Home / کالم / صدر صاحب کا ارشاد

صدر صاحب کا ارشاد

صدرممنون حسین نے کہا ہے کہ مجھے جس شخص پر بدعنوان ہونے کا شبہ ہوتا ہے میں اس کے ساتھ زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا مجھے ایسے شخص سے بدبو اور کراہت ہوتی ہے ایوان صدر میں ان سے ملاقات کیلئے تو ہر ہما شمانہیں جا سکتاغریب آدمی تو وہاں پر تک نہیں مار سکتاصرف ان لوگوں کو انکا قرب مل سکتا ہے جنہیں بعض لوگ اشرافیہ کہہ کرپکارتے ہیں اور بعض بدمعاشیہ‘ ظاہر ہے صدر صاحب کا اشارہ اس طبقے میں ان لوگوں کی طرف ہوگا کہ جو بدعنوان ہیں ویسے اس طبقے میں شامل لوگ توگھر سے اس وقت تک نکلتے ہی نہیں کہ جب تک وہ خوشبودار صابن اور شیمپو سے نہانہ لیں اور اپنی پوشاک پر ہزاروں روپے کی مالیت کا عطر نہ لگا لیں یا اس پر سپرے نہ کر دیں حیرت ہے کہ اتنے اہتمام کے بعد ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے والے کو ان کے جسم سے بدبو آئے ! پرصدر صاحب کے بیان پر یقین نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی ہمیں نظر نہیں آتی ہو سکتا ہے انہوں نے یہ بات محاورتاً کہی ہو ! موت کے بعد تمام جانور بدبو چھوڑتے ہیں پر ماہرین کہتے ہیں کہ موت کے بعد انسانی جسم سے جتنی زیادہ بدبو پھیلتی ہے وہ کسی دوسرے جانور کے جسم سے نہیں پھیلتی تب ہی تویہ شرعی حکم ہے کہ انسان کو موت کے بعد جتنا جلدی ہو دفنا دیا جائے ویسے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض انسانی جسموں سے پسینے کی زیادہ بدبو آتی ہے اور بعض سے کم اور اس کی وجہ مختلف قسم کی خوراک ہے جو انسان کھاتا ہے۔

اسی بدبو کوا نسان مختلف قسم کے عطریات لگا کر دبانے کی کوشش کرتا ہے چنگیز خان جب کسی شہر پر حملہ زن ہوتا تو اسکے لشکر میں لاکھوں فوجی ہوتے جو گھوڑوں پر سوار ہوتے انکے بارے میں مشہور تھا کہ وہ صرف گوشت کھاتے اور مہینوں مہینوں تک نہیں نہاتے وہ لشکر جب شہر سے چند کو س دور ہی ہوتا تو شہر والوں کو ان کے جسموں کی بدبو پہنچ جاتی ہم نے بات کہاں سے شروع کی تھی اور وہ کہاں پہنچ گئی پر صدر صاحب کی اس شکایت کا کیا علاج کیا جائے اس کا ازالہ کیسے ہوسکتا ہے جس مقام پر وہ فائز ہیں وہ اپنے لئے انہوں نے خودہی تو چنا ہے اسے پسند کیا ہے اور پھر اسے قبول کیا ہے ورنہ اگر وہ اس مسند شاہی پر بیٹھنے سے انکار کر دیتے تو کون ان کو زور یا زبردستی سے ایوان صدر کا کرایہ دار بنا سکتا اب جب وہ ایوان اقتدار کے مکین ہو ہی چکے ہیں تو وہاں خوشبوئیں بکھیرنے والے بھی ان سے ملنے آئیں گے اور بدبو دار جسم والے بھی ‘ گمنامی میں زندگی بسر کرنے والے یا گمنامی کی موت مرنے کو ترجیح دینے والے لوگ تو ہمیشہ کم ہی پیدا ہوئے اور ہمیشہ کم پیدا ہوتے رہیں گے صدرصاحب نے یقیناًیہ شعر پڑھا ہوگا

زندگی کا لطف گمنامی میں ہے
کیا ملا ہے آدمی کو نام سے
ژان پال سارترے کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا وہ فرانس کا عظیم فلسفی اور صحافی تھا اس نے کئی کتابیں بھی تصنیف کی تھیں ایک مرتبہ جب شام کے وقت وہ واک کرنے کے بعد گھر میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ اسکا ایک قریبی دوست اسکے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا ہے اور اس نے ٹیلی ویژن بھی آن کیا ہوا ہے سارترے کو دیکھ کر اس نے یکدم اس سے کہا کہ سارترے ابھی ابھی ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ تم کو تمہارے فلاں ناول پر نوبل پرائز دیا جارہا ہے یہ سن کر سارترے کا جو پہلا رد عمل تھا اور اس کے منہ سے جو پہلے الفاظ نکلے وہ کچھ یوں تھے افسوس میں نے گمنامی کی زندگی میں مرنے کا مزہ کھو دیا صدر صاحب کے مندرجہ بالا کلمات سمجھنے والے یقیناًسمجھ گئے ہوں گے کہ ان کا اشارہ کس قسم کے لوگوں کی طرف تھا اور جو نہ سمجھ سکے وہ اناڑی ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں کہ جو اپنے جسموں کی بدبو کو عطریات میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں وہ اگر آج کھل کر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو کل کلاں اگر انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یاداشتوں کو قلم بند کیا تو ہوسکتا ہے ان میں وہ کھل کر یا اشارتاً ان کے نام طشت ازبام کر دیں کہ جنہوں نے بیورو کریسی میں رہ کر یا سیاسی اکھاڑے میں اتر کہ بہتی گنگا میں اشنان کیا ہے ۔