بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / ملازمت ،فرائض اورحقوق

ملازمت ،فرائض اورحقوق


فیس بک کے شیدائیوں کو گزشتہ چند دن سے ایک ویڈیو کلپ سے گویا ایک نعمت غیر مترقبہ ملی ہے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ائرپورٹ کی سکیورٹی کی ایک اہلکار ایک مسافر کی تواضع مکّوں اور تھپڑوں سے کررہی ہے یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوگئی ہے کہ کوئی ہی شخص ایسا ہوگا جس نے تجسس کی خاطر ہی سہی اس کو دیکھا نہ ہو۔ اگلے دن ائرپورٹ کی سکیورٹی کا رد عمل اس صورت میں سامنے آیا کہ اس سکیورٹی افسر کو فی الفور معطل کردیا گیا جس کو ہر اُس شخص کی حمایت شامل ہے جس نے یہ ویڈیو خود دیکھی ہے۔ میں بھی اس سکیورٹی افسر پر لعنت بھیجنے والا تھا کہ اتفاق سے اس واقعے کی دوسری ویڈیو کلِپ سامنے آگئیں۔ یہ نئی ویڈیو کئی عام مسافروں نے بنائی ہے اور اس سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ دراصل وہ خاتون مسافرنہایت بداخلاقی سے سٹاف کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ موصوفہ کسی بیرونی ملک سے اس ہوائی اڈے پر اتری تھیں انہوں نے نہ صرف خاتون سٹاف کی بے عزتی کی بلکہ مرد سٹاف کے ہاتھ سے بھی واکی ٹاکی چھیننے کی کوشش کی۔ ہمارے چند ایک پاکستانی جو دوسرے ممالک کے پاسپورٹ رکھتے ہیں انکا رویہ سٹاف کیساتھ بالعموم نہایت سخت ہوتا ہے انکا رویہ دوسرے مسافروں سے بھی ہتک کا ہوتا ہے‘ اس قسم کے لوگ ملک کی ہر چیز پر تنقید اپنا حق سمجھتے ہیں کبھی سامان کے باہر آنے میں دیر ہوجائے تو قیامت آجاتی ہے حالانکہ ان بدتمیز لوگوں کی اکثریت معمولی کام کرنیوالوں کی ہوتی ہے‘ انکی پہچان بھی آسان ہے ۔ سخت گرمی میں بھی تھری پیس سوٹ پہنے ہوں گے اور شوخ رنگ کی ٹائی لگائی ہوگی۔

خواتین کے ہاتھ میں برینڈڈ پرس ہوگا اور بالوں میں کسی اچھے برانڈ کی سن گلاسز ٹھونکی ہوں گی ان کو شاید اپنے رہائش کے ملک میں مہذب لوگوں کی صحبت ملی نہ ہو۔
خیر مجھے انکی لباس یا گفتگو سے کچھ لینا دینا نہیں مجھے اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ بلا تحقیق ایک ملازم کو معطل کرکے رسوا کردیا گیا جس طریقے سے ایک سرکاری ملازم کو محض اس بات پر سزا دی گئی ہو کہ اس نے مسافروں کو قطار میں رہنے کا کہا ہویا سامان چیک کرنیکا فرض ادا کرنیکی کوشش کی ہو یا پاسپورٹ ، ویزے کے مندرجات کی تفصیل معلوم کرنا چاہی ہو۔ اب اس بے عزتی کے بعد کیا وہ کسی مسافر کے کاغذات کی تصدیق کرنیکی کوشش کریگا ایک ماڈل گرل کو غیر ملکی کرنسی کیساتھ پکڑنے پر اس دیانت دار افسر کو کیا انعام ملا۔ موت ہی اسکی قسمت میں لکھی ہوئی تھی۔ہم اگر ایک طرف اپنے سرکاری ملازمین کی بد اخلاقی کی شکایت کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں دیانتدار ی سے اپنا فرض پورا کرنے دیتے ہیں کیا؟ہر سرکاری ملازم حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے اسکی بے عزتی حکومت وقت کی بے عزتی شمارکی جاتی ہے آپ نے دیکھا ہوگا کہ امریکہ میں پچھلے چند ماہ میں پولیس کی طرف سے سیاہ فام شہریوں پر تشدد کے الزامات لگے لیکن بغیر تحقیق کے کسی سفید فام پولیس کو نوکری سے معطل نہیں کیا گیاتاہم ہمارے ہاں سرکاری ملازم کو ملزم سمجھا جاتا ہے خدا کسی کو سیاستدان یا امیر نہ بنائے ائر پورٹ ہو یا کوئی دفتر ، ہر دوسرا شخص یہ کہتا ہوا ملتا ہے کہ ’تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟‘ اب آپ ہی بتائیے کہ اسکا جواب کیا ہو۔ میرے بس میں ہو تو بتاؤں کہ جی ہاں ہمیں معلوم ہیں کہ آپ مٹی کے بنے ہوئے انسان ہیں لیکن حرکات سے بندر زیادہ لگتے ہیں۔کسی ادارے کے ملازم کو اگر معلوم ہو کہ صحیح ڈیوٹی دینے پر اسکی عزت داؤ پر لگ جائے گی تو کیا وہ کبھی اپنے فرائض صحیح طور پر ادا کرنے کے بارے میں سوچے گا ؟

سر رچرڈ برینسن برطانیہ کا ارب پتی ہے اور اسکی کمپنیاں بے شمار ہیں۔ موبائل فون سے لیکر ٹی وی کے چینلوں تک اسکا کاروبار پھیلا ہوا ہے اب تو اس نے ایک خلائی جہاز کی تعمیر شروع کی ہے اور عوام کو پہلی مرتبہ خلاء کا سفر آفر کررہا ہے۔ ان سے جب کسی نے کاروبار کی کامیابی کا راز پوچھا تو بولے کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی کا راز اسکے ملازمین میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اسلئے میں اپنے ملازمین کی قدر کرتا ہوں‘انکی عزت کرتا ہوں ‘ان کی ضروریات پوری کرتا ہوں اسلئے وہ میرے کسٹمرز کا خیال رکھتے ہیں اس وقت دنیا میں محنتی اور قابل کارکنوں کی سخت کمی ہے اس لئے ہر کمپنی اپنے ملازمین کو اپنا اثاثہ سمجھتی ہے، ان کا پورا پورا خیال رکھتی ہے۔بین الاقوامی طور پر اب ہر کمپنی نے اپنے ملازمین کی حفاظت کا خیال رکھنا شروع کیا ہے۔ پاکستان میں بھی میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے کاؤنٹر پر نمایاں ہدایات آویزاں ہیں کہ ان کے ملازمین کی بے عزتی ہر گز نہیں برداشت کی جائیگی اور ملازموں کیساتھ بدسلوکی پر پولیس کو بلایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ میک ڈونلڈ پوری دنیا میں ملازمین کیلئے کم ترین تنخواہوں کیلئے بدنام ہے۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ پولیس کسی شہری کو مار رہی ہے یا کوئی دوسرا ادارہ کسی کسٹمر سے بد اخلاقی سے پیش آرہا ہے تو اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ادارے میں ملازمین کو نہ تو کسٹمر کئیر کی تربیت دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی ملازم کو اسکی ملازمت کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں۔ مہذب ملکوں میں ہر ملازم کو، خواہ وہ سرکاری محکمے میں ہو یا پرائیویٹ ادارے میں۔ ملازمت شروع کرنے سے قبل ہی اسکے تمام اختیارات اور فرائض اچھی طرح سے سمجھائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی بداخلاق کسٹمر کا سامنا ہو جاتا ہے۔ تو ان مواقع کیلئے بھی ہر کمپنی کی اپنی پالیسی ہوتی ہے اور انتظامات میں کسٹمر کو خوش اخلاقی سے ایک طرف لے جاکر اسکی شکایت رفع کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔ہمارے اکثر سرکاری محکموں میں ان ملازمین کی تعداد کم ہوتی ہے جن کا واسطہ براہِ راست عوام سے پڑتا ہے اور اسی لئے وہاں نہ صرف رش بن جاتا ہے بلکہ بات تلخی تک پہنچ جاتی ہے ان محکموں میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرونی انتظام کے تحت عوام کے سامنے رہنے والے افراد میں نہ صرف اضافہ کیا جائے بلکہ کسٹمر سروس کی تربیت بھی دی جائے۔اینگر مینجمنٹ ایک الگ شعبہ ہے جس میں ملازمین کو بداخلاق سائلین کے ساتھ نمٹنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔خود کار نمبروں کے ذریعے سے قطار میں بے نمبری سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ وہیں عوام میں بھی انتظار اور ڈسپلن کا احساس پیدا کرنا چاہئے جس کیلئے دفاتر کے باہر نوٹس‘ دوسرے میڈیا پر طریقہ کار کو مشتہر کرنا شامل ہیں۔عوام میں تعلیم اور شعور کے آنے سے رفتہ رفتہ سفارشی لوگوں کو اپنی خودسری سے دستبرار ہونا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ ہفتے ایک سابق چیف جسٹس اور اسکے بیٹے کو ایک ائرپورٹ پر قطار توڑنے پر آگے نہیں جانے دیا گیا۔