بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مدر بم حملے میں’’ را‘‘ اہلکاروں کی ہلاکت کا انکشاف

مدر بم حملے میں’’ را‘‘ اہلکاروں کی ہلاکت کا انکشاف

کابل۔ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی نان نیوکلیئربم حملے میں 15بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے چند افراد کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را”سے تھا اور وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی نان نیوکلیئربم حملے میں 15بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ننگرہار میں ہلاک ہونے والے بھارتی شہری پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اورہلاک افراد میں چند کاتعلق بھارتی خفیہ ایجنسی “را”سے تھا۔ ذرائع کے مطابق ’’را‘‘اہلکارافغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کیساتھ مل کرکام کررہے تھے۔

واضح رہے کہ13اپریل کو امریکی افواج نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش کے ٹھکانے پر اپنے ذخیرے کا سب سے بڑا غیر جوہری بم جی بی یو 43 گرایا تھا ۔ پنٹا گون حکام نے بتایا تھا کہ پاکستانی سرحد سے ملحق ننگرہار کے علاقے میں داعش کی سرنگوں اور غار کو توڑنے کیلئے گرایا جانے والے بم کا نام جی بی یو۔ 43 ہے جسے بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ غیر جوہری سب سے بڑا بم ہے جسے امریکہ نے کسی جنگ میں پہلی مرتبہ استعمال کیا ہے وائٹ ہاؤ س کے پریس سیکرٹری سین سپائر نے معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ بم افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام سات بجے گرایا گیا۔ یہ ایک بڑا، طاقتور اور انتہائی درست نشانہ لگانے والا ہتھیار ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ملحق سرحد کے قریب غاروں میں سرنگیں کھود کر دہشت گردوں نے خفیہ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں جنہیں وہ افغانستان کے علاوہ پاکستان پر حملوں کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔افغانستان میں امریکی فورسزنے ایک بیان میں کہاہے کہ صوبہ ننگرہارمیں GBU-43/Bمیسوآرڈیننس ائیربلاسٹ بم ضلع آشن میں ایک ٹنل کمپلیکس پرگرایاگیا،بم 9800کلوگرام وزنی ہے ۔

امریکی اور افغان حکام نے بم حملے میں 90سے 95دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی جبکہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ ننگر ہار کے ضلع اچین کے علاقے مہنددرہ پر امریکہ کی جانب سے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم گرائے جانے کے ایک ہفتہ بعد داعش کے تباہ ہونے والے مرکز کے ملبے سے 13 بھارتی باشندوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کا تعلق کیرالہ سے ہے اور وہ ہندو ہیں۔یہ افراد بھارتی سکیورٹی فورس کے اہلکار تھے، جو پاکستان کے خلاف سازشوں اور داعش کارندوں کو تربیت دینے کیلئے اس مرکز میں آئے تھے۔ افغان حکام نے ان لاشوں کو کابل منتقل کرنے کے بعد بھارتی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے لیکن بھارتی سفارتخانے نے تاحال لاشوں کو وصول کرنے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔