بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی گرما گرمی

سیاسی گرما گرمی


پانامہ پیپرز سے متعلق عدالتی تاریخ کے ایک بڑے کیس کا فیصلہ آنے کے ساتھ وطن عزیز میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے، سیاسی گرما گرمی کی ایک جھلک پارلیمنٹ میں نظر آئی ہے جہاں قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیاگیا ہے، متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ خود وزیراعظم کے ماتحت جے آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 28اپریل کو جلسے کا اعلان کردیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عین اسی روز سینٹ کے اجلاس میں بھی شدید ہلڑبازی ہوئی ہے، دوسری جانب وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے ایک اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تحفظات کے باوجود تسلیم کرنے کا اعلان کیاگیا ہے، اجلاس میں طے پایا ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی سے تعاون کرتے ہوئے 13سوالوں کے جواب دیں گے، دریں اثناء سندھ اسمبلی میں وزیراعظم کے استعفے کی قرارداد منظورہوگئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی ایسی ہی قرارداد لائی جارہی ہے، سیاسی گرماگرمی میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے نہیں بلکہ بڑے گھر جائیں گے، دوسری جانب وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان آصف علی زرداری کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سابق صدر مملکت کا ایمانداری پر لیکچر قیامت کی نشانی ہے، ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایاجائے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے کیس کو آگے بڑھایا ہے اور عدالت عظمیٰ نے 13سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب جے آئی ٹی60روز چھان بین کرکے دے گی، اس مرحلے پر سیاسی گرماگرمی میں اعتدال کا دامن ہرحال میں تھامے رہنا چاہئے، سیاسی بیانات کے جاری سلسلے میں توانائی بحران کے نتیجے میں شدید لوڈشیڈنگ اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے کسی صورت صرف نظر نہیں ہونا چاہئے، اگر آج ذمہ داریوں کا احساس نہ کیاگیا تو آنے والے کل کی انتخابی مہم کیلئے ہماری قیادت کے پاس کوئی ٹھوس بات نہیں ہوگی۔

ملازمین کو ادائیگی کیلئے قوانین

صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ اور فوتگی کی صورت میں ان کے لواحقین کو کمپنسیشن سکیم کے تحت ادائیگی کیلئے رولز وضع کرلئے ہیں، حکومت کا اقدام قابل اطمینان سہی تاہم سرکاری ملازمین کو ہونیوالی ادائیگیوں میں درپیش مشکلات کے تناظر میں اس سارے سسٹم کو فول پروف قرار نہیں دیاجاسکتا، سرکاری ملازمین مکان کیلئے درخواستیں دے دے کر ریٹائر ہوجاتے ہیں، انہیں میڈیکل اور دوسرے کلیم لے کر کئی کئی ماہ گھومنا پڑتا ہے، جی پی فنڈ کی درستگی ہو یا ایڈوانس کاحصول، ان ملازمین کو کئی کئی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، پنشن اور دوسرے کاغذات تیار کرنے کے صبر آزما مراحل سے گزر کر منظوری کیلئے بیواؤں کو ایک سے دوسرے دفتر بھجوایاجاتا ہے، حکومت برسرزمین مشکلات کے تناظر میں کوئی بھی سہولت دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد کیلئے فول پروف مکینزم دے، ملازمین اور ان کے لواحقین کو اپنے ہی حق کیلئے دفاتر کی خاک چھاننے پر مجبور نہ کیاجائے۔