بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / ایک باپ کا دکھ!

ایک باپ کا دکھ!

عبدالولی خان یونیورسٹی میں زیرتعلیم مشال خان کو ایک ہجوم نے فائرنگ اور مارپیٹ کے ذریعے قتل کر دیا‘ جس کے والد محمد اقبال اپنے بیٹے کے جنازے میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمال صبر و استقامت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ وہ غمزدہ تھے لیکن جذباتی نہیں انکی آواز میں چھپا درد محسوس کیا جاسکتا تھا لیکن وہ کسی انتقام کا جواز نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ آئندہ کسی کا لخت جگر یوں کچلا نہ جا سکے۔ مشال کے والد نے جو کچھ بھی کہا وہ اپنے دکھ کو فراموش کرنے کیساتھ تجویز بھی تھا کہ معاشرے کی اصلاح کی جائے وہ فیصلہ سازوں کو جھنجھوڑ رہے تھے کہ دیکھئے کس طرح معاشرے میں عدم برداشت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ۔
مشال کے والد اقبال شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں وہ خود بھی شعر کہتے ہیں اور دیگر شعراء کا کلام بھی سناتے ہیں جس دن خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں زیدہ میں انکے بیٹے مشال کو سپردخاک کیا جارہا تھا‘ اس وقت بھی انہوں نے اپنے دکھ بھرے تاثرات کو بیان کرنے کیلئے اشعار ہی کا سہارا لیا انہوں نے اپنے بیٹے پر لگے توہین رسالت کے الزامات اور اُس کے بے رحم قتل اور اپنے تاثرات کو بھی ’مرزا اسداللہ غالبؔ ‘ کے اشعار ہی کے حوالے سے پیش کیا انکی بظاہر سادہ شخصیت کو دیکھتے ہوئے محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ’’اقبال شاعر‘‘ فنون لطیفہ کا دلدادہ ہے لیکن جب وہ ’لب کشائی‘ کرتا تو اُس کے مطالعے اور حافظے کا معیار اور ذوق عیاں ہو جاتا۔ ان کے ہاں سماجی ومعاشرتی مسائل اور امتیازات و ناانصافیوں سے متعلق خواندگی پائی جاتی ہے۔ وہ خود کو عدم تشدد کے فلسفے کا پجاری اور امن کا حامی کہتے ہیں اور اُن کا یہ قول اُن کے عمل سے بھی ثابت ہے کہ جب اُن کے بیٹے کے قتل کی بات آتی ہے تو وہ کسی سے انتقام لینے کی بات نہیں کرتے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اس بات کا انتظام کرے کہ قانون کی حکمرانی ہو تاکہ لوگ کسی بھی وجہ سے قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں ۔

اقبال شاعر نے مشکل سوالات کے منطقی جوابات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سینئر پولیس اہلکار نے جب ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ اپنے بیٹے کے قتل کی جاری تحقیقات سے مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے بیٹے کو کس نے قتل کیا ہے اور نہ ہی میں کسی کو اس قتل کے لئے مجرم نامزد کرنا چاہتا ہوں تاہم یونیورسٹی میں موجود ’سی سی ٹی وی‘ کیمروں کی مدد سے ان سبھی کی شناخت ہو سکتی ہے جو اس واقعے میں ملوث تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپکے بیٹے کے قاتل کون ہیں تو اقبال شاعر نے فلسفیانہ انداز میں ایک فہرست گنوا دی جس میں برسراقتدار لوگوں اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کا ذکر کیا گیا لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں لیاان کے خیال میں پاکستانی معاشرہ گناہوں کی دلدل میں دھنس رہا ہے اور ہر کوئی کسی نہ کسی صورت اس تالاب میں اپنا سر پانی سے باہر رکھے ہوئے تیر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر کردہ شاعری کا وہ حصہ بھی پڑھ کر سنایا جس میں افغان فاتح ’احمد شاہ ابدالی‘ کی جدوجہد کا ذکر ملتا ہے کہ اپنے دکھ کو بھول کر اٹھو اور اپنے ہم عصر پختونوں کے دکھ درد اور مشکلات کا حل ڈھونڈو۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کوئی بھی مسئلہ طاقت کے استعمال یا انتشار‘ سے حل نہیں ہوسکتا لہٰذا ہمیں پیار‘ باہمی احترام اور بات چیت (ڈائیلاگ) پر مبنی غوروخوض کو موقع دینا چاہئے تاکہ خطے میں امن بحال ہوسکے۔ جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ اِس بات کے لئے پراُمید ہیں کہ آپ کو اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف ملے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ غریب کو انصاف نہیں ملتا اور سرمایہ دار و بااثر لوگ سب کچھ لوٹ لے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف نہیں چاہتے لیکن چاہتے ہیں کہ اُن کے بیٹے کی قربانی سے معاشرہ اصلاح و فلاح پا جائے۔ اقبال شاعر کو اِس بات کا ملال ضرور ہے کہ نہ صرف اس کا بیٹا قتل کیا گیا بلکہ اسکے قتل کا جواز ’توہین رسالت‘ کے الزامات بنے۔ انہیں اس بات پر تعجب ہے کہ اُن کے مقتول بیٹے کو ان سے زیادہ کون جانتا تھا جس نے اس کی پرورش کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ جانتا ہے اور اس بات کی گواہی قرب و جوار کے لوگ بھی دیں گے کہ اُنہوں نے اپنی اولاد کو کڑی نگرانی میں پروان چڑھایا اور انکی تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تاکہ وہ معاشرے کے ذمہ دار رکن اور ایک اچھے انسان بن سکیں اور اسی مقصد کے لئے بچوں کو فنون لطیفہ سے متعارف بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی اس بات کی گواہی دے کہ اُن کی کسی اولاد نے اپنے قول و فعل سے اسلام مخالف طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مشال اور اُن کی بہن اسلامیات کے مضمون میں پچاس میں سے 48 نمبر حاصل کیا کرتے تھے اگر میں ایک ماہ میں پندرہ مرتبہ قرآن شریف کی مکمل ناظرہ تلاوت کرتا ہوں تو میرے خیال میں‘ میں کسی بھی دوسرے ہم مذہب سے کم تر مسلمان نہیں ایک غم زدہ باپ نے نہایت دردمندی سے مشال کی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کا بیان کیا اور کہا کہ وہ صحافت (جرنلزم) کا طالب علم تھا جو سود پر مبنی اقتصادی نظام اور حکومت کی اُن پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتا تھا جن کی وجہ سے محروم اور غربت و افلاس کا شکار طبقات کو انصاف نہیں ملتا ؂

انہوں نے کہا کہ مشال عموماً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درخشاں دور کی مثالیں دیتے ہوئے اِس خواہش کا اظہار کیا کرتا تھا کہ اے کاش خلفائے راشدین کی طرح کی طرزحکمرانی پر مبنی دور حکومت پاکستان میں رائج ہو جائے۔
اقبال شاعر بہت کچھ کہنا چاہتا ہے اس نے وضاحت کی کہ کس طرح اس نے اور اس کے اہل خانہ نے باوجود غربت کے بھی مشال کو اعلیٰ تعلیم کے لئے روس بھیجا اِس اُمید کے ساتھ کہ وہ مستقبل میں اُن کا سہارا بنے گا اور عملی زندگی میں کامیاب انسان ثابت ہوگا لیکن ہمیں جواب میں مشال کی لاش ملی! اُنہوں نے کہا کہ میرا نقصان ناقابل تلافی ہے لیکن یہ ناقابل برداشت نہیں اور اس سانحے کے بعد بھی‘ میں پیار اور امن کا پیغام بانٹتا رہوں گا۔ یقیناًیہ ایک عمررسیدہ شخص کے ناقابل فراموش الفاظ اور اس کے جوان عزم و حوصلے کا خوبصورت بیان ہیں۔ اقبال شاعر کے ہاں تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا جن سے ملنے ملانے کے دوران اس نے کہا کہ مجھے یاد ہے جب ماں نے مشال کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ آنیوالی ہفتہ وار تعطیل پر گھر آئے کیونکہ اس نے بہت دنوں سے اُسے دیکھا نہیں اور پھر مشال نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور آئیگا لیکن مشال ایک ایسی صورت میں لایا گیا کہ اسکا بدن زخموں سے بُری طرح چور تھا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)