بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / لوڈشیڈنگ ٗذمہ داروں کا تعین؟

لوڈشیڈنگ ٗذمہ داروں کا تعین؟

موسم گرما کے آغاز پر ہی وطن عزیز میں بجلی کا شارٹ فال7ہزار میگاواٹ ریکارڈ کیا جا رہا ہے آبی ذخائر میں مزید کمی بھی نوٹ کی جا رہی ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12سے18گھنٹے روزانہ ہوگیا ہے ترسیل کے سسٹم میں خرابی اور ریکوری نہ ہونے پر بجلی کی بندش علیحدہ ہے وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیاگیا اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کے حکام نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ گرمی کی شدت کے ساتھ ڈیموں میں پانی بھی کم ہوا جبکہ بجلی کی ڈیمانڈ بھی بڑھی ٗوزارت نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی اجلاس میں ذمہ دار عہدیداروں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت بھی کی گئی ٗحکومت بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے اس حد تک اعلانات کر رہی ہے کہ2018ء میں لوڈشیڈنگ کو قصہ پارینہ بنانے کا کہا جا رہا ہے جبکہ2017ء میں حالت یہ ہے کہ خود متعلقہ حکام 18گھنٹے تک بجلی کی بندش کا اعتراف کر رہے ہیں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ موسم گرما اچانک نہیں آتا اس کی شدت کے مہینے بجلی کی ترسیل و تقسیم کے حوالے سے خصوصی انتظامات کے متقاضی تھے جو نہیں کئے گئے اب ایک کے بعد دوسرا جواز پیش کیا جا رہا ہے مقامی سطح پر لوگ بجلی کی بندش پر اپنے اپنے علاقوں میں تقسیم کار کمپنیوں اور ڈویژنل و سب ڈویژنل دفاتر پر غصہ نکالتے ہیں ۔

حالانکہ بد انتظامی اعلیٰ سطح پر ہے جس میں ایک سے زائد ذمہ دار محکمے سٹیک ہولڈرز ہیں ٗ حکومت کی جانب سے توانائی بحران کے خاتمے کے لئے حکومتی اقدامات اور خلوص اپنی جگہ ذمہ دار محکموں کی جانب سے کمزور پلاننگ اور باہمی رابطوں کا فقدان سارے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کے مترادف ہی قرار دیا جاسکتا ہے ہم نے گردشی قرضوں کا حجم بڑھایا ٗ آبی ذخائر پر بقدر ضرورت توجہ مرکوز نہ کی بجلی کی پیداوار کے لئے مطلوبہ گیس سپلائی نہ کی لائن لاسز روکنے کے لئے فول پروف انتظامات نہ کئے گئے ٗلوڈمینجمنٹ کے حوالے سے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا اس سب کا اثر آج عام آدمی پر لوڈشیڈنگ کی صورت پڑ رہا ہے اور وہ ساری ذمہ داری اپنے منتخب نمائندوں پر ڈال رہا ہے ٗمنصوبہ بندی کے ذمہ دار اداروں کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ گرمی کی ابتداء میں درپیش صورتحال کا مؤثر پلاننگ سے مقابلہ نہ کیا گیا تو آگے چل کر معاملات جلسے جلوسوں تک پہنچ جائیں گے جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہوں گے۔

پانامہ کیس کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ کی ضمنی کازلسٹ کے مطابق پانامہ کیس کا محفوظ فیصلہ آج دوپہر 2 بجے سنایا جا رہا ہے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ نے 23 فروری 2017ء کو تمام دلائل اور جواب الجواب مکمل ہونے کے بعد محفوظ کرلیا تھا سپریم کورٹ کی کاز لسٹ پر فیصلے سے متعلق خبر آنے کیساتھ ہی پورے ملک میں لوگ بے چینی کے ساتھ آج دوپہر2بجے کا انتظار کر رہے ہیں سیاسی سطح پر مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں اعلیٰ سطح پر اجلاس بھی ہوتے ہیں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ جو ہویہ سیاسی قیادت کے تدبر کا متقاضی ضرور ہوگا یہ قیادت اپنے فہم فراست کے ساتھ جماعتی نظم و ضبط کی ذمہ دار ہے اس قیادت پر بھاری ذمہ داری وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور عام شہری کے مسائل حل کرنے کی ہے جو خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔