بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / لاہور ہائیکورٹ بار بھی نواز شریف کیخلاف بول پڑا

لاہور ہائیکورٹ بار بھی نواز شریف کیخلاف بول پڑا

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وکلاء تحریک چلانے کی دھمکی دے ڈالی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ذوالفقار چوہدری، نائب صدر راشد لودھی، سیکرٹری عامر سعید راں اور فنانس سیکرٹری ظہیر بٹ نے اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے ایک ہفتے میں استعفی نہ دیا تو عدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ واحد فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ کے پانچوں ججز اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔

ذوالفقار چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘پاناما لیکس کے معاملے پر دنیا بھر سے استعفے آئے، مگر وزیراعظم نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا’۔

انھوں نے کہا کہ ‘استعفیٰ کا مطالبہ جائز ہے کیوں کہ ماتحت افسران وزیراعظم کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات نہیں کر سکتے’۔

بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ وکلاء کے ملک گیر کنونشن کے علاوہ آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار کے نائب صدر راشد لودھی نے کہا کہ پہلی مرتبہ کرپشن سپریم کورٹ کا موضوع بنا اور منی ٹریل پر سپریم کورٹ نے سنجیدہ سوالات اٹھائے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کا موقف مسترد کر دیا ہے، لہذا اب وہ اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری عامر سعید راں کا کہنا تھا کہ 20 اپریل کے فیصلے نے وزیراعظم کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے اور فیصلے میں دو ججز نے واضح کردیا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔

انھوں نے کہا کہ فیصلے سے قبل عدلیہ کو دھمکانے کے لیے بینرز لگائے گئے، یہ اقدام قابل مذمت ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے حکمرانوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنے ماتحت افسران کے سامنے پیش ہونے سے قبل ہی استعفی دے دیں۔

وکلاء عہدیداروں نے واضح کیا کہ بار نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور وکلاء اب بھی جذبے اور لگن سے سرشار ہو کر اپنا پیٹ کاٹ کر کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی کے بغیر تحریک چلائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا جسے رواں سال 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم رہی، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔

فیصلے کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاناما کیس کے معاملے پر عدالتی فیصلے کو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے ‘فتح’ قرار دیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔