بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / افغانستان کے فوجی سربراہ اور وزیر دفاع دونوں مستعفی

افغانستان کے فوجی سربراہ اور وزیر دفاع دونوں مستعفی

کابل۔افغانستان فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد افغانستان کی فوج کے سربراہ اور وزیرِ دفاع نے استعفی دے دیا ہے۔افغان فوج کے سربراہ قدم شاہ شہیم ارو وزیرِ دفاع عبداللہ حبیبی نے اپنے استعفے صدر کو پیش کیے جنہیں صدر نے قبول کر لیا۔

چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر کے ذرائع کے مطابق ان دونوں کی جگہ افغانستان کے صدر عبدالغنی نے طارق شاہ بہرامی کو وزراتِ دفاع کا نگران وزیرِ جبکہ شریف یفتلی کو نیا فوجی سربراہ تعینات کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ مزار شریف کے فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 100 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاکتوں کی حتمی تعداد ابھی تک واضح نہیں تاہم بعض عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے 165 لاشیں گنی ہیں۔حملہ آور خود بھی فوجیوں کی وردی میں ملبوس تھے اور انھوں نے نماز پڑھ کر مسجد سے نکلنے والے اور کینٹین جانے والے فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔حملے کے بعد اتوار کو ملک میں ایک روزہ قومی سوگ منایا گیا۔مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کارپ کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی مقیم ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے۔