بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بنی گالہ تجاوزات ازخود نوٹس ٗعمران خان سے جواب طلب

بنی گالہ تجاوزات ازخود نوٹس ٗعمران خان سے جواب طلب


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹس پر عمران خان سے تحریری موقف طلب کر لیا ، جبکہ غیر قانونی تعمیرات کے لیے بجلی اور گیس کے کنکشن فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، عدالت نے آئیسکو اور سوئی نادرن کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی عمارتوں کو گیس اور بجلی کے کنکشن نہ دئیے جائیں، عدالت نے کورنگ روڈ اور نیشنل پارک سے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے کے سیوریج کے پانی کو ضائع کرنے کے لیے میکانزم بنا کر آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرے ۔

عدالت نے سی ڈی اے سے راول ڈیم کی زمین پر ہونے والی مبینہ تجاوزات کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانامہ کیس کے حوالے سے کہا کہ لوگ قانون سمجھتے نہیں اور میڈیا پر تبصرے کرتے ہیں، عدالت کا عزت و احترام ختم نہیں ہونا چاہئے، دنیا کے دیگر ممالک میں عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ آتے ہیں لیکن اس طرح شور شرابہ نہیں کیا جاتا جس طرح یہاں کیا جاتا ہے۔

، نظام اور عدلیہ انتہائی ضروری ہیں،غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس میں کسی کی بدنیتی نہیں ہو گی، ناروے میں لوگوں کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ پاکستان کے لوگوں میں اب فیصلے کا ادراک آ چکا ہے اور لوگ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے لکھے گئے خط پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان نے ذاتی طور پر پیش ہو کر موقف اپنایا کہ یہ ایک سنجیدہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ جب 15 سال پہلے بنی گالہ آیا تو ہر طرف جنگلات تھے لیکن اب بڑے پیمانے پر تعمیرات ہو رہی ہیں دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔

ایک تو نیشنل پارک آدھا رہ گیا ہے اور کورنگ روڈ کے دونوں طرف تجاوزات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے سی ڈی اے کو تحریری طور پر لکھا، اس کے بعد افتخار چوہدری کو لکھا تو انہوں نے ازخود نوٹس بھی لیا جس کے بعد کورنگ روڈ اور گردونواح سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ رک گیا تھا لیکن اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ گرین ایریا ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے کچھ درخت بھی لگائے ہیں۔ تاہم بلند عمارتیں اور پلازے بن رہے ہیں جن کی سیوریج کا گندا پانی راول ڈیم میں جاتا ہے۔ اگر اب اس کا تدارک نہ کیا گیا تو 5 برس بعد بہت تاخیر ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں ازخودنوٹس لے لیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ غیرقانونی معاملات کو کیسے روکا جائے؟ آپ عدالت کی معاونت کریں۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ جو کچھ پہلے ہو چکا ہے کیا اس کو واپس کیا جا سکتا ہے؟ بہت سے لوگوں کے مفادات ہوں گے۔

یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا جو پلازے بنے ہیں وہ قانون کے مطابق ہیں یا نہیں۔ چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح معنوں میں عوامی مفاد کا معاملہ ہے جو آپ عدالت میں لے کر آئے ہیں۔ یہ بنیادی حقوق کا بھی معاملہ ہے۔ اس لئے آپ اپنی مصروفیات میں سے اس کے لئے وقت نکالیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قاضی نہیں ہم قانون کی عدالت ہیں۔ پہلے قانون کو دیکھیں گے اس کے بعد جو اقدامات کر سکے کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے سب کے سامنے ہے۔ لوگ قانون سمجھتے نہیں اور میڈیا پر تبصرے کرتے ہیں۔ عدالت کا عزت و احترام ختم نہیں ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے پانامہ کیس میں دو ججز کے اختلافی نوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ آتے ہیں لیکن اس طرح شور شرابہ نہیں کیا جاتا جس طرح یہاں کیا جاتا ہے۔ نظام اور عدلیہ انتہائی ضروری ہیں۔ لوگ آپ کو سنتے ہیں سمجھتے ہیں۔ آپ کے پیچھے عوام کھڑے ہیں۔ اس لئے آپ کو تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے عمران خان کو اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہم کیتھڈرل میں اکٹھے تھے۔ جب آپ ایچی سن سکول آئے تو میں آپ کے ساتھ کھیلتا بھی رہا ہوں۔ آپ نے بیس بال کو ایسی شارٹ لگائی تھی کہ وہ چرچ کے باہر چلی گئی تھی۔ ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جن کا صرف یہ مقصد ہونا چاہئے کہ قوم کو آگے لے کر بڑھنا ہے۔ یہ بے اعتباری اور بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ہے اور اعتماد کی فضا کو بحال کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے بڑا کوئی کیس نہیں ہے کیونکہ یہ براہ راست عوامی زندگی سے تعلق رکھنے والا کیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کو بولنا ہو گا لیکن عدلیہ کا احترام ختم نہیں ہونا چاہئے۔ اس دوران سی ڈی اے کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے بارے میں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سی ڈی اے کی رپورٹ کو دیکھ لیں پھر اس کے بارے میں اپنا تحریری جواب جمع کرائیں۔ جس کے بعد کوئی واضح حکم جاری کیا جائے گا۔

اس پر عمران خان نے کہا کہ اس ملک کی واحد امید سپریم کورٹ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ اللہ نے ہمیشہ ان قوموں کو ترقی دی ہے جن کے لیڈر پاک صاف ہوں اور انہوں نے قوموں کے نصیب سنوارنے کے لئے ایمانداری سے کام کیا ہو۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو اور انصاف کا بہترین نظام ہو۔ عمران خان نے کہا کہ ہم پہلے بھی عدلیہ کے ساتھ کھڑے تھے اب بھی ہمیشہ پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدل چکا ہے، پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بینچ نے شاندار انداز میں کیس کو سنا اس پر بینچ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس میں کسی کی بدنیتی نہیں ہو گی۔ ناروے میں لوگوں کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ پاکستان کے لوگوں میں اب فیصلے کا ادراک آ چکا ہے اور لوگ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب نے مل کر ملک کے تشخص کے لئے کام کرنا ہے۔

جس نے بھی ملک کے تشخص کو بحال کرنے کا جھنڈا اٹھایا ہے اسے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے وولٹن پارک میں ایک کانفرنس میں یہ بات میں نے سیکھی کہ دنیا میں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس لئے سب مل کر اداروں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ راول ڈیم میں بنی گالہ کے گندے پانی کا داخلہ روکنے کے لئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہوا اور پانی اللہ کی نعمت ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے صاف پانی ملتا ہے تو ہم اسے آلودہ کیوں ہونے دے رہے ہیں۔ راول جھیل کا پانی راولپنڈی کے شہری پیتے ہیں۔ اس لئے شہریوں کو صاف پانی پینے کے لئے ملنا چاہئے۔ اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ عدالت نیشنل پارک ایریا اور کورنگ روڈ کے دونوں اطراف ہونے والی تجاوزات اور درختوں کی کٹائی روکنے کے لئے حکم جاری کرے۔

عدالت نے کہا کہ درخت کاٹنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف نے کہا کہ نیشنل پارک اور سی ڈی اے کی زمین پر ڈی مارکیشن ہونا باقی ہے۔ پرائیویٹ اور پبلک لینڈ کے بارے میں رپورٹ آئندہ سماعت پر جمع کرا دیں گے۔قبل ازیں چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سی ڈی اے کے وکیل اور عمران خان کے معاون وکیل بابر اعوان کو ہدایت کی کہ آپ مختصر عبوری حکم جاری کرنے کے لئے مشاورت سے عدالت کو بتائیں کہ آج کیا آرڈر دیا جا سکتا ہے کیونکہ آج مفصل آرڈر جاری نہیں ہو سکتا جب تک عمران خان سی ڈی اے کی رپورٹ پر اپنا جواب جمع نہ کرا دیں۔ عدالت نے تینوں وکلاء کو ہدایت کی کہ بریک کے بعد مختصر آرڈر کے لئے مشاورت سے عدالت کی معاونت کریں جس کے بعد سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سپریم جوڈیشل کونسل میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کرادیا،ریفرنس کے ساتھ چیئرمین نیب قمر زمان چودھری کو کام سے روکنے کیلئے متفرق درخواست بھی دائر کر دی گئی۔

تحریک انصاف کے ترجمان بیرسٹر فواد چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت پاناما کیس کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں احتساب کے سب سے بڑے ادارے کا سربراہ غیرجانبدار نہیں، وزیراعظم نوازشریف اور ان کا خاندان غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایاگیا لیکن چیئرمین نیب نے ان کے خلاف اپنے عہدے سے ناانصافی کرتے ہوئے اپنا اختیار استعمال نہیں کیا۔ پاناما کیس کے فیصلے میں بھی کہا گیا ہے کہ چئیرمین نیب قمرزمان چوہدری اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر رضامند نہیں اور نیب کا رویہ بھی غیرمناسب ہے، عدالت کے اس فیصلے کے بعد عوام کے سامنے نیب کا تشخص تباہ ہوا جب کہ چئیرمین نیب نے اپنی نااہلی کے باعث اپنے عہدے کا وقار بھی مجروح کیا۔

ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ قمر زمان چوہدری نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں فرائض سے غفلت برتنے پر چئیرمین نیب کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں فوری کام سے روکا جائے اور اگر چیئرمین نیب کو کام سے نہ روکا گیا تووزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔