بریکنگ نیوز
Home / کالم / پوسٹ پانامہ فیصلہ : وزیر اعظم کی مشکلات!

پوسٹ پانامہ فیصلہ : وزیر اعظم کی مشکلات!


سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونیوالے ایک طویل لیکن مختصر فیصلے کی وجہ سے مسلم لیگ (نواز) کی قیادت کرنے والے پاکستان کے وزیر اعظم کی وزارت عظمیٰ اگر بچ گئی ہو اور بظاہر ایسا لگ رہا ہو کہ وہ نااہل قرار پا کر وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہونے سے بچ گئے ہوں مگر ان کی مشکل ابھی ٹلی نہیں۔ پانچ رکنی بنچ کے اختلافی فیصلے نے انہیں یا انکے اہل خانہ کو الزامات سے یقینی طور پر بری نہیں کیا ہے۔ شریف خاندان کو ابھی آف شور کمپنیوں میں منی ٹریل اور لندن میں جائیداد کے حوالے سے مزید تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا اگرچہ وزیر اعظم (تھوڑے سے ہی فرق سے) نااہلی سے بچ گئے ہیں لیکن تیسری بار برسر اقتدار آنے والے وزیر اعظم اس تاریخی فیصلے کے بعد سیاسی کمزوری کا شکار ضرور ہوئے ہوں گے۔ ان کے حامیوں کی جانب سے اپنی فتح قرار دینا قبل از وقت ہے۔ نواز شریف کے مقدمات اور مشکلات کو ختم ہونے میں ابھی کافی دیر ہے۔ ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی) کرے گی۔ کمیٹی کو اپنی تحقیقات ساٹھ دنوں (دو ماہ) میں مکمل کر کے جمع کروانے کو کہا گیا ہے ہم پاناما گیٹ کی تاریخ ساز کہانی کا دوسرا حصہ ملاحظہ کر رہے ہیں جس نے ملک کی تمام توجہ اپنے طرف مرکوز کر رکھی ہے۔ پانچ میں سے دو جج صاحبان کی جانب سے نوازشریف کو نااہل قرار دینے کے مطالبہ اسے وزیر اعظم پر بڑی حد تک ایک تنقیدی حکم نامہ بنا دیتا ہے۔ باقی تین جج اس انتہائی قدم پر متفق بھلے نہ ہوں مگر جج صاحبان اِس بات پر متفق ہیں کہ شریف خاندان لندن میں مہنگی جائیدادیں خریدنے کے لئے مالی وسائل کے ذرائع کے حوالے سے ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے لہٰذا مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ دلچسپ طور پر‘ دو اختلافی نوٹ لکھنے والے جج صاحبان سینئر ترین ہیں اور ان میں سے ایک تو چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی پانے والے ججوں کی صف میں شامل ہیں۔

اگرچہ بڑی حد تک اختلافی فیصلے کی توقع تھی مگر اس فیصلے نے‘ حزب اختلاف کی جماعتوں کو مایوس کرتے ہوئے‘ معاملے کو سیاسی غیر یقینی کے ساتھ بے نتیجہ بھی چھوڑ دیا ہے انوکھی بات یہ ہے کہ پانچ سو چالیس صفحات پر مشتمل فیصلے کی شروعات ماریہ پوزو کے سحر انگیز ناول دی گاڈ فادر کے لفظوں کے ساتھ ہوتی ہے ’ہر بڑی خوش قسمتی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘ یہ لفظ حقیقت میں انیسویں صدی کے فرانسیسی لکھاری بالزاک سے منسلک ہیں۔ ان لفظوں کا استعمال خود‘ خاص طور پر سکینڈل کے سیاق و سباق میں کافی کچھ منکشف کرتا ہے پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوگا جب ایک موجودہ وزیراعظم‘ مالی جرائم کے الزامات پر تحقیقات کرنے والی ایک تحقیقاتی ٹیم کے آگے پیش ہونگے‘یہاں ایک بہت ہی ایک اہم سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آیا تحقیقات کے دوران انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنا چاہئے یا نہیں؟ یہاں اخلاقیات کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ بلاشبہ ملک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جب ایک سیاسی رہنما رضامندانہ طور پر اقتدار سے دستبردار ہوا ہو مگر چونکہ وزیراعظم اخلاقی اختیارات کیساتھ مالی سکینڈل پر تحقیقات کاسامنا کریں گے لہٰذا ان کا عہدہ یقیناًشکوک و شبہات کا سبب ہے۔ اگرچہ بے نتیجہ حکم نامے نے نواز شریف کے روایتی حریف‘ تحریک انصاف کو ان پر دباؤ قائم کرنے کے لئے زبردست مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے حکم نامے کو اپنی اخلاقی اور سیاسی فتح قرار دینے پر کوئی حیرانی نہیں ہے۔ فیصلے پر پیپلز پارٹی کا رد عمل مبہم ہے۔ آصف علی زرداری نے فیصلے کو وزیر اعظم کو دی گئی ’لائف لائن‘ قرار دیا۔ اگرچہ وہ نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کر چکے ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ آیا ان کی جماعت حکومت مخالف تحریک میں تحریک انصاف کا ساتھ دے گی یا نہیں یہ ممکن ہے کہ نواز شریف چوتھی بار حکومت میں آنے کی کوشش نہ کریں اور اپنے بجائے اپنی بیٹی مریم نواز کو بطور اگلا رہنما سامنے لے کر آئیں۔ حکم نامے میں مسلم لیگ نواز کے لئے ایک مثبت نکتہ یہ ہے کہ پاناما معاملے سے مریم نواز بَری ہو چکی ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے لئے اب فکر کا باعث نہیں۔ ’’دختر اوّل‘‘ کافی عرصہ پہلے سے ہی بظاہر ان کی سیاسی وارث منظر عام پر نظر آ رہی ہیں۔ لگ بھگ وہ ہی پارٹی کو چلاتی آ رہی تھیں اور گزشتہ سال اپنے والد کی غیر موجودگی میں اہم حکومتی فیصلوں میں بھی شامل رہیں۔ پارٹی بھی یہ اعلان کر چکی ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بھی وہ حصہ لیں گی مگر یوں خاندانی اختلافات میں بھی شدت پیدا ہو سکتی ہے۔

سیاسی وراثت کی صف میں کھڑے طاقتور چچا کی موجودگی کے باوجود سیاسی وراثت کی انہیں منتقلی آسان نہیں ہو گی۔ چاروں اطراف سے گھرے ہوئے وزیر اعظم کے سر پر نااہلی کی تلوار کا سایہ اب بھی موجود ہے۔ خود کو بچانے کی ایک گھمسان کا معرکہ ابھی ہونا باقی ہے جس پر صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زاہد حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)