بریکنگ نیوز
Home / کالم / ارشاد احمد صدیقی / شاہ جی دی گلی

شاہ جی دی گلی


’’غبار خاطر‘‘کااولین مکتوب یوں ہے
اے غائب از نظر کہ شدی ہم نشین دل
می بینمت عیاں ودعا می فرستمت
حکایات سے دل لبریز ہے مگر زباں درماندہ
فرصت کو یارائے سخن نہیں
جب ایسی ہی کیفیت طاری ہوجائے توحکایات سے دل خودبخود لبریز ہوجاتاہے، پیام آیا کہ مدت سے غائب ازنظر سہی لیکن دل کے قریب تر ہو اگرچہ یاراے سخن سے تشنہ ہیں،بہرحال ملاقات کا یاراکیاجائے۔

اس بارپھرآغہ جی (ڈاکٹر امجد حسین)نے قدم بڑھایاکیفیات سے دل لبریز ہوکرچھلک پڑا گرو جی (ڈاکٹر ستیہ پال آنند)اور عتیق جان نے ہمیں مسحور کرکے رکھ دیا دنیا کے دوسرے کام ہیچ نظر آنے لگے،رخت دل باندھنے کے اسباب خودبخود قطاردرقطار چوبند جیسے مدت سے منتظر، آغہ جی نے وقت کا تعین کیا، بارات عاشقاں امریکہ کے مختلف شہروں سے عازم منزل ہوئی، ٹھکانہ ’’شاہ جی دی گلی‘‘تھا، جو ٹولیڈو میں بلا رہی تھی، جمعتہ المبارک کی نماز ہم نے آغہ جی کی عظیم الشان مسجد ٹولیڈو میں ادا کی، احباب سے تعارف ہوتا رہا، بہت سے احباب نے ہفتہ کی شام آغا جی کے ملامت کدے پر ستیہ دیا۔ جب ہمارا بے حد مختصر ہوائی جہاز ٹولیڈو کی فضاؤں میں ڈول رہا تھا آغہ جی کا فون آیا کہنے لگے کہاں ہو، ہم نے عرض کیا
جذبہ بے اختیار شوق دیکھاچاہئے
سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
ہنستے مسکراتے چاک وچوبند کرکٹ کے کھلاڑی کی طرح چھریرے بدن والے آغہ جی ائر پوٹ پر موجود تھے، ٹوٹ کر گلے ملے، اگلے دن گروجی اور عتیق جان نے آنا تھا۔ ہم دوبارہ ائرپورٹ پر تھے، گروجی اور عتیق جان کو دیکھ کر نعرہ مستانہ ائر پورٹ پر گونجا
ایک نعرۂ مستانہ ہوجائے کہ شنیدم
ویراں شودآں شہر کے مے خانہ نہ دارد

’’جھپا یارو جھپا‘‘آغہ جی اپنی جانی پہچانی راہوں کے شہ سوارتھے، ادھر ہمارے ذہنوں میں بھانت بھانت کے مضامین کروٹیں لے رہے تھے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
گھر پہنچ کر گروجی کا پہلا سوال یہ تھا‘دھمال کیا؟
آغہ جی نے متانت سے جواب دیا، چند احبا ب کو زحمت دی ہے، کل شام پہلی نشست ادبی ہوگی جس میں آپ سارے حصہ دار ہیں، دوسری
نشست محفل موسیقی ہوگی، دعوت نامے جاچکے ہیں۔سارا دن ہم اپنا کعبہ الگ بناتے رہے عتیق جان جیسے مراقبے سے نمودار ہوئے یوں دیکھنے لگے جیسے اگر ان کے اختیار میں ہو تو سورج کی لگامیں کھینچ کر کائنات جہاں ہے وہیں معلق کردیں اور وقت جیسے ہم ’حال‘کہتے ہیں اور جس کا کوئی وجود نہیں، جو ایک سانس سے بھی کم تر ہے، پھر تاسف سے کہنے لگے
زندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہ

’’برف آگئی‘‘آغہ جی نے پکچر فریم کھڑکی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا برف کا سفید دھمال رقص کناں خراماں خراماں مادرگیتی کے حسن میں اضافہ کررہا تھا
برف گرتی ہے تو یاد آتا ہے
تیرے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں کا لمس
’’قاری‘‘کی آواز کیساتھ اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دروازے پر نمودار ہوا، ڈنر دس منٹ میں تیار ہوجائیگا اس کی آاوز کانوں کے رستے شکم نوازہوئی، قاری قرینے کے فرزند ہیں، گھر بار سنبھالنا خوب آتا ہے اگلے دن ہمارے اعزاز میں محفل ادب ومحفل موسیقی کا اہتمام تھا، شام ڈھلے ہی ہم مہمان ہاتھوں میں ا یک ایک ڈش لئے آنے لگے، ساری ڈش میز پر سجائی گئی، یہ امریکی روایت بن چکی ہے کہ جب آپ کسی کو مدعو کریں تو مہمان ضرور کہے گا ہم ساتھ کیالائیں؟ اس امریکی روایت کو Pot luckکہتے ہیں جو دراصل میزبان کے لئے Good Luckکا درجہ رکھتی ہے
محفل کی ابتداء محترمہ تہمینہ چیمہ نے شمع محفل جلا کر کی، عتیق جان نے پھر۔۔ مضمون ’’وقت ‘‘پر پڑھا ، ہم نے ایک نظم پیش کی اور پھر آغہ جی سے درخواست کی کہ وہ ہمارا افسانہ زردپتوں کا بن پڑھیں کیونکہ ہمارے آنکھیں سرجری کے بعد ساتھ نہیں دے رہی تھیں آغہ جی نے اداکے ساتھ افسانہ پڑھا اور اختتام پر ہماری حیرت کہ حاضرین نے افسانے کو Standing ovationکا اعزاز بخشا۔

اب صاحب صدر جناب ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے مائیکرو فون سنبھالا اور ادب وفلسفے اور گیان کے درواہوگئے
اورپھر ایسا ہوا آنند خالی ہاتھ لوٹا
اور کہا بھگوان اس نگری میں ایسا
گروجی نے آنکھیں بند کرکے کتاب بند کردی مکاں ولامکاں میں گم حاضرین جیسے جاگ اٹھے تالیوں کی گونج نے زندگی کی حرارت کو متحرک کردیا وقفے کا اعلان ہوا حاضرین ٹولیوں میں بٹ گئے کچھ بوفے کی میز کے گرد سے نظر بازی کرنے لگے ایک بے حد سلجھی ہوئی خاتون نے کہا یہ میں بنا کر لائی ہوں، ضرور ٹیسٹ کریں، عتیق جان نے میرے کان میں سرگوشی کی اور ہم گیراج کی طرف چل دیئے، عتیق جان نے تین ایستادہ چارپائیوں کی طرف اشارہ کیا، یہ پشاور سے لائی گئی ہیں، یہ شاہ جی کا کمال ہے پھر بڑھ کر انہوں نے چارپائی کے بان کو احتیاط سے چھوا، پھر جیسے اسے آپ سے مخاطب کیا کہاں ٹولیڈو،’’ کہاں شاہ جی دی گلی اورکہاں پشاوری منجے ‘‘پھر زیر لب گنگنانے لگے
کس چیز کی کمی ہے
شاہ جی تیری گلی میں
محفل موسیقی کے انعقادکا اعلان ہوا، لوگ سست روی سے گریٹ روم کی طرف سرکنے لگے، ہم جاکر گروجی کو ساتھ لے کر آئے، سازندے اپنی اپنی نشست سنبھال چکے تھے، آغہ جی نے محبت کیساتھ وندیتاکو دعوت دی، وندیتا اک ادائے دلربائی سے حاضرین کوپرنام کرتی تشریف لائیں، مائیکرو فون سنبھالا، کمرے میں خود بخود خاموشی اترآئی، سازوں سے دھیمی سربلند ہوئی آوازکا جادو ہم آہنگ ہوا۔ مل جا گلے
وندیتا کی من موہنی آواز ’’مل جاگلے ۔۔۔‘‘نے حاضرین کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ایک کے بعد ایک گانے نے حاضرین کو محسور کئے رکھا، ان کے بعد ڈاکٹر صاحبان نے محفل کو گرمانے کا حصہ لیا جن میں عمران اندرابی سلیم الرحمان، عباس حیدر نے محفل کو گرمائے رکھا لیکن آنکھیں وندیتا کو ڈھونڈرہی تھیں جب وندیتا نے مائیکرو فون سنبھالا تو تالیوں کی گونج نے جیسے محفل کی سج دھج کو چارچارند لگادیئے۔