بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا


گزشتہ اتوار کے روز ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو جناب زرداری صاحب نے اپنے محل نما بنگلے میں انٹرویو دیا ان کے ساتھ گو کہ ان کے فرزند ارجمند بلاول بھی تشریف فرما تھے لیکن وہ اس مجلس میں خاموش رہے اور تقریباً تقریباً ان تما م سوالات کے جوابات زردای صاحب نے خوددیئے کہ جو اس پروگرام کے اینکر نے ان سے کئے ہمیں تو باپ او ر بیٹا دونوں فربہ اندام نظر آئے گزشتہ ایک آدھ سال میں ان دونوں کا وزن زیاد ہوا ہے ہم جسمانی وزن کی بات کر رہے ہیں سیاسی وزن کی نہیں زر داری صاحب اس قسم کی سیاست کے دھنی ہیں کہ جو عرصہ دراز سے اس ملک میں پریکٹس کی جا رہی ہے لہٰذا اس انٹرویو میں جو بھی سوال ان سے کیا گیا انہوں نے ذو معنی قسم کا جواب دیا بقول ان کے وہ میاں نواز شریف کو نہ ہیرو بنانا چاہتے ہیں اورنہ ہی انکو گرانا چاہتے ہیں بلکہ تھکانا چاہتے ہیں وہ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں بھلے مولانا فضل الرحمن صاحب ہوں کہ مولانا سمیع الحق ‘ ایم کیو ایم کی قیادت ہو کہ اے این پی کی زرداری صاحب نے ان میں سے کسی کے ساتھ بھی گفت و شنید یا الیکشن میں الحاق کے امکان کو رد نہیں کیا وہ دروازے پر کواڑ نہیں لگاتے ہمیشہ اس کا کچھ حصہ کھلا رکھتے ہیں ان کا اس سیاسی مقولے پر ایمان کامل ہے کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا ‘ ہمیں وہ اس انٹرویو میں کافی محتاط نظر آئے اب کی دفعہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زبان نہیں کھولی جو اینکر ان کا انٹرویو لے رہا تھا اس نے لاکھ کوشش کی کہ وہ ان کو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ان کی بنائی ہوئی پراپرٹی کے متعلق کریدے لیکن زرداری اس کے ہاتھ نہ آئے جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اگلاالیکشن جیتنے کے بعد وہ صدر اور بلال وزیراعظم بنیں گے۔

تو انہوں نے یہ کہہ کر نہایت معنی خیز جواب دیا کہ میں صدر نہیں بنوں گا اور جہاں تک وزیراعظم کا تعلق ہے اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی اس سے بعض لوگ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ الیکشن جیتنے کی صورت میں خود وزیراعظم بننا پسند کریں گے جہاں تک بلاول کا تعلق ہے سردست وہ ان کو سیاسی طور پرنابالغ ہی سمجھ رہے ہیں اور ان کیلئے اگر زرداری صاحب کی نظر میں کوئی سیاسی رول ہو سکتا ہے تو وہ 2023ء کے الیکشن کے بعد ہی ہو سکتا ہے فی الحال وہ بلاول کو سیاسی بھٹی سے بالکل اسی طرح ہی گزارنا چاہتے ہیں کہ جس طرح سونیا گاندھی نے اپنے فررند راہول گاندھی کو گزار ا ہے وہ اس بات پر بھی مصر ہیں کہ سی پیک منصوبے کے لئے انہوں نے میاں محمد نواز شریف سے زیادہ ہوم ورک کیا ہے او ر وہ اس کثیر المقاصد منصوے کا کریڈٹ اگلے الیکشن میں خود لینے کی کوشش کریں گے بلاول کو وہ فی الحال عوامی جلسوں میں ایکسپوز کرنے کے خلاف نظر آتے ہیں اور ان کے نزدیک بلاول کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے ‘ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پی پی پی میں آنے والی قیادتیں بھٹو مرحوم کی صرف ایک ہی صفت اپنا لیتیں تو آج یہ پارٹی ناقابل شکست ہوتی اور وہ صفت تھی مالی دیانتداری ‘ بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں بھی کئی میگا پراجیکٹس شروع کئے گئے لیکن چونکہ وہ زمینیں خریدنے ‘ فیکٹریاں بنانے او ر محلات تعمیر کرنے کے شوقین نہ تھے ان کے نام کے ساتھ کبھی بھی کوئی مالیاتی سیکنڈل منسوب نہ ہو ا ضیاء الحق اور اس کے حواریوں نے کافی کھوج لگایا کہ ان کے ہاتھ ذوالفقار علی بھٹوکی مالی بددیانتی کا کوئی کیس آ جائے لیکن چونکہ اس لحاظ سے بھٹو کا دامن داغدار نہ تھا ان کے سیاسی حریفوں کو اس محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑابھٹو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے روبرو بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات چیت اس لئے کر سکتے تھے کہ امریکی صدر کو بخوبی علم تھا کہ وہ اس شخص سے گفت و شنید کر رہا ہے کہ جس کی نہ صرف مالی دیانتداری مسلم ہے بلکہ وہ نہایت ہی پڑھا لکھا ذہین اور سیاسی فہم رکھنے والاشخص ہے بھٹو کے بعد تو ہم نہایت معذرت سے عرض کرتے ہیں ‘ اس ملک کے اکثر حکمران بکاؤ مال تھے۔

ان کے اپنے دامن اتنے داغدار تھے کہ انہیں اچھی طرح احساس تھا کہ امریکن سی آئی اے ان کی ان تمام پراپرٹی اور بینک بیلنس سے باخبر ہے کہ جو انہوں نے مالی بداعنونیوں کے ذریعے بنائی ہوئی ہے بھلے وہ پاکستان کے اندر ہے یا پاکستان سے باہراور اگر انہوں نے امریکی حکومت کی ہر بین الاقوامی معاملے میں ہاں میں ہاں نہ ملائی تو امریکی سی آئی اے ان کے مالی بدعنوانیوں کے کرتوتوں سے پردہ چاک کر کے پاکستانی قوم کی نظروں میں ان کو دو دھیلے کا کر سکتی ہے بھٹو کے اس دنیا سے جانے کے بعد تین مرتبہ بھٹو کے نام کوکیش کرکے پی پی پی برسراقتدار آئی ہے خدا لگتی یہ ہے کہ آج بھی اس ملک میں کروڑوں لوگ بھٹو کے سحرمیں مبتلا ہیں وہ اس نعرے سے محبت کرتے ہیں جو غالباً جے اے رحیم‘ ڈاکٹر مبشر حسن اور حنیف رامے جیسے غریب پرور اور عوام دوست رہنماؤں نے پی پی پی کو اس وقت دیا کہ جب انہوں نے اس پارٹی کا منشور مرتب کیا تھا اور وہ نعرہ تھا روٹی کپڑا اور مکان افسوس کہ یہ نعرہ آج کل پی پی کی نئی قیادت کو اچھا نہیں لگتا حالانکہ اس کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ابھی پی پی پی کو بہت کچھ کرنا ہو گا او ر یہ تب ہی ممکن ہے کہ وہ اپنی موجودہ روش ترک کرکے اس راہ پر چل نکلے جو کہ اس کے بانی مبانیوں نے متعین کی تھی۔