بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مردم شماری ازخودنوٹس کیس‘سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی رپورٹ مسترد کردی

مردم شماری ازخودنوٹس کیس‘سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی رپورٹ مسترد کردی


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے ملک میں مردم شماری نہ کرائے جانے کے خلاف ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، اس میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ورنہ ہم فیصلہ دینگے کہ حکومت مردم شماری کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عدالت کے فیصلے کے نتائج حکومت کو بھگتنا پڑیں گے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری سے متعلق اس اہم کیس کی سماعت کے لئے اٹارنی جنرل کی موجودگی ضروری ہے۔

تاہم وہ عالمی مصالحتی عدالت میں مقدمات کے حوالے سے بیرون ملک ہیں اور اٹارنی جنرل نے درخواست کی ہے کہ اس معاملہ کو ایک ہفتہ تک کے لئے ملتوی کر دیا جائے تاکہ وہ خود پیش ہو کر حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کر سکیں جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہوئے کہا کہ ہم یہ کیس ضرور چلائیں گے کیونکہ مردم شماری ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔

حکومت اس میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ورنہ ہم فیصلہ دینگے کہ حکومت مردم شماری کرانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ پھر اس کے نتائج بھی حکومت کو بھگتناپڑیں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کب واپس آئیں گے تو بتایا گیا کہ 10 روز بعد اٹارنی جنرل ملک میں ہونگے جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جو رپورٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جمع کرائی ہے اس سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس طرح کی رپورٹس خانہ پری کے لئے ہوتی ہیں۔