بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مشرف کے ریڈوارنٹ کی درخواست مسترد

مشرف کے ریڈوارنٹ کی درخواست مسترد

اسلام آباد۔لال مسجد کے نائب خطیب علامہ عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ صاحب خاتون کے مقدمہ قتل میں عدالت نے مفرور ملزم پرویزمشرف کے ریڈوارنٹ جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی،عدالت نے اپنے مختصر فیصلہ میں کہا ہے کہ تفتیشی افسر کو یہ اختیار ہے کے وہ ریڈ وارنٹ کے اجراء کے حوالے سے اقدامات کرے۔مدعی مقدمہ صاحبزادہ ہارون الرشید غازی کے وکیل طارق اسد نے عدالتی فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادارے بشمول وفاقی حکومت ملزم پرویزمشرف کو بچانے کی کوشش کررہی ہے،ان حالات میں ایسے فیصلے کی توقع تھی،پرویزمشرف کے ریڈوارنٹ کے اجراء کے لئے ہر قانونی آپشن کو استعمال کرتے ہوئے آخری حدتک جائیں گے۔

یہ مقدمہ ہمارا ذاتی مقدمہ نہیں بلکہ شعائر اسلام کی بے حرمتی اور سینکڑوں معصوم طلبہ و طالبات کے قتل کا ہے،دیدہ و نادیدہ قوتیں پرویزمشرف کو تحفظ دینے کی جتنی بھی کوششیں کرلیں لیکن فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور پرویزمشرف کو شہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا۔طارق اسد ایڈووکیٹ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ میرے علم میں بہت سے اہم مقدمات ایسے ہیں کہ جن میں ججز نے دباؤ یا لالچ کی بنیاد پر ڈیل کیئے،ایسے مقدمات کی تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ مناسب وقت میں منظرعام پر لاؤں گا۔تفصیلات کے مطابق لال مسجد کے نائب خطیب علامہ عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ صاحب خاتون کے مقدمہ قتل کی سماعت آج(بدھ کو)ہوئی۔ایڈیشنل اینڈ سیشن جج پرویزالقادر میمن نے مقدمے کی سماعت کی۔عدالت نے دوہرے قتل کے مقدمے میں نامزد مفرور ملزم پرویزمشرف کے ریڈوارنٹ جاری کرنے کے متعلق 27مارچ کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنا دیا،ایڈیشنل اینڈ سیشن جج پرویزالقادر میمن نے مدعی مقدمہ صاحبزادہ ہارون الرشید غازی کی جانب سے مفرور ملزم پرویزمشرف کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری عمل میں لانے کے متعلق دائر درخواست کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مدعی مقدمہ کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی،عدالت نے اپنے مختصر فیصلہ میں کہا ہے کہ تفتیشی افسر کو یہ اختیار ہے کہ وہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈوارنٹ کے اجراء کے حوالے سے اقدامات کرے۔

عدالت نے پرویزمشرف کی جانب سے اخراج مقدمہ کے لئے دائر درخواست کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیج دی،عدالت نے پرویزمشرف کی جانب سے اخراج مقدمہ کے متعلق درخواست ملزم کے وکیل کی استدعا پر کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیجی ہے،ملزم کے وکیل اختر شاہ نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس عدالت میں اپنی درخواست کی سماعت نہیں چاہتے،لہٰذا درخواست کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو واپس بھیجی جائے۔دوسری طرف ریڈ وارنٹ کے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مدعی مقدمہ کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ’’علامہ عبدالرشید غازی قتل کیس میں مجھے مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف قسم کے لالچ دیئے گئے،میں چونکہ ایک عرصے سے لاپتہ افراد کیس،لال مسجد آپریشن کیس اور دیگر حساس کیسز کی پیروی کررہا ہوں۔

اس لئے میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ مختلف قوتیں پہلے مدعی یا اس کے وکیل کو لالچ دیتی ہیں،ان پر دباؤ ڈالتی ہیں لیکن اگر انہیں اس میں کامیابی حاصل نہ ہو تو وہ جج پر اثرانداز ہوتی ہیں،یہ کیس تو بالکل واضح کیس ہے،اس کیس میں وفاقی وزارت داخلہ نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی موجودگی میں پرویزمشرف کو راتوں رات جہاز میں بیٹھا کر ملک سے فرار کروایا،پرویزمشرف کے ملک سے فرار ہونے کے بعد عدالت نے اسے قانون کے مطابق اشتہاری و مفرور قرار دیا اور اس کے ناقابل ضمانت دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کئے،اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ جاری کئے جائیں تاکہ اسے انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا جاسکے،بلاشبہ اس مقدمے میں سٹیٹ کو خود پرویزمشرف کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لئے اقدامات کرنے چاہیئے تھے لیکن جب سٹیٹ نے کوئی اقدام نہ کیا تو مجبوراََ ہمیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا‘‘۔

عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ’’پرویزمشرف خود اقرار کرچکے ہیں کہ جنرل(ر)راحیل شریف نے عدالت میں زیرسماعت مقدمات کے متعلق ان کی اس وقت مدد کی جب وہ آرمی چیف تھے،وفاقی حکومت نے بھی پرویزمشرف کے ریڈوارنٹ جاری کرنے کے متعلق ہماری درخواست کی مخالفت کی ،پرویزمشرف کے بیان اور وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے پرویزمشرف کے ریڈوارنٹ کی مخالفت کرنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ تمام ادارے بشمول وفاقی حکومت مقدمے میں نامزد ملزم پرویزمشرف کو بچانے کی کوشش کررہی ہے،ایسے حالات میں عدالت کی جانب سے اسی فیصلے کی توقع تھی تاہم ہم آئین و قانون کی بات کرتے ہیں اس لئے ہر قانونی آپشن کو استعمال کرتے ہوئے آخری حدتک جائیں گے‘‘۔

شہداء فاؤنڈیشن کے صدر و مدعی مقدمہ کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ’’علامہ عبدالرشید غازی قتل کیس کوئی ذاتی مقدمہ نہیں بلکہ شعائر اسلام کی بے حرمتی اور سینکڑوں معصوم طلبہ و طالبات کے قتل کا مقدمہ ہے،دیدہ و نادیدہ قوتیں پرویزمشرف کو بچانے کی جتنی بھی کوششیں کرلیں لیکن فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور پرویزمشرف کوشہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا‘‘۔صدر شہداء فاؤنڈیشن و مدعی مقدمہ کے وکیل طارق اسد نے کئی اہم مقدمات میں ججز کی جانب سے دباؤ یا لالچ کی بنیاد پر ڈیل کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’میرے علم میں بہت سے ایسے اہم مقدمات ہیں کہ جن میں ججز نے دباؤ یا لالچ کی بنیاد پر ڈیل کی،ایسے مقدمات کی تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ مناسب وقت میں منظرعام پر لاؤں گا،جب ججز دباؤ یا لالچ کا شکار ہوتے ہوں تو انصاف حاصل کرنے میں بلاشبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘‘۔