بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ فیصلہ ٗآسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق

پانامہ فیصلہ ٗآسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق

اسلام آباد۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پا نامہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق ہے۔ فیصلے کے بعد حکومت کی اخلاقی ساکھ ختم ہوگئی ہے ۔ دو ججوں نے نوازشریف کو نااہل قرار دینے جبکہ تین نے جے آئی ٹی سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جاناچاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہاہے کہ پا اس کیس کے فیصلے سے ثابت ہو گیاہے کہ حکومت اخلاقی طور پر حق حکمرانی کھو چکی ہے ۔ آج کے فیصلے میں عوام جیت گئے ہیں اور کرپشن ہار گئی ہے ۔

کرپشن کے سوتے موجود ہیں ، ایک زبردست عوامی جدوجہد سے اس کا بھی خاتمہ کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے 1996 ء میں جدوجہد کی اور سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں سب سے پہلا دھرنا دیا ۔ کرپشن ایک بیماری ہے جوکینسر کی طرح بڑھ رہی ہے اس کا علاج ضروری ہے ۔ جب تک کرپشن ختم نہیں ہوتی ، عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور خوشیاں نہیں مل سکتیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جن لوگوں کے نام آف شور کمپنیوں ، قرضہ لینے اور ہڑپ کرنے والوں کی لسٹ میں ہیں اور جن کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے قوم کے ہاتھوں میں قرض کی ہتھکڑیاں ہیں ان سب کا احتساب کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج اس کیس کے فیصلہ سے عوام کو حوصلہ ملاہے کہ وزیراعظم کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں گی ۔ دسمبر 16ء سے فروری 017 ء تک سپریم کورٹ میں چلنے والے کیس کا ثمر عوام کو ضرور ملے گا اور اس جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو ایک کرپشن فری پاکستان ملے گا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے آگے اللہ کی ایک بڑی عدالت ہے اور عوام کی عدالت ہے جہاں حکمرانوں کو ضرور جواب دینا پڑے گا ۔

اس کیس سے عوام کو جو شعورملاہے وہ حکمرانوں کا احتساب ووٹ کے ذریعے کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان کی عوامی تحریک ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں روکی اور ہماری یہ تحریک کرپشن کے خاتمہ اور کرپٹ حکمرانوں کے محاسبہ تک جاری رہے گی ۔ چار ماہ تک کیس لڑ کر ہم نے قوم کی طرف سے اپنا فرض پورا کیا اب ہم اپنے موقف میں سرخرو اور کامیاب ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے فیصلے کی روشنی میں میں ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ جب تک وزیراعظم کے خلاف تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں انصاف کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم اپنے اختیارات استعمال نہ کریں تاکہ ہمارے تحقیقاتی ادارے آزادانہ اور منصفانہ طور پر ساٹھ دنوں میں اپنی تحقیقات مکمل کر سکیں ۔