بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / لوڈشیڈنگ ٗکابینہ کمیٹی کا اجلاس

لوڈشیڈنگ ٗکابینہ کمیٹی کا اجلاس

وزیر اعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا لوڈشیڈنگ کی موجودہ اذیت ناک صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطح پر احساس و ادراک کا عکاس ہے ٗ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں بجلی کی پیداوار کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی وزیر اعظم نے تمام پراجیکٹ بروقت مکمل کرنے کا حکم دیا اجلاس میں یہ عندیہ بھی دیا گیاکہ دسمبر تک5ہزار700میگا واٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی جس سے صورتحال میں بہتری پیدا ہوگی توانائی بحران کے خاتمے کیلئے حکومت کا احساس اور اقدامات اپنی جگہ قابل اطمینان ہیں تاہم جہاں تک منصوبہ بندی کا تعلق ہے تو اس میں موجود سقم کے باعث صارفین کو ابھی تک کوئی قابل ذکر ریلیف نہیں ملی لوگ موسم گرما کی ابتداء ہی میں بجلی کی قلت کے ہاتھوں چیخ رہے ہیں دوسری جانب پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ٗ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 4ہزار451میگاواٹ ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ 17ہزار 399میگاواٹ کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی 12 ہزار 948 میگاواٹ ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے والوں کو ٹکے کی ریلیف نہیں ملے گی۔

لوگوں کو چاہئے کہ میٹر لگائیں اور بجلی چوری نہ کریں حکومت کے ذمہ دار ادارے ریکوری نہ دینے اور لائن لاسز والے علاقوں میں بجلی بند کرکے بل ادا کرنے والے صارفین کو سزا دینے سے متعلق ابھی تک کوئی واضح دلیل نہیں دے سکے ذمہ دار ادارے بجلی چوری روکنے اور بروقت ریکوری میں ناکام رہنے سے متعلق اداروں کی کمزور کارکردگی پر بھی خاموش ہیں خاموشی گردشی قرضوں میں اضافے پر بھی ہے بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابیوں پر بھی تیل ٹپکتے ٹرانسفارمرز اور لوگوں کے سروں پر لٹکتی بجلی کی بوسیدہ تاروں پر بھی ہے اووربلنگ کی شکایت پر بھی سکوت رہتا ہے حالانکہ یہ سب توانائی بحران کا حصہ نہیں ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ بحران سے نمٹنے کیلئے صرف بجلی کی پیداوار بڑھانے پر ہی توجہ مرکوز نہ رکھے بلکہ ذمہ دار اداروں کی کارکردگی بہتر بناکر خدمات کی فراہمی یقینی بنائے۔

من مانے سپیڈ بریکر

اس سے کوئی انکار نہیں کہ ٹریفک پشاور کا سنگین مسئلہ ہے انکار اس سے بھی نہیں کہ اس کے حل کے لئے اعلانات اور اقدامات کے درمیان وسیع خلیج حائل ہے صرف نظر اس سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ حکومتی منصوبہ بندی میں زمینی حقائق کے ادراک سے گریز کیا جاتا ہے پشاور میں ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے اقدامات میں ایک بڑی رکاوٹ ہر گلی اور محلے میں لوگوں کے اپنی مرضی سے بنائے جانے والے سپیڈ بریکرز بھی ہیں ان کی اونچائی تکنیکی قواعد سے آزاد ہوتی ہے جو گاڑیوں کے لئے خصوصاً نقصان کا باعث بنتی ہے۔

ٗہر قاعدے قانون سے آزاد سپیڈ بریکر گلیوں اورسڑکوں میں پانی کے بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں دوسری جانب ٹریفک حکام کی طرف سے ون وے ٹریفک کے لئے لگائی گئی رکاوٹ کئی مقامات پر سائیڈوں سے ہٹا کر موٹر سائیکلوں کے ٹائرز محفوظ طریقے سے گزارے جا رہے ہیں اس طرح کی صورتحال میں ٹریفک کی اصلاح کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کس طرح ثمر آور ہو سکتے ہیں۔ مزید وسائل سے طویل المدتی پالیسیاں وضع کرنے والے ہمارے منصوبہ سازوں کو پہلے برسرزمین ان مسائل کو حل کرنا چاہئے جن سے شہریوں کو ریلیف مل سکے۔