بریکنگ نیوز
Home / کالم / تذکرہ ایک فیصلے کا

تذکرہ ایک فیصلے کا

بیس اپریل کے روز ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ نے پانامہ کیس میں جو فیصلہ دیا اس کا آغاز 1969ء میں لکھے گئے ناول ’دی گاڈ فادر‘ کے ’قول زریں‘ سے لیکربین السطوربہت کچھ ایسا سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کی روشنی میں پاکستان کی سیاست کے محور اور مقصود کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ ’’ہر خوش قسمتی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘‘ اس جملے کے بعد فیصلے میں آگے چل کر لکھا گیا کہ حیران کن اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ یہ پورا مقدمہ اِس ایک جملے ہی کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے!‘‘سپریم کورٹ فیصلے کا بنظرغائر جائزہ لینے سے کئی حقائق معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ اِس فیصلے میں جن جن شخصیات کے نام کتنی بار آئے اُن میں لفظ ’نواز‘ 235مرتبہ‘ لفظ قطری شہزادے ’ثانی‘ کا نام 123 مرتبہ‘ لفظ ’حسین‘ 111 مرتبہ‘ لفظ ’حسن‘ 43مرتبہ اور لفظ ’مریم‘ 24مرتبہ آیا ہے جس سے یہ ضمنی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ مریم (وزیراعظم کی صاحبزادی) کا کردار فیصلہ سازوں کے ذہن میں شروع دن سے نہیں تھا لیکن فیصلہ سازوں پاکستان کے موجودہ وزیرخزانہ اور وزیراعظم کے سمدھی اسحاق ڈار کو نہیں بھول سکے جن کا نام فیصلے میں 23مرتبہ‘ جبکہ دلچسپ امر ہے کہ ’سمدھی‘ کا لفظ 5 مرتبہ دہرایا گیا۔ اسی طرح شہباز شریف بھی ان کی یاداشت میں رہے جن کا نام فیصلے کی ضخیم دستاویز میں 14مقامات پر تحریر ملتا ہے۔ سپریم کورٹ کے معزز فیصلہ سازوں کے ذہن پر جو پہلو حاوی تھا اس کا عکس الفاظ کے چناؤ اور استعمال سے بخوبی واضح ہے ۔

جیسا کہ لفظ ’پراپرٹی (جائیداد)‘ کا لفظ 483 مرتبہ‘ لندن 333 مرتبہ‘ قطر 192مرتبہ‘ جدہ 109مرتبہ اُور پانامہ 60مرتبہ استعمال ہوا۔ اِسی طرح ’آف شور کا لفظ 96 مرتبہ استعمال پایا گیا۔ منی195 مرتبہ‘ کرپشن 107 مرتبہ‘ لانڈرنگ 57 مرتبہ جبکہ فیصلہ سازوں کی نظریں اور توجہات ذرائع ابلاغ پر بھی رہیں جنہوں نے ’ٹیلی وژن‘ کا لفظ 33 مرتبہ مختلف مقامات پر بحوالہ استعمال کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لفظ ’بوگس‘ پانچ مرتبہ‘ استعمال ہوا۔ جس مقام پر ’بوگس‘ کا لفظ پہلی مرتبہ استعمال ہوا اُس جملے میں کہا گیا کہ ’’میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ یا تو میرے سامنے جائیداد کی فروخت کا جو معاہدہ پیش کیا گیا وہ ’بوگس‘ تھا یا پھر جناب طارق شفیع کی جانب سے جو متعلقہ حلف نامہ دیا گیا وہ جینوئن (اصل) نہیں ہے۔‘‘ قطری شہزادے کا ذکر بھی فیصلے میں ملتا ہے جن کے بارے میں ایک مقام پر لکھا ہے کہ ’’میری رائے میں‘ دستاویز بوگس ہے‘ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ہمیں اِس بات میں کوئی امر مانع (حیل و حجت) نہیں کہ ہم اِس دستاویز کو رد (ریجیکٹ) کردیں۔‘‘سپریم کورٹ کے فیصلے میں ’حدیبیہ کا ذکر بھی پانچ مرتبہ ملتا ہے‘ جسکی وجہ سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار یقیناًایک مشکل میں پڑ گئے ہیں کیونکہ انکا کوئی نہ کوئی تعلق اِس پورے معاملے سے بنتا ہے وزیراعظم کیلئے ایک اچھی خبر ہے کہ انکی صاحبزادی مریم نواز اِس پورے مقدمے میں مجرم نامزد ہونے سے صاف بچ گئی ہیں لیکن ان پر قانونی و اخلاقی دباؤ بدستور موجود ہے۔ وہ تین جج صاحبان جنہوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے جیسا نتیجہ پیش نہیں کیا لیکن انہوں نے ایسی مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دیئے ہیں‘ جن سے نمٹنا‘ اور خود کو ’بے قصور‘ ثابت کرنا وزیراعظم کیلئے آسان نہیں ہوگا۔آئندہ 60دن میں‘ وزیراعظم کا مستقبل ’جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم طے کریگی اور اِس جے آئی ٹی اصطلاح کا استعمال فیصلے میں 32مرتبہ کیا گیا ہے پاکستان میں ’جے آئی ٹی‘ تشکیل دینے اور اس کے ذریعے کسی معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ذمہ داروں یا حقائق کا تعین کرنے کی تاریخ زیادہ روشن نہیں لیکن اس ساکھ کے باوجوداگرجے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے تو اِس کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ اِس معاملے میں فوج کے ادارے کو بھی شامل کر لیا جائے اور اُن کی کارکردگی کے احتساب کا موقع بھی ہاتھ آئے۔

فیصلہ سازوں کے ذہن میں آرمی اور ملٹری جیسی اصطلاحات بھی گردش کر رہی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ اِن دونوں اصطلاحات کا استعمال 16مرتبہ پڑھنے کو ملتا ہے۔قانونی پیچیدگیاں اور باریکیاں اپنی جگہ‘ اگر ہم تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے اُس ردعمل کو دیکھیں کہ انہوں نے پانامہ مقدمے کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ کاماحول احتجاج سے گرما دیا ہے۔ اِس لمحۂ موجود میں وزیراعظم سیاسی طور پر تنہا دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ان کے واحد اتحادی مولانا فضل الرحمن ہی باقی بچے ہیں اور یہ صورتحال اُن 5 درجن تجربہ کار سیاستدانوں کے لئے مایوس کن ہے جو ایک معمول کے مطابق قومی اسمبلی کی ان 148نشستوں پر تواتر سے کامیاب ہوتے رہتے ہیں جو صوبہ پنجاب کے اضلاع راولپنڈی اور رحیم یار خان پر مشتمل ہیں۔تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے شخص کے سامنے تین محاذ کھلے ہیں جن پر اُسے اپنا دفاع کرنا ہے۔ پہلا محاذ ’جے آئی ٹی‘ ہے۔ دوسرا محاذ اُن کی سیاسی تنہائی کا ماحول ہے اور تیسرا محاذ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف انکی ناکامی ہے جہاں تک اِن محاذوں پر کامیابی کا تعلق ہے تو جے آئی ٹی کے ذریعے سرخروئی حاصل کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ کسی صورت اِس معاملے کو طول دیا جائے اور حکومتی اختیارات کے ذریعے ’جے آئی ٹی‘ کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کیساتھ اِس کے کام کرنے کے آغاز میں تاخیری حربے اختیار کئے جائیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)