بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / طیبہ تشدد کیس کا چالان عدالت میں پیش

طیبہ تشدد کیس کا چالان عدالت میں پیش


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج کی ا ہلیہ کے ہاتھوں تشددکا شکار ہونے والی بچی طیبہ کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران فریقین کو ہدایت کی ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت کی طرف سے لائے گئے بل کا جائزہ لے کر اپنا موقف ایک ہفتے میں عدالت میں پیش کرے ۔ منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ایڈووکیٹ جنرل میاں عبد الروف نے بتایا کہ طیبہ تشدد کیس کا چالان پیش کر دیا گیا ہے اورکیس ٹرائل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر ہو گیا ہے ۔ جہاں کیس کی سماعت 27 اپریل کو مقرر ہے اور مقدمہ کے ملزمان کو سمن جاری کر دئیے گئے ہیں ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے جمع درخواست میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے حوالے سے موجودہ قانون میں سقم موجود ہے ۔ اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے بتایا کہ وزارت قانون نے بچوں کے تحفظ کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے اس پرکام جاری ہے میں وہ بل عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمہ میں دو معاملات ہیں ۔ پہلا معاملہ طیبہ پر تشدد کے حوالے سے فوجداری ہے جبکہ دوسرا معاملہ ملکی سطح پر قانون سازی کے حوالے سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر تحفظ شدہ حالات ہیں اور یہ سماجی برائی بھی ہے ۔ بچوں کے تحفظ کا معاملہ بھی ہے اس حوالے سے قانون سازی ضروری ہے ۔

اس دوران سول سوسائٹی کی نمائندہ طاہرہ عبد اللہ سے استفسار کیا کہ ان کی تنظیم اس حوالے سے کیا کر رہی ہے انہوں نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے ملک میں کوئی واضح قانون موجود نہیں ۔ عدالت صوبوں کو حکم دے کہ بچوں کے گھروں میں کام کرنے کے حوالے سے بھی قانون سازی کریں اور بچوں کی سمگلنگ کے معاملات بھی انتہائی سنگین ہیں ۔ غربت کے باعث بچوں کی فروخت نہیں ہونی چاہیے ۔ اگر ملک میں بچوں کو مفت تعلیم مل رہی ہوتی تو بچوں کی فروخت نہ ہوتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے اس مقدمے کو اس وقت اٹھایا جب تشدد کا شکار بچی کے والدین سمجھوتہ کر چکے تھے ۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا ۔ بچوں کی جبری مشقت معاشرتی ناسور ہے ۔

انہوں نے ڈومیسٹک ورکرز ایمپلائمنٹ بل 2013 ء میں سینٹ میں پیش ہوا تھا اس کا کیا بنا ۔ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس ناسور کے خاتمے کا بل تیار کر لیا ہے ۔ بل پر سول سوسائٹی سے تجاویز لے کر حکومت کو آگاہ کروں گا ۔ اس موقع پر عدالت نے مجوزہ بل طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بل عدالت میں بھی پیش کیا جائے اور تمام فریقین کو اس کی کاپیاں دی جائیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ حکومت اس حوالے سے کیا کر رہی ہے ہم بہت محتاط ہیں قانون سازی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ۔ اس معاملے کو عدالت کی طرف سے اٹھائے جانے کے بعد کم از کم یہ ادراک ضرور ہوا ہے کہ یہ معاشرتی ناسور موجود ہے جس کا خاتمہ کرنا ہو گا ۔

اس کے لیے دو طریقے اپنائے جا سکتے ہیں ایک تو حکومت قانون سازی کرے اور دوسرا پرائیویٹ بل بھی پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے بچوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے جو بل تیار کیا گیا ہے اس میں کون سے پہلو سامنے رکھے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے سول سوسائٹی اور عدالتی معاونین سے کہا کہ اس بل کا جائزہ لے کر اپنی تجاویز تیار کر کے عدالت میں پیش کریں ۔ عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی ۔