بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آف شور کمپنیوں کا شوراور عوامی مسائل

آف شور کمپنیوں کا شوراور عوامی مسائل

گزشتہ سال اپریل سے آف شور کمپنیوں کا اٹھنے والا شور اس سال اپریل میں بھی ہے ‘ عدالت عظمیٰ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد وزارت داخلہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے گی اس مقصد کیلئے عدالتی فیصلے کی نقل ملنے پر متعلقہ اداروں سے نام مانگے جائیں گے جس کے بعد جے آئی ٹی کا اعلامیہ جاری ہو گا‘ وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل ہو گا ‘ عدالتی فیصلہ کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ ملنے پر حتمی فیصلے کیلئے نیا بنچ بنے گا آف شور کمپنیوں کا گزشتہ ایک سال سے اٹھا شور ابھی جے آئی ٹی کی تشکیل سے کام کی تکمیل تک ایک مرحلہ ہو گا جبکہ اسکے بعدنیابنچ بنے گا گزشتہ روز عدالتی فیصلہ آنے کیساتھ سیاسی بیانات میں گرما گرمی نوٹ کی گئی ‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوا ز شریف حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔

اس لئے اب مستعفی ہو جائیں‘ عمران خان کا کہنا ہے کہ ماتحت ادارے تحقیقات نہیں کر سکتے وزیراعظم اگر کلیئر ہوتے ہیں تو دوبارہ آ جائیں‘ سیاسی بیانات میں گرما گرمی کا سلسلہ ابھی مزید وقت کیلئے جاری رہے گا دوسری جانب سیاسی قیادت کیلئے ضروری یہ بھی ہے کہ وہ آنیوالے انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کرے ان تیاریوں میں سرفہرست اپنے منشور‘ پروگرام اور ترجیحات کے مطابق عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار جماعتوں کو یہ بات مد نظررکھنا ہو گی کہ اب عوام میں جانے سے قبل عوامی مسائل حل کرنا ہوں گے اس مقصد کیلئے ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ جس میں عام شہری فوراً ریلیف پائے جہاں تک آف شور کمپنیوں کے شور کا تعلق ہے تو عام شہری پر امید ہے کہ بالآخر دودھ کا دودھ او ر پانی کا پانی ہو جائے گا تاہم وہ اس بات پر متفکر ہے کہ آف شور کے شور میں اس کے اپنے مسائل دب کر نہ رہ جائیں اس عام شہری کی اس تشویش کو دور کرنا ضروری ہے کیونکہ سیاسی قیادت کو اس شہری کے سامنے جواب دہ ہونا ہے ۔

مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

پشاور کی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اورنمک منڈی کے تاجروں کے درمیان مذاکرات کا میاب ہو گئے ہیں جس کے ساتھ بازار میں فو ڈ سٹریٹ کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے اس منصوبے پر 3 کروڑروپے لاگت آئے گی جس میں موجودہ دکانداروں کو ہی نئی دکانیں الاٹ کی جائیں گی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ معاملات کے سلجھانے میں مذاکرات ہی سب سے بہتر اورمحفوظ راستہ ہیں ان مذاکرات کا دائرہ مزید وسیع کرکے متعدد امور نمٹائے جا سکتے ہیں اس وقت توانائی بحران میں بجلی کی بچت‘ تجاوزات کیساتھ تہہ بازاری کے خاتمے ‘ گرانی کے کنٹرول اور ملاوٹ کی روک تھا م کیلئے کنکریٹ اقدامات کی ضرورت موجود ہے ۔

انتظامی مشینری اس کیلئے حرکت میں آئے تواسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر تاجر تنظیموں کیساتھ مذاکرات اور ان کے تعاون سے آگے بڑھا جائے تو ثمر آور نتائج کا حصول ممکن ہے ۔ سرکاری مشینری کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا ہی اس وقت جانا چاہئے جب مذاکرات سے بات نہ بن پائے اس میں کسی کو احتجاج کا حق نہیں رہے گا صوبائی دارالحکومت کی حالت اورگرانی و ملاوٹ کی صورتحال فوری اقدامات کی متقاضی ہے ان میں سرفہرست تاجروں کے اپنے نمائندوں کیساتھ بات چیت کو رکھا جائے۔