۔

بارڈر پر باڑ ہم اپنے علاقے کے اندر لگا رہے ہیں۔ یہ باڑ فاٹا کے ساتھ افغان سرحد پر 774 کلومیٹر طویل ہے اس سب کے ساتھ 105 فورٹس بھی بن رہے ہیں۔ جہاں تک بھارت کے ساتھ معاملات کا تعلق ہے تو اس حقیقت سے کوئی صرف نظر نہیں کر سکتا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے میں کوشاں ہے۔ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے شہریوں پر مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ پاکستان بھارتی مداخلت سے متعلق ٹھوس شواہد پیش کرچکا ہے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن خود بھی اعتراف کرچکا ہے دوسری جانب افغانستان کے ساتھ باڑ لگانا پاکستان کا ایک آزاد وخودمختار ریاست ہونے کی حیثیت سے حق ہے۔ معاملہ بھارتی جاسوس کا ہو یا افغان سرحد پر باڑ لگانے کا پاکستان کا موقف شفاف اور اصولی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی برادری بھی اسے بھرپور سپورٹ دے خصوصاً خطے میں امن کے لئے پاکستان کی کوششوں سے نظریں چرانا کسی صورت قرین انصاف نہیں۔

ری ہائیڈریشن کیلئے انتظام کی ضرورت

گرمی کی شدت کیساتھ چھوٹے بچوں کو لو لگنے اور ڈائریا کی تکلیف عام ہوجاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں سرکاری سطح پر ان بچوں کیلئے طبی امداد کیساتھ ری ہائیڈریشن کیلئے انتظامات ناکافی اور بدانتظامی کا شکار بھی ہیں۔ آلودہ پانی، گندگی، مکھی مچھروں کی بہتات میں بیمار ہونے والے بچوں کی اکثریت کو ری ہائیڈریشن کیلئے صفوت غیور ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔ بڑے ہسپتالوں سے اس شفاخانے کا فاصلہ اور راستے میں جام ٹریفک کے باعث بچوں کو یہاں پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔ جس پر بات پھر پرائیویٹ اداروں کی طرف جاتی ہے جن تک رسائی غریب والدین کیلئے ممکن نہیں کیا ہی بہتر ہو کہ اس بار موسم گرما میں تمام سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کیلئے عارضی طور پر سہی علیحدہ ایسے یونٹ بنائے جائیں جن میں ایمرجنسی کور کیساتھ ری ہائیڈریشن کا انتظام ہو۔ کمسن بچوں کو گود میں اٹھا کر والدین کو ہسپتالوں میں ٹھوکریں کھانے پر مزید مجبور نہ کیاجائے۔ اس سب کے ساتھ ری ہائیڈریشن مراکز کی تفصیل سے متعلق آگاہی کا انتظام بھی کیاجائے تاکہ لوگ اپنے قریبی مرکز ہی جاسکیں۔