بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوال یہ ہے کہ پھولوں کو کیوں ہنسی آئی

سوال یہ ہے کہ پھولوں کو کیوں ہنسی آئی


چلئے جی پٹاری کھل گئی اور عدالت عظمیٰ کا محفوظ فیصلہ سامنے آگیاجسکے مطابق وزیر اعظم کے سر پر لٹکتی تلوار ہٹی تونہیں البتہ اسکا زاویہ عارضی طور پر
بدل دیا گیا ہے، یار لوگ خوش ہیں کہ فوری طور پر غیر یقینی صورت حال سے بچ گئے ہیں۔ پانامہ کا ہنگامہ ایک عالم کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے تھا۔کئی زعما خود ہی ایک طرف ہو گئے بس یہاں آکر صورتحال الجھ گئی تھی اور ایسی کہ کئی شب و روز اسکی مالا جپی جاتی رہی پھر انتظار رہا کچھ فراز کے محبوب کے انتظار کی طرح یعنی
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی
یہ انتظارکچھ زیادہ طویل نہیں تھا مگر اس دوران سارے فریق بس ایک بات پر متفق تھے کہ عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ دیگی ہم من و عن قبول کر لیں گے یہ ان فریقوں کے عدالت پر اعتماد کی علامت تھی ۔ سب جانتے تھے کہ یہ کسی بھی صورت ’’ون۔وِن گیم‘‘ نہیں ہے اس لئے فیصلہ کے بعد کی حکمت عملی سارے فریق طے کر چکے تھے مگر اب جو ایک طرح سے ڈراپ سین ہوا ہے اس کا ردعمل خاصا دلچسپ ہے کہ ہر فریق اسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے خیر وہ جو جگرمراد آبادی نے کہا ہے کہ
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اصل میں ساری توقعات اور شرطیں اہل اور نا اہل کے حوالے سے تھیں اسلئے حکمران فریق کی خوشی کی سمجھ آتی ہے دوسرے فریق اس پر خوش ہیں کہ نا اہل نہ سہی مگر انہیں کلین چٹ بھی تو نہیں ملی حالانکہ یہ ایک تفصیلی فیصلہ ہے جسکی مو شگافیاں ہر ایک کے بس کا روگ نہیں قانونی موشگافیوں سے نابلد ہم جیسوں کیلئے تو صفی لکھنوی نے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔
دنیا کا ورق بینشِ ارباب نظر میں
اک تاش کا پتا ہے کف ِ شعبدہ گر میں

میں فیصلہ سننے کے لئے عدالتِ عظمیٰ آنے والے مختلف جماعتوں کے زعما کی طرف دیکھ رہا تھاجو سجے سنورے خراماں خرامان چلے آ رہے تھے کہ اچانک کسی مبصر نے مریم اورنگزیب کے لباس کی طرف متوجہ کیا جو کاسنی( پرپل ) رنگ کا تھا پھر بعض زعما بشمول طلا ل چودھری نے اسی رنگ کی نکٹائیاں بھی لگائی ہوئی تھیں ۔ جسے اعتماد کی نشانی یا علامت قرار دیا جا رہا تھا بس یہیں سے میں پانامہ سے کٹ گیا اور رنگوں کے بارے میں سوچنے لگا کہ کون سا رنگ انسان کی شخصیت پر کیا کیا نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔مجھے کسی انگریزی انشائیہ ریڈ گاؤن کی چند سطریں یاد آئیں جس میں رائٹر بازار سے گزرتے ہوئے ایک سرخ رنگ کا سلیپنگ گاؤن خرید لیتا ہے اور جب ایک رات اسے پہنتا ہے تو خود کومعمول سے زیادہ پرجوش محسوس کرتا ہے پہلے اسے سمجھ نہیں آتی مگر پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تو سرخ رنگ کے سلیپنگ گاؤن کا ہے پھر وہ رنگوں کے انسانی نفسیات پر اثر انداز ہونے کی کہانی چھیڑ دیتا ہے اور واقعی دیکھا جائے تو یہ سب ہم میں سے ہر شخص کیساتھ ہوتا ہے مگر ہماری توجہ ادھر جاتی نہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ مختلف رنگوں سے جو روشنی منعکس ہو کر ہمارے اعصابی نظام اور دماغ پر اثر انداز ہو تی ہے اسی سے ہمارے رویے اور رد عمل میں بھی فرق آتا ہے جو کبھی دل خوش کن ہوتا ہے اور کبھی ہمیں مغموم اور اداس کر دیتا ہے، وہ جو یورپین مفکرین اور شعرا نے فطرت کے مختلف موسموں کے اثرات مزاج پر اثر انداز ہونے کے بارے میں کہا ہے اس میں بھی رنگوں کا عمل دخل ہے ابھی اسی پانامہ میں بعض زعما فیصلہ سے قبل یہی کہہ رہے تھے کہ بلیک اینڈ وائٹ کی بجائے گرے فیصلہ کی امید ہے۔ یہ تین رنگ بھی اپنی ایک الگ سائیکی رکھتے ہیں اور ان میں نارنجی اور سرخی مائل براؤن رنگ بھی شامل کیا جائے تو فیصلہ کے دن بلکہ یوں سمجھئے کہ فیصلہ کے وقت تین چار دن پہلے کے جلتے بلتے سورج کے آگے انہی رنگوں کے بادل ادھر ادھر سے اکٹھے ہو نا شروع ہو گئے تھے یہ بلیک اینڈ وائٹ بھی تھے گرے کلر کے بھی اور قدرے نارنجی بھی تھے اچھا ہے اسے کوئی معانی پہنانے کیلئے فارغ نہ تھا،ورنہ برازیلین ناول نگار پاؤلو کوئیلو کے مقبول ناول ’’ الکیمسٹ ‘‘ کی تھیم کی طرح اسے بھی اپنے حق میں نیچر کی گواہی کا نام دے سکتا تھا۔ جیسے ہمارے ہاں کا ایک روز مرہ یہ بھی ہے کہ جب ہم کوئی بات اپنی صفائی میں پیش کر رہے ہوں اور اچانک اذان سنائی دے تو فوراََ اسے اپنے فیور میں نیچر یا حق کی گواہی قرار دیتے ہیں بادلوں کے رنگ تو خیر محدود وقت کیلئے ہوتے ہیں مگر گھر کے جس کمرے میں ہم رہتے ہیں اسکا رنگ بھی ہمارے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے، بعض لوگ مستقلاََ ایک ہی رنگ کا لباس پہنتے ہیں شاید ان کو اس رنگ سے اعتماد ملتا ہو کیونکہ اگر وہ چینج کیلئے دوسرے رنگ کا لباس پہن لیں تو وہ دن بھر اکھڑے اکھڑے سے اور مضمحل رہتے ہیں رنگا رنگ لباس پہننے والی خواتین عمر کے خاص حصے میں پہنچ کر گہرے رنگ کے سادہ لباس کوتر جیح دینے لگتی ہیں کہ یہ انکو سنجیدگی عطا کردیتا ہے ویسے بھی اگرہمارے ہاں و ہ شوخ لباس پہنیں تو انکو ’’ بوڑھی گھوڑی لال لگام ‘‘ کے طعنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ یورپ امریکہ میں ایسے ٹامی معمر لوگوں کی کمی نہیں بلکہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ انسانی زندگی پر مختلف قسم کے پھول بھی اسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں،رنگوں کا یہ جادو پھولوں کے روپ میں بھی ہمارے اعصاب کو پرسکون یا پھر مشتعل کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے پھر پھولوں کو تو دلی جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ بھی سمجھا گیا ہے ، مجھے یاد ہے کہ اسّی کی دہائی کے اوائل میں جب خانہ فرہنگ ایران پشاور کے ڈائریکٹرآقائے غلام حسین فرگام تھے تو فارسی سیکھنے کی کلاسز لینے میں بھی جایا کرتا تھا ہمارے ٹیچر ایک خوبصورت ایرانی نوجوان تھے جو پشاور یونیورسٹی میں انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم آقائے بیژن کلالی تھے وہ ہمیں ایران کے قصے کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے۔پہلی بار ان سے ہی سنا تھا کہ طہران یونیورسٹی میں پھولوں کو اظہار کا ذریعہ بنایا جاتا ہے جیسے کسی سے نفرت کا اظہار کرنے کیلئے اسے زرد رنگ کا پھول دیا یا بھیجا جاتا ہے اسی طرح کسی کو سرخ گلاب دینے کا مطلب محبت کا پیغام دینا ہے( یہ بات ویلنٹائن کی رسم کے عام ہونے سے سالہا سال پرانی ہے)

بلکہ گل سوسن،نسترن اور چنبیلی اور نہ جانے کن کن پھولوں کے بارے میں وہ بتاتے تھے بلکہ جوہی کی کلی بھیجنے یا دینے کا مطلب بوسہ طلب کرنا تھا یہ کہتے ہوئے اس نے ایک شعر بھی سنایا تھا جو پورا یاد نہیں اسکا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اگر تیری ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے تیرا بوسہ لیا ہے تو کوئی بات نہیں تو یہ لو آؤ اور اپنا بو سہ واپس لے لو۔ محبت کے بھی اپنے سو رنگ ہوتے ہیں اگر پانامہ کا فیصلہ سننے کیلئے جانے والی حکمران جماعت کے ارکان نے کاسنی رنگ علامت کے طور پر پہنا تھا جسے اعتماد کی علامت کہا گیا جبکہ میں جانتا ہوں کہ یہ بیک وقت کئی کیفیات کی علامت بنتا ہے اور ان میں سر فہرست اعصاب کو قابو رکھنا بھی ہے سو اعصابی نظام کی مضبوطی کیلئے اسے ٹھیک برتا گیا تھا اور اسی لئے وہ اسے اپنی جیت بھی قرار دے رہے ہیں۔ کمزور اعصاب والے اس فیصلہ کے مندرجات جان کر کچھ بھی کر سکتے تھے۔ پھر یہ کیفیت احسان دانش کی زبان میں یو ں بھی ہو سکتی تھی
چمن میں گری�ۂ شبنم غلط سہی ، لیکن
سوال یہ ہے کہ پھولوں کو کیوں ہنسی آ ئی