بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخواکاپانی میں 8.7 فیصد حصہ

خیبر پختونخواکاپانی میں 8.7 فیصد حصہ

اسلام آباد۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برا ئے پانی و بجلی کو چیئرمین ارسا نے آ گاہ کیا ہے کہ پانی کی قلت کے باعث سندھ کو پورا پانی فراہم نہیں کیا جا سکا ، سندھ کیلئے دو فیصد پانی کم کرنے سے دس سے بارہ دن کا نقصان ہوتا ہے کیوں کہ سندھ تک پانی پہنچنے میں اتنے دن لگتے ہیں ہیں، پہلے ہی بتادیا تھا کہ 18 فیصد پانی کم رہے گا ،جب پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو سندھ کو پانی مزید تاخیر سے ملتاہے، اعداد وشمار کے مطابق سندھ اور پنجاب کو 19 فیصد پانی کی قلت کی سامنا رہا ہے ، سندھ کا 48 ملین فٹ پانی کا کوٹہ ہے ،19 فیصد قلت کے باعث 35 ملین ایکٹر فٹ پانی سندھ کو دیا گیا۔

، نہروں میں پانی کی گنجائش 137 ملین کیوسک فٹ ہے جبکہ معمول کے مطابق 102 ملین کیوسک فٹ پانی چھوڑا جاتا ہے،خیبر پختونخواہ کا معاہدے کے تحت 8.7 فیصد حصہ ہے اور 5.76 مل رہا ہے باقی پانی واپس سسٹم میں جارہا ہے کسی کو پتہ نہیں کون استعمال کر رہا ہے، مئی سے صوبوں کو زیادہ پانی دیا جائے گا، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھائیں گے لیکن ابھی کوئی لائحہ عمل نہیں۔ جمعہ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کے چیئرمین کمیٹی سینیٹرسردار محمدیعقوب خان ناصر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی تقسیم پر صوبوں کو شکایا ت رہتی ہیں۔ کیوں اس طرح ہوتا ہے ، تکنیکی طور پر ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ نہ کسی کا نقصان اور نہ ہی ذیادتی۔فصلوں کی کاشت کے دونوں موسموں میں پانی کم ملتا ہے پچھلے موسم میں بھی پنجاب اور سندھ دونوں کوکم پانی ملا ، مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جائے وجوہات پر بھی توجہ دی جائے۔ نہروں کا نظام خراب ہے اور پانی زیادہ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی نہیں پٹ فیڈر نہر کی بھی پانی لے جانے کی صلاحیت کم ہے بلوچستان کے نہری نظام کا ڈھانچہ نہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ صوبہ سندھ کی 22 لاکھ ایکٹر زمین سمندر برْد ہو گئی ہے۔صوبہ سندھ کے نصف علاقے میں خریف کی فصل کاشت نہیں کی جا سکی۔ جب سندھ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت سندھ کو پانی کیوں نہیں ملتا۔ کپاس کی کاشت سے کمی کی وجہ سے پیداواری کپاس گانٹھوں میں کئی لاکھ کمی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے پانی ذخائر کے آپریشنل سسٹم پیمانے طے نہیں۔

کب ذخائر بھرے اور کب خالی ہوئے۔ معاہدے کے تحت آبپاشی کی ضروریات کو ترجیح بنانے کی بجائے پانی سے بجلی پیداوار بڑھانے کی کوشش میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے آبپاشی کے لیے ذخائر میں پانی نہیں ہوتا۔صوبہ سندھ کے ایریگیشن محکمہ سے حاصل کی گئی رپورٹ کے تحت سندھ کے حصے میں مارچ کے آخری 10دنوں میں 49فیصد ، اپریل میں 52فیصد سے 35فیصد تک کی کمی کی گئی۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ جب اکتوبر میں پتہ چل گیا پانی کی قلت ہے تو ارسا نے کیا اقدامات اٹھائے ، انہوں نے کہا کہ پانی کی سطح اوپر لائی جائے ریچارج نظام شروع کیا جائے سافٹ ویئر بنا کر صوبوں کو رسائی دی جائے۔ سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ پی ایس ڈی پی منصوبہ جات کی وہاں زیادہ ضرورت ہے جہاں پانی کی کمی ہے۔ سینیٹر نثار محمد کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخواہ کا معاہدے کے تحت 8.7 فیصد حصہ ہے اور 5.76 مل رہا ہے باقی پانی واپس سسٹم میں جارہا ہے کسی کو پتہ نہیں کون استعمال کر رہا ہے۔

سینیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کا اضافی پانی صوبہ سندھ خریدے جس کے عوض وفاق صوبہ بلوچستان میں پانی کی ذخائر تعمیر کرائے۔ سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ کب سے صوبہ بلوچستان اورخیبر پختونخوا کو پانی کا معاہدے کے تحت حصہ نہیں پہنچ رہا ،پانی کی تقسیم کی ذمہ داری وفاق کی ہے۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ معاہدے میں واضح لکھا ہے کہ پانی کی کمی پنجاب اور سندھ برداشت کریں گے ، جب پانی ہی موجود نہیں تو حصہ فراہم نہیں کیا جارہا۔چیئرمین ارسا نے کہا کہ دو دسمبر کو صوبوں کو بتا دیا تھا کہ پانی 20 دن کم ملے گا۔ جس پر صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے کہا کہ خریف کی فصل کاشت کرنے دی جائے۔ مئی سے صوبوں کو زیادہ پانی دیا جائے گا۔ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھائیں گے لیکن ابھی کئی لائحہ عمل نہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز تاج حیدر ، نثار محمد ، داؤد خان اچکزئی ، سراج الحق ، نعمان وزیر خٹک ، سعید الحسن مندوخیل ، محسن خان لغاری ، غوث محمد نیازی، محمد ظفراللہ ڈھانڈلہ کے علاوہ سیکرٹری وزارت پانی و بجلی نسیم کھوکھر، چیئرمین ارسا مظہر علی شاہ کے علاوہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔