بریکنگ نیوز
Home / کالم / غلط روش

غلط روش

اس ملک کے ٹیلی وژن کے اکثر اینکرز او ر نیوز کاسٹرز اتنا زور لگا کر اونچی اونچی آواز میں بولتے ہیں کہ ان بے چاروں کی سانس پھول جاتی ہے نہ جانے یہ لوگ فرط جذبات میں خود ایسا کرتے ہیں یا ان کے پروگراموں کے پروڈیوسر ان کو ایسا کرنے پرمجبور کرتے ہیں اسکا ہمیں پتا نہیں ایک عام ناظر یا سامع البتہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہیں ان کو بلڈ پریشر تو نہیں ہو گیا ؟ کوئی بھی بات ہو وہ آرام سے‘ دھیرج سے‘ دھیمے انداز میں بھی کی جا سکتی ہے کہ جس کو کرنے کیلئے یہ اینکرزیا نیوز کاسٹرز ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں ہم نے تو یہ سنا ہے کہ ٹیلی وژن پر بولنے والوں یا کمنٹری کرنے والوں کو خود کم بولناچاہئے اور تقریروں کی زبان کو زیادہ استعمال کرنا چاہئے معروف کرکٹ کمنٹریٹر عمر قر یشی مرحوم کو تو آپ نے یقیناًریڈیو پر کرکٹ کی کمنٹری کرتے سنا ہو گا او ر ٹیلی وژن پر بھی‘ ریڈیو پر چونکہ سامعین تک وہ جذباتی کیفیت پہنچانا مقصود ہوتی ہے جو سامعین نہیں دیکھ پا رہے ہوتے لہٰذا ریڈیو پر اگر کسی براڈ کاسٹر کو زور زور سے بولنا پڑ جائے تو بعض جگہوں اور حالت میں وہ قابل فہم ہے لیکن ٹیلی وژن سکرین پر تو آپ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہاں نیوز کاسٹروں اور اینکر پرسنز کے چیخنے کا کیا جواز بنتا ہے ؟ کیا وہ دھیمے انداز میں مدعا بیان نہیں کر سکتے ؟ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تقریباً ہر ٹیلی وژن چینل پر شام گئے یا رات گئے اینکروں نے اپنی علیحدہ علیحدہ ’’ چوکڑی‘‘ بنا رکھی ہے وہ اپنی دکان شام اور رات کے درمیان جسے پرائم ٹائم کہا جاتا ہے سجا لیتے ۔

ہیں جس کے دوران وہ جانبداری کی تمام حدیں پھلانگ کر ابتدا سے آخر تک اپنے مخصوص فکر و نظرکی بھرپور عکاسی کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے مہمانوں کے منہ سے وہ باتیں نکلوانا چاہتے ہیں کہ جو انکے کان سننا چاہتے ہیں ‘ایک دوسری روش بہت عام ہو چکی ہے سنیما ہاؤسز میں جب کوئی نئی فلم ریلیز ہوتی ہے تو فلم کا پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر کچھ عرصہ پہلے اشتہاربازی سے اس فلم کی پبلسٹی کرتا ہے اس میں کام کرنیوالے فنکاروں کی صفات بیان کرتا ہے تاکہ لوگوں کو اس فلم کو دیکھنے کیلئے راغب کیا جائے کچھ عرصے سے ہمارے ٹیلی وژن چینلز نے بھی کچھ اس قسم کی روش اختیار کر رکھی ہے ٹیلی وژن چینل پر اورا خباری اشتہارات پر اپنے اینکر پرسنز کو متعارف کرادیا جاتا ہے اس کے بے لاگ تبصروں کی شان میں لفاظی کی جاتی ہے اس کے فوٹوؤں پر مشتمل ایک فوٹج بھی چلا دی جاتی ہے کیا اب فلمی اداکاروں اور اینکروں میں کوئی فرق باقی رہ گیا ہے اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کیا فائدہ ؟اوپر کی سطور میں ہم نے عمر قریشی کی جو مثال دی ہے اس پر ہمارے براڈ کاسٹر اگر عمل کریں تو کیا ہی اچھا ہو وہ ٹیلی وژن پر دھیمے انداز میں بولتے تھے۔

ہمیں اپنے ٹیلی وژن چینلز کے کرتا دھرتوں سے یہ بھی گلہ ہے کہ وہ اپنے پروگرام چلاتے وقت یہ بالکل نہیں سوچتے کہ صرف وہ پروگرام دکھائے جائیں جو مواد ‘زبان غرضیکہ ہر لحاظ سے پاک صاف ہوں اور جنہیں تمام اہلخانہ اکٹھے بیٹھ کر دیکھ سکیں اہل خانہ میں بچے بوڑھے ‘ خواتین‘ مرد ‘ بہن بھائی ‘ ماں باپ ‘ بیوی شوہر اور بچے سب آتے ہیں ان پروگراموں میں کوئی ایسا ذومعنی جملہ بھی نہ ہو یا کوئی ایسا حیا باختہ سین کہ جسے دیکھ کر حیا آ جائے خدا لگتی کہئے کہ ہمارے اکثر ٹیلی وژن پروگرام اخلاق کے دائرے کے باہر نہیں ہوتے ؟ یہ جو کیٹ واک میں خواتین ملبوسات کی نمائش کی جاتی ہے کیا اس قسم کا لباس کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو پہننے کی اجازت دے سکتا ہے یا کوئی غیرت مند شوہر یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی بیوی ایسا لباس زیب تن کرے ؟۔