بریکنگ نیوز
Home / کالم / لوڈ شیڈنگ اور آئندہ انتخابات!

لوڈ شیڈنگ اور آئندہ انتخابات!


سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ’پانامہ کیس‘ فیصلہ آنے کے بعد سے حکومت مشکلات کا شکار ہے لیکن یہ مشکل صرف آئینی یا سیاسی ہی نہیں بلکہ انتظامی محاذ پر بھی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ انتخابی وعدوں کے باوجود بھی مسلم لیگ نواز پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے یا اِس کا دورانیہ ہی کم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ پاناما کیس فیصلے کی طرح لوڈ شیڈنگ کی واپسی بھی شہ سرخیوں کا حصہ ہے جو تقریباً ایک دہائی سے ملک کو لاحق توانائی کے شدید بحران کی علامت ہے اب یہی لوڈشیڈنگ آئندہ عام انتخابات میں نواز لیگ کی انتخابی کامیابی کے امکانات پر کسی سائے کی طرح منڈلا رہی ہے۔ نواز لیگ ملک سے ہمیشہ کیلئے یہ مسئلہ ختم کرنے کے وعدے کیساتھ انتخابی میدان میں اتری تھوڑے عرصے کیلئے یوں لگا کہ پارٹی اپنے وعدے کی تکمیل پر گامزن ہے اس نے اپنے اقتدار کا آغاز گردشی قرضوں‘ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے آگے غیر ادا شدہ بلوں کا انبار لگا تھا جو توانائی کے شعبے کو متاثر کر رہا تھا‘ کے تاریخی خاتمے کے ساتھ کیا۔ پیداواری صلاحیت میں کمی کا مسئلہ نہ اس وقت تھا اور نہ آج ہے۔ مسئلہ فنڈز کی کمی تھی‘ جن سے ہمارے توانائی کے شعبے میں موجود مالی خلاء کو پر کرنا تھا ایک ہی بار میں تمام گردشی قرضے کو ختم کر لینے کے بعد‘ پارٹی نے ملک سے وعدہ کیا کہ یہ اس نوعیت کی آخری مشق تھی ہمیں بتایا گیا کہ اب سے توانائی شعبے میں اصلاحات کی جائیں گی اور پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی‘ تاکہ اس شعبے کو مالی طور پر خود انحصاری کے تحت مضبوط اور اس وقت کی طلب کو پورا کرنے کیلئے ہر صورت قابل بنایا جاسکے۔ ستمبر دوہزار تیرہ میں آئی ایم ایف کو قرض کے لئے ملکی درخواست میں ان اصلاحات کی تفصیلات دی گئیں‘ درخواست میں دیگر تفصیلات کے علاوہ نجکاری اور قیمتوں میں اصلاحات کی تفصیل بھی شامل کی گئی اسکے بعد آیا سی پیک جو کہ وہ دور رس منصوبہ ہے جسے حال ہی میں منصوبہ بندی کمیشن نے ایک ٹوئیٹ میں ’معجزہ‘ بھی قرار دیا‘ ہمیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ گرڈ میں سولہ ہزار میگا واٹس بجلی کا نہ صرف اضافہ کرنے جا رہا ہے بلکہ اس کے تحت بجلی کی ترسیل کا نظام بنانے کے لئے ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن لائنز) کی بہتری پر بھی کثیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

اب ہمارے مسائل کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔سی پیک کے توانائی منصوبوں کی آمد کیساتھ ہی اصلاحات کی تقریباً تمام باتیں ایک طرف رکھ دی گئیں اب ہر چیز کے لئے سی پیک پر انحصار کیا جانے لگا اور کسی حکومتی وزیر سے سی پیک کو شاملِ گفتگو کئے بغیر معیشت پر بات کرنا قریب ناممکن ہی بن گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ اضافی میگاواٹس ہمارے تمام مسائل کر دیں گے۔ اس کے بعد اس کھیل کا پانسہ کچھ یوں پلٹنا شروع ہوا: دوہزار اٹھارہ سے قبل ہر صورت میگاواٹس میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا جائے۔ حکومتی مدت ختم ہونے سے پہلے پہلے ’سی پیک‘ کی ’وقت سے پہلے‘ کی سکیم کے تحت لگائے جانے والے تمام نئے نئے توانائی منصوبوں کو شروع کر دیا جائے اور استعمال کیا جائے۔ ٹربائنز کو پوری رفتار پر چلایا جائے اور یوں لوڈ شیڈنگ غائب ہو جائیگی پھر انتخابی مہم کا آغاز کیا جائے اور ہر حلقے میں جا کر پوچھا جائے‘ ’یاد ہے میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ مجھے ووٹ دیں گے تو میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دوں گا؟‘ کیا اب آپ کے گھر میں بجلی جاتی ہے؟ دیکھا! جیسے میں نے کہا تھا میں نے ویسے ہی کیا اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا! اب مجھے ایک اور دفعہ ووٹ دیں پھر میں غربت‘ بے روزگاری کو بھی ختم کر دوں گا۔‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہ توانائی کے شعبے میں پیداواری منصوبے سے زیادہ ایک سیاسی حکمت عملی تھی جس طرح دوہزار تیرہ میں بھی ہواتھا مگر منصوبے میں ایک جو سب سے بڑی کمزوری ہے وہ یہ حقیقت کہ عام انتخابات منعقد ہونے سے قبل تین ماہ تک ایک عبوری حکومت قائم ہوگی۔ شرط لگائی جا سکتی ہے کہ حکومت اقتدار عبوری حکومت کو سونپنے سے قبل اپنے پیچھے ایندھن کا اچھا خاصا ذخیرہ چھوڑ جائے گی اور بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کے بھاری بقایاجات معاف کر دے گی کیونکہ یہ وہ دو اہم چیزیں ہیں جو انتہائی اہم موڑ پر جب بجلی کی پرسکون روانی کی سب سے زیادہ ضرورت بھی ہوگی‘ توانائی کے شعبے کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہیں چونکہ حکومت کی منتقلی جون میں مالی سال ختم ہونے سے قبل ہو گی‘ بقایاجات کی معافی کا اندازہ حکومت کے آخری سال کے مالی خسارے کے اعداد سے ہی لگایا جا سکے گا جو باقی تمام اہداف کو متاثر کر سکتا ہے مگر کیا ان اہم مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر ادائیگیاں یا ایندھن کی غلط ذخیرہ اندوزی کرنا ٹھیک ہے یا پھر غیر معمولی طور پر گرم اپریل‘ جس کی وجہ سے بجلی کی طلب میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے‘ میں لوڈشیڈنگ واپس لوٹ سکتی ہے کیونکہ باآسانی ٹربائنز کو چلائے رکھنے کی وسیع تر حکمت عملی پر عملدرآمد کی صلاحیت عبوری حکومت کے پاس محدود ہوگی اگر ایسا ہوتا ہے‘ تو انتخابات میں نواز لیگ کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: خرم حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)