Home / کالم / مزید تذکرہ مادر بم اور شمالی کوریا کے جواب کا

مزید تذکرہ مادر بم اور شمالی کوریا کے جواب کا

شمالی کوریا کے میزائل کیونکہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں اسلئے واشنگٹن کیلئے اسوقت سب سے بڑا خطرہ Pyongyangہے نہ کہ دمشق یا داعش تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے شامی بچوں کی ہمدردی میں داغے ہوے انسٹھ میزائل اورداعش کا راستہ روکنے والا مادر بم دراصل شمالی کوریا کو دھمکانے کیلئے برسائے گئے تھے سانڈوں کی لڑائی میں گھاس کی شامت تو آ ہی جاتی ہے اسلئے شام اور افغانستان کو ایک مرتبہ پھر تہہ تیغ کر کے امریکہ نے بڑے دشمن کے قدم روکنے کی کوشش کی جو ناکام رہی وہاں سے ترکی بہ ترکی جواب آتے رہے اب یہ اونٹ جس کروٹ بھی بیٹھے اصل بات یہی ہے کہ
جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
اتنے شیریں تھے تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بھی بے مزا نہ ہوا

اس ہزاروں پونڈ وزنی بم کو گرانے کا فیصلہ کس نے کیا امریکی اخبار نویس ابھی تک اسکا کھوج نہیں لگا سکے جمعے کے دن انہوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ یہ حملہ انکی منظوری سے کیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ “What I do is I authrorise my military”یعنی میں نے یہ کیا ہے کہ اپنی ملٹری کو اختیار دے دیا ہے یہ نیم دروں نیم بروں والی بات ہے امریکی دانش وروں نے صدر صاحب کے اس حکیمانہ جملے پر مضامین تازہ کے انبار لگا دیئے ہیں میں اگر چاہوں تو باقی کے کالم میں اس علم و حکمت سے اکتساب فیض کر سکتا ہوں مگرمیں جانتا ہوں کہ ہم میں سے کسی کو بھی اس خیال کی رفعت و بالیدگی کی گرہ کشائی سے کوئی دلچسپی نہیں پھر بھی میں کچھ اپنی تفنن طبع اور کچھ ان امور سے گہری دلچسپی رکھنے والے ارباب علم و دانش کی اطلاع کیلئے عرض کر دیتا ہوں کہ صدر صاحب کے مخالفین چراغ پا ہیں کہ انہوں نے مائی ملٹری کی اصطلاح کیوں استعمال کی ہے یہ کوئی انکی ذاتی ملٹری ہے یہ تو پوری قوم کا سرمایہ حیات ہے اس پر کوئی ایک شخص کیسے ہاتھ صاف کر سکتاہے ایک فکر مند نابغے نے یہ تحقیق بھی کر ڈالی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے بھی کیا کسی صدر نے مائی ملٹری کی ترکیب استعمال کی ہے ۔

ان صاحب نے قوم کو یہ خوش خبری سنائی ہے کہ پچھلے ڈھائی سو سال میں یہ جرات کسی صدر نے بھی نہیں کی اسکے باوجود اوپر لکھے ہوے انگریزی فقرے کی اہمیت اپنی جگہ قائم و دائم ہے اس پر خیال آرائی کرتے ہوے صدراوباما کے دفاعی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری Derek Chollet نے کہا ہے کہ ٹرمپ آجکل اختیارات تفویض کرنے کی بات اسلئے کر رہا ہے کہ شروع شروع کے دن ہیں اور خوب تجربے ہو رہے ہیں لیکن کل کلاں کو جب معاملات خراب ہونے لگے تو پھر پتہ چلے گا کہ اختیار کس کے پاس تھا اور فیصلہ کس نے کیا تھاIفغانستان میں امریکی کمانڈر جان نکلسن نے اس فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوے کہا ہے کہ صوبہ ننگر ہار میں اسلامک سٹیٹ کے جنگجو اس حد تک قدم جما چکے تھے کہ انہیں پچھاڑنا مشکل ہوتا جا رہا تھا انکے بنائے ہوے بنکر، سرنگیں اور غاریں اتنی مضبوط اور تہہ دار تھیں کہ انہیں توڑنا آسان نہ تھا اس لئے انہیں تباہ و برباد کرنے کیلئے مدر بم کی شدید ضرورت تھی انکی اس وضاحت سے پتہ چل رہا تھا کہ غاروں اور سرنگوں کا یہ سلسلہ دور تک پھیلا ہوا تھا
ایک سرا میں ہوں دوسرا ہے تو
دور تک پھیلا ہوا ہے سلسلہ زنجیر

یہ بات تو ایک دنیا جانتی ہے کہ طالبان آدھے سے زیادہ ملک پر قابض ہیں کابل آئے روز انکے حملوں کی زد میں رہتا ہے اور افغان نیشنل آرمی امریکی فوج کی معاونت کے بغیر انکی مزاحمت کرنے کا حوصلہ اور اہلیت نہیں رکھتی اسلئے مدر بم ان کے لئے بھی ایک پیغام ہو سکتا ہے مگر بموں کی ماں کا اصلی مخاطب وہ ممالک ہیں جو ہفتے کے دن سے ماسکو میں افغان کانفرنس کا ڈول دال رہے ہیں روس ، چین، ایران اور پاکستان کو مدر بم یہ کہہ رہا ہے کہ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں ہزاروں ارب ڈالر سلطنتوں کے اس قبرستان پر امریکہ نے لگا دئے اور اب اسکے حصے بخرے کرنے آس پاس کے پرانے غمخوار آ گئے ہیں امریکہ ابھی اتنا گیا گزرا تو نہیں کہ وہ تماشہ کرتا رہے اور اسکا شکار اسکے دشمن لے اڑیں دنیا کی اکلوتی سپرپاور ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی کہ اسکے بارے میں یہ کہہ دیا جائے
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے د و ابھی ساغرو مینا میرے آ گے

اب تو اسکا بازوئے شمشیر زن مکمل طور پر با اختیار ہو کر ایک مرتبہ پھر نئے عزم کیساتھ اس پرانے میدان جنگ میں اترا ہے اصل جنگ تو اب شروع ہو گی کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے اب جرنیلوں کو بات بات پرکابل سے وائٹ ہاؤس پیغام بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی اب تو صدر صاحب کی علی الصبح جب آنکھ کھلے گی تو اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا مدر اور فادر بم پھٹ چکے ہوں گے ہزاروں بیگناہ خون میں نہا چکے ہوں گے اور ہوتے ہوتے بات ایک مرتبہ پھر پچھلی تمام جنگوں کی طرح اینٹی وار جلوسوں تک جا پہنچے گی اور پھر ان پرانی جنگوں کے نئے جرنیلوں کو اخبار نویس سمجھائیں گے کہ حضور 2001 میں تورہ بورہ کے مقام پر اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کیلئے پندرہ ہزار پونڈ کے کئی ڈیزی کٹر گرائے گئے تھے اور یہ عالمی شہرت یافتہ گاؤں تورہ بورہ ضلع اچن کے گاؤں شوگال سے دس بارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے مقصد یہ ہے کہ یہ آپکے جانے پہچانے راستے ہیں انکی آخری پگڈنڈی ایک گہری کھائی میں اترتی ہے باقی آپ خود سمجھدار ہیں یہاں مدر فادر بم جس زمین کا سینہ چیرتے ہیں اس میں سے آج تک کبھی بھی فتح نام کی کوئی چڑیا برآمدنہیں ہوئی اسی لئے اسے سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے ۔