بریکنگ نیوز
Home / کالم / بھانت بھانت کی بولیاں

بھانت بھانت کی بولیاں

پانامہ لیکس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کو آئے ہوئے آج چوتھا روز ہے اس پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے میں آ رہی ہیں اور یہ سلسلہ شاید ابھی مزید چند دن جاری رہے عدالت عظمیٰ بہرحال ملک کی سب سے بڑی عدالت اور ایک نہایت ہی اہم ریاستی ادارہ ہے اس لئے زرداری کا یہ کہنا کہ وہ پانامہ لیکس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں کافی لوگوں کو اچھا نہیں لگا اگر یہ بات کسی عام آدمی نے کی ہوتی تو نہ جانے اسکاکیا حشر ہوتا زرداری صاحب بڑے آدمی ہیں اس بیان پر شاید انکا کچھ نہ بگڑے ریاستی اداروں کی اس طرح تضحیک کرنا کوئی اچھا فعل نہیں اس سے ملک کی نئی نسل کو غلط سگنل جاتا ہے زرداری صاحب نے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران جب میاں نواز شریف کے بارے میں چند نازیبا الفاظ استعمال کئے تو ایک منچلے کے منہ سے بے ساختہ یہ نکل پڑا کہ ’’چھاج بولے تو بولے چھلنی بھی بولی جس میں بہتر سو چھید‘‘ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ اگر غیر مبہم اور دو ٹوک الفاظ میں الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر دے کہ آئندہ جب بھی کوئی الیکشن ہو تو ریٹرننگ افسر بغیر کسی کا لحاظ کئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرتے وقت اسکے صادق اور امین ہونے کی پوری تسلی کرے تاکہ گندے انڈے اسمبلیوں میں گھس ہی نہ سکیں کسی نے بالکل سچ کہا کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت ہی اگر ریٹرننگ افسران سختی کا مظاہرہ کریں اور کسی مصلحت کا شکارنہ ہوں توغلط قسم کے لوگوں کا پارلیمنٹ میں داخلہ بند ہو سکتا ہے یقین کیجئے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کا موجودہ پارلیمنٹ پر اطلاق کیا جائے بغیر کسی کا لحاظ کئے تو آدھے سے پارلیمنٹ کے اراکین گھر چلے جائیں گے ‘ عمران خان اور زرداری دونوں کوجلدی ہے کہ الیکشن ہو جائیں کیونکہ فوری الیکشن میں وہ اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ سیٹوں کو جیتنے کے امکانات دیکھ رہے ہیں (ن) لیگ شاید فوری الیکشن کے حق میں اس لئے نہیں کہ لوگوں کی ابھی تک لوڈشیڈنگ کے عذاب سے جان نہیں چھوٹی ان حالات میں فوری الیکشن اسے سیاسی طور پر کافی نقصان پہنچا سکتا ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ مارچ2018ء میں سینٹ کے الیکشن ہونے ہیں ۔

اگر (ن)لیگ مارچ 2018ء کے بعدعام انتخابات کراتی ہے تو مارچ 2018 میں وہ سینٹ میں کافی نشستیں جیت کر وہاں پی پی پی کی عددی اکثریت کو ختم کر سکتی ہے اور پھر2018ء کے وسط تک اسے امید ہے کہ لوڈشیڈنگ میں بھی کافی حدتک کمی آ چکی ہو گی بلکہ اس کے مکمل طور پر ختم ہونے کے امکانات بھی ہیں اور اس کا فائدہ پھر اسے عام انتخابات میں مل سکتا ہے تادم تحریر تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے موڈ میں ہے لیکن جو رکارٹ ان کے آڑے آئیگی وہ گرمی دھوپ اور پھر رمضان شریف کا مہینہ ہے اس ملک میں تحریکوں کیلئے موزوں وقت اکتوبر سے لیکر مارچ تک گردانا گیا ہے اپریل ‘ مئی ‘ جون ‘ جولائی اور اگست کی گرمی میں عوام کو سڑکوں یا جلسہ گاہوں میں جمع نہیں کیا جا سکتاقدرت فی الحال میاں نوازشریف پر مہربان نظر آ رہی ہے (ن)لیگ کی کوشش ہو گی کہ وہ کھینچ تان کے اپریل2018ء تک اپنا وقت ایوان اقتدار میں گزار لے ‘ زرداری صاحب گرینڈ الائنس کے قیام کی بات تو کر رہے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کے ساتھ جماعت اسلامی ‘ پی ٹی آئی ‘ اے این پی ایک بینر تلے جمع ہوں گی ؟ مولانا فضل الرحمان صاحب کی پارٹی کی اہمیت اس کھیل میں یقیناًزیادہ ہو جائیگی زرداری صاحب کیساتھ بھی انکی یاد اللہ ہے اور میاں نوازشریف کے ساتھ بھی وہ راہ و رسم رکھتے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ وہ اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈالتے ہیں؟ بادی النظر میں یہ دکھائی دے رہا ہے کہ شاید اب کی دفعہ مرکز میں کسی بھی واحد سیاسی جماعت کیلئے از خود حکومت بنانا مشکل ہو جائے باالفاظ دیگر آئندہ الیکشن کے نتیجے میں ملک میں مخلوط حکومت کے قیام کا زیادہ امکان ہے۔