Home / کالم / سجاد حیدر / تحریک کیلئے ضروری

تحریک کیلئے ضروری

خود احتسابی بڑی اچھی چیز ہے ۔ مصروفیات ‘مسئلے مسائل اور الجھنوں میں گھرا انسان اگرکچھ وقت کیلئے سب سے الگ تھلگ ہو کر تنہائی اختیار کر لے اور خود احتسابی کی طاقت کو کام میں لا کر غور و فکر کرے تو اس پر اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بہت سے مخفی زاویے آشکار ہوجاتے ہیں وہ غلطیوں اور کو تاہیوں کا ادراک کر سکتا ہے اور صحیح و غلط میں فرق کرکے آئندہ کیلئے بہتر لائن آف ایکشن کا تعین کرنے کے قابل ہو سکتاہے۔کپتان بھی اگر کچھ وقت کیلئے دوستوں‘خیر خواہوں ‘ مشیروں اور ناصحین کی بھیڑ سے الگ ہو کر تنہائی اختیار کرے اور خود احتسابی کی شمع روشن کر کے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان تمام سوالوں پر (جو اسکے سیاسی کردار کے حوالے سے اٹھائے جارہے ہیں )غور کرتے ہوئے انکے جوابات تک پہنچنے کی کوشش کرے تو یہ اس کی ذات اور اسکی جماعت دونوں کے حق میں بہتر ہو گا۔ یہ ا ن عام عوام کی عمومی رائے ہے جو پاکستان تحریک انصاف کو مملکت کی متبادل اور غیر روایتی سیاسی قوت کے طور پر پھلتے پھولتے دیکھنا دیکھنا چاہتے ہیں ان لوگوں کی پی ٹی آئی سے وابستہ توقعات اور امیدوں کی تکمیل اسی صورت ممکن ہے جب تحریک انصاف کی پیش قدمی انکی خواہشات کے مطابق ہو۔ تبدیلی کے نعرے سے پاکستان کی سیاست میں ہلچل پیدا کر نیوالی تحریک انصاف کیلئے سب سے زیادہ ضروری عمل اپنے کردار کو اس نعرے سے ہم آہنگ رکھنا ہے ۔

اسلام آباد دھرنے سے لیکر پانامہ لیکس کیس تک کئی مواقع پر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے روایتی سیاسی رویوں کے مظاہرے تحریک کے خیر خواہوں کو اچھے نہیں لگے۔ متعدد عوامل بشمول بغیر ثبوت الزامات عائد کیا جانا ، سنی سنائی باتوں کا حقائق کے طور پر پیش کیا جانا اور غلط بیانی کی بنیاد پر عوام کو اشتعال دلا کر مخصوص مقاصدحاصل کرنے کی کوششیں جو روایتی سیاسی حربوں کے زمرے میں آتے ہیں پی ٹی آئی کے خیر خواہوں کی دل شکنی کاباعث بنے ہیں انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران متعلقہ کمیشن کے روبرو الزامات کے حق میں ٹھوس و ناقابل تردید ثبوت پیش نہ کر سکنے سے لیکر پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران ججزکے متعدد ریمارکس تک کئی حوالے ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کئی مواقع پر اپنے موقف کو آئین و قانون کی روشنی میں قابل یقین حیثیت دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ادھرتحریک انصاف کے متعدد دیرینہ رہنماؤں کی جانب سے قیادت کے طرز عمل اور اہم پارٹی فیصلوں پر اٹھنے والے اعتراضات بھی ایک ایسی سیاسی جماعت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں جو ملک کے سیاسی نقشے پر اپنے وجود کو غیر روایتی حیثیت میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے گزشتہ پارٹی انتخابات اور دیگر معاملات کے حوالے سے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایک غیر روایتی سیاسی جماعت کے قائد کی حیثیت سے پی ٹی آئی کے سربراہ کوجو اقدامات لینے کی ضرورت تھی وہ نہیں لئے گئے ۔

عمران خان نے اس رپورٹ پر عمل درآمد میں پہلے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تاہم جب اس طرز عمل پر جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا سخت رد عمل پارٹی کی صفوں میں انتشار کا باعث بنتا نظر آیاتو کپتان نے وقت اور حالات کے تقاضو ں کو بھانپتے ہوئے وجیہہ الدین کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں تمام پارٹی عہدے ختم کرکے نئے پارٹی انتخابات کے انعقاد تک عبوری سیٹ اپ قائم کیا۔بعد ازاں نئی پارٹی رکنیت اور اس کی بنیاد پر نئے پارٹی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان تو کیا گیا لیکن جب یہ تاریخ قریب آئی تو پانامہ لیکس کی تحریک کو بنیاد بنا کر پارٹی انتخابات موخر کر دےئے گئے اب جب سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ضمنی اور آئندہ عام انتخابات میں پارٹی نشان حاصل کرنے کیلئے پارٹی انتخابات لازمی ہیں پی ٹی آئی پارٹی انتخابات کے انعقاد کی طرف جاتی نظر آرہی ہے اور توقع ہے کہ پانامہ لیکس کیس کے فیصلہ کے بعد پارٹی انتخابات کا مرحلہ طے ہو جائے گا۔