بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مزار شریف دھماکہ کے بارے میں اہم انکشافات

مزار شریف دھماکہ کے بارے میں اہم انکشافات

کابل ۔ مزار شریف میں افغان فوجی چھاؤنی پر حملہ کرنے والے طالبان 2 فورڈ رینج فوجی گاڑیوں پر سوار ہوکر آئے تھے جن کی تعداد 10 تھی اور ان میں سے ایک زخمی حالت میں نظر آرہا تھا۔ افغان اہلکاروں کے مطابق جب فوجی وردی میں ملبوس طالبان کی دونوں گاڑیوں کو پہلی چیک پوسٹ پر روکا گیا تو انہوں نے جعلی فوجی کارڈ دکھائے ٗاس کے ساتھ ہی پہلی گاڑی میں موجود خود کو زخمی فوجی ظاہر کرنے والے نے انہیں کہا کہ اسے ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہے جس پر افغان فوجیوں نے بیریئر اٹھالیا اسی طرح وہ دوسری چیک پوسٹ سے بھی گزرگئے، تاہم تیسری چیک پوسٹ پر جب ان سے گنیں حوالے کرنے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔

ایک افغان فوجی نے بتایا کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دونوں گاڑیوں میں موجود وردی میں ملبوس افراد قریبی صوبے فاریاب میں آپریشن کرکے لوٹ رہے ہیں اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہے۔ اگر اسے فوری طبی امداد نہ ملی تو وہ مرسکتا ہے، کیونکہ مذکورہ جعلی فوجی کا چہرہ خون آلود نظر آرہا تھا۔ افغان اہلکار کے مطابق بظاہر زخمی ساتھی کو دیکھ کر ہم نے سکیورٹی پروٹوکول میں نرمی دکھائی، جس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ تیسری چیک پوسٹ پر روکنے کے بعد دو حملہ آوروں نے خود کش دھماکے کردئیے جبکہ دیگر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔

اہلکار کے مطابق تیسری چیک پوسٹ کے بعد حساس علاقہ شروع ہوتا ہے، جہاں عام فوجیوں کو اسلحہ لیجانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لئے وہاں اہلکار غیر مسلح تھے، جو آسانی سے طالبان کا شکار بنتے گئے۔ایک زخمی افغان فوجی افسر ذبیح اللہ کے مطابق ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کون کس سے لڑرہا ہے کیونکہ حملہ آور بھی فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔ ہم جیسے ہی مسجد سے باہر آئے، ہم نے ایک تیز رفتار گاڑی اپنی طرف آتے دیکھی جس میں 4 افراد سوار تھے۔ ہم نے یہی سمجھا کہ یہ افغان فوجی ہیں۔

ا سی اثناء میں انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ چھاؤنی کی سکیورٹی بہت سخت ہوتی ہے اور فوجیوں کو بھی شناخت کی سخت چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت دی جاتی ہے ٗمجھے سمجھ نہیں آرہا کہ طالبان اندر کیسے داخل ہوگئے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد رمضان نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور اپنے ساتھ ایک جعلی زخمی فوجی بھی ساتھ لائے تھے۔