بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / فاٹااصلاحات میں تاخیرکیوں؟

فاٹااصلاحات میں تاخیرکیوں؟


فاٹا اصلاحاتی پیکج کی کا بینہ سے منظوری کے بعد باڑہ خیبر ایجنسی میں کامیاب سیاسی شو کے ذریعے جماعت اسلامی ملک کی وہ پہلی جماعت بن گئی ہے جس نے فاٹاکے گھٹن زدہ ماحول میں فاٹا اصلاحات کے فی الفور نفاذ کا مطالبہ کر کے دوسری جماعتوں کو بھی اس حوالے سے متحرک ہونے کا راستہ دکھا دیاہے ۔ قبائل پاکستان کی وہ بدقسمت مخلوق ہے جو وطن عزیز کی آزادی کے 70 سال بعدبھی ایف سی آر کی سولی پر لٹکی ہوئی ہے جس کے باعث باجوڑ سے جنوبی وزیرستان تک سات قبائلی ایجنسیاں اور یہاں بسنے والے لاکھوں قبائل آج اس ترقی یافتہ دور میں بھی قرون وسطیٰ کی تصویر پیش کر رہے ہیں پچھلے دنوں ایک بڑے انگریزی معاصر میں خیبر ایجنسی کی ایک ایسی تصویربمع رپورٹ شائع تھی جس میں دکھایااور بتایاگیا تھا کہ خیبر ایجنسی میں آج کے جدید دور میں بھی ایک ایسا علاقہ موجود ہے جہاں کے مکین اکیسویں صدی میں بھی غاروں میں رہنے پر مجبور ہیں حالانکہ یہ تلخ حقیقت صرٖف خیبر ایجنسی کے کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ فاٹا کا چپہ چپہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ قبائل ترقی اور خوشحالی کے اس دور میں بھی باقی دنیا سے کئی صدیاں پیچھے ہیں۔افسوس اور مایوسی کی بات یہ ہے کہ جب ایک ایسی ریاست جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی ہو اور جس کا آئین ملک کے تمام شہریوں کے یکساں حقوق کی بات کرتا ہو اور جہاں قبائل نے ہر کڑے اور مشکل حالات میں وطن عزیز کی سا لمیت اور بقا ء کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہوں لیکن اس کے بدلے میں جب ان کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں دوہرا اور امتیازی سلوک روار کھاجائیگا تو وہاں احساس محرومی اور انتقام کے جذبات کا پروان چڑھنا فطری امرقرارپائیگا ۔

سوال یہ ہے کہ آخر قبائل کو ایف سی آر کے قفس سے آزادی اورانہیں پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق کب اورکیسے ملیں گے۔ اس سوال کے جواب کی تلاش میں ویسے تو قبائل پچھلے سترسال سے سرگرداں ہیں لیکن پچھلے دنوں اس حوالے سے انکی امیدیں اس وقت برآئی تھیں جب سرتاج عزیز کمیٹی نے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کااعلان کیاتھااور وفاقی کابینہ نے خدا خدا کر کے ان اصلاحات کی منظوری دے دی تھی ۔اس موقع پر یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شایداب وہ مرحلہ آگیا ہے جب قبائل بھی بالآخرپاکستا ن کے آزاد اور برابر کے شہری بن جائیں گے لیکن جس انداز اور رفتار سے ان اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسکو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہنوز دلی نہ صرف دور است بلکہ بہت دور است۔

اس بحث کے تناظر میں یہ بات بلاشک وشبہ کہی جاسکتی ہے کہ قبائل کو انکے حقوق دلانے کے لئے اب تک اگر کسی جماعت نے حقیقی معنوں میں کوئی موثر کردار اداکیاہے تو وہ جماعت اسلامی ہے جس نے نہ صرف ماضی بعید میں بلکہ موجودہ حالات میں بھی قبائل کی داد رسی اوران کے حقوق کے لئے سب سے توانا آواز بلند کی ہے۔ گزشتہ دنوں باڑہ میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد بھی دراصل اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اس بات میں کوئی دوآراء نہیں ہیں کہ قبائل کوپچھلے دس سال کے دوران جومعاشی‘ نفسیاتی اورمعاشرتی نقصان پہنچاہے ویسے تو ا سکے ازالے اور ان زخموں کے مندمل ہونے میں کئی دہائیاں لگیں گی لیکن اگر فاٹا کے مجوزہ اصلاحات پرعملدرآمد کاآغاز کردیا جائے تو اس سے قبائل کو کم ازکم یہ احساس توہوگا کہ حکومت اورمتعلقہ ادارے انکے زخموں پرمرہم رکھنے میں کسی نہ کسی حد تک سنجیدہ ہیں لہٰذا اصلاحات کے نفاذ کے عمل کوجتنا جلدی ہوسکے شروع کردینا چاہئے اس میں قبائل کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کابھی بھلا ہوگا۔