بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ کیس کا فیصلہ

پانامہ کیس کا فیصلہ


سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیدیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں 547 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں دو ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے جبکہ تین نے تحقیقات کرانے کا کہا۔ 36 سماعتوں کے بعد ہونے والے اس فیصلے پر (ن) لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ سرخرو ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک وزیراعظم مستعفی ہوجائیں۔ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سربراہی میں قائم چھ رکنی جے آئی ٹی 60 روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ دے گی۔ جے آئی ٹی عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر تحقیقات کرے گی۔ پانامہ پیپرز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے ساتھ متعدد ممالک میں اعلیٰ شخصیات نے اپنے عہدے خود ہی چھوڑ دئیے بعض کے خلاف کاروائی ہوئی اور کئی ممالک نے آف شور کمپنیوں سے متعلق اپنے قاعدے قوانین تبدیل کئے۔ وطن عزیز میں سیاسی قیادت نے اس اہم معاملے کو نمٹانے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کا عندیہ دیا اور اس مقصد کیلئے ٹی او آرز بنانے کا کام شروع ہوا تاہم سیاسی قیادت یہ کام سرانجام نہ دے سکی جس کے نتیجے میں بات عدالت پہنچی۔ ماضی میں بہت سارے معاملات جو بظاہر پوائنٹ آف نوریٹرن پر پہنچ گئے تھے سیاسی قیادت نے مذاکرات کی میز پر سلجھا دئیے۔ اب بھی پانامہ پیپرز کے علاوہ بہت سارے امور ایسے ہیں جنہیں مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے ان میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی اور آبی ذخائر میں اضافہ، ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانا، عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا حل اور عام شہریوں کو ریلیف، مالیاتی امور نمٹانا بھی شامل ہیں۔ سیاسی قیادت کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ لوگ تبدیلی کا خوشگوار احساس صرف ریلیف سے پاتے ہیں انہیں صرف اعلانات سے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات سے ریلیف ملے گی جس کے ساتھ ان کا سیاسی قیادت پر اعتماد بڑھے گا۔

قیمتوں میں کمی کیسے آئے گی؟

ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کر دی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کمیٹی قائم نرخنامے جاری کرے گی جبکہ سستے بازار بھی لگائے جائیں گے۔ گراں فروشوں کو جیل بھی بھجوایا جائے گا۔ گرانی اور ملاوٹ کی جڑیں جتنی گہری ہوچکی ہیں ان کے لئے اس طرح سطحی انتظامات کو کسی بھی صورت قابل اطمینان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اول تومارکیٹ کنٹرول کیلئے مجسٹریسی نظام کی بحالی ضروری ہے۔ اگر ایسا ممکن نہیں اور ذمہ دار ادارے اس حوالے سے مختصر قانون سازی سے گریزہی کر رہے ہیں تو پھر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو شہر کے جغرافیے اور آبادی کے حساب سے وسائل دئیے جانے ضروری ہیں ڈسٹرکٹ کا موجودہ ذمہ دار سیٹ اپ چند چھاپے تو مار سکتا ہے مسئلے کے پائیدار حل کیلئے دیگر سرکاری محکموں سے افرادی قوت اور وسائل ایڈمنسٹریشن کو دینا ہوں گے۔ انتظامیہ کو خود تاجر تنظیموں اور بلدیاتی نمائندوں سے بھی مدد لینی چاہیے تاکہ مارکیٹ کو اچھی طرح کور کیاجاسکے۔ انتظامیہ کو قیمتوں کے ساتھ ملاوٹ پر بھی بھرپور نظر رکھنا ہوگی کیونکہ یہ انسانی صحت اور زندگی کے حوالے سے مستقل خطرہ ہے۔