بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / عراقی فورسز کا موصل کے بڑے علاقے پر قبضہ

عراقی فورسز کا موصل کے بڑے علاقے پر قبضہ

بغداد۔عراقی سیکورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے خلاف ایک ہفتے کی سخت لڑائی کے بعد ایک بڑے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراقی فوج کے اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب الساعدی نے موصل میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ انسداد دہشت گرد سروس کے ہیروز غربی موصل کے علاقے التنک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔جنرل ساعدی نے بتایا ہے کہ التنک قدیم شہر کے مغربی کنارے میں واقع ہے اور یہ موصل کے مغربی حصے کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔یہ دہشت گرد گروپوں کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے۔اس علاقیمیں عراقی فورسز اور داعش کے درمیان ایک ہفتے تک شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ لڑائی کے دوران میں بیس سے زیادہ کار بموں کو تباہ کیا گیا ہے ،بیسیوں دہشت گرد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ان کی لاشیں اس وقت بھی گلیوں، بازاروں اور مکانوں کے اندر پڑی ہیں۔

عراقی فوج کے کمانڈروں کے تخمینے کے مطابق اس وقت داعش کے چند ایک سو جنگجو ہی مغربی موصل میں رہ گئے ہیں۔ان میں سے بیشتر نے قدیم شہر میں رہ جانے والے شہریوں کے مکانوں میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔عراقی فورسز نے قبل ازیں قدیم شہر کے جنوبی ،مغربی اور شمالی حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ اب انھوں نے داعش کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا ہے اور وہ آخری مگر فیصلہ کن معرکے کی تیاری کررہی ہیں۔واضح رہے کہ عراقی فورسز نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے دریائے دجلہ کے مشرق میں واقع حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اب وہ داعش کے آخری مضبوط گڑھ شہر کے مغربی حصے پر قبضے کے لیے کارروائی کررہی ہیں لیکن داعش کے جنگجو شہر کے گنجان آباد قدیم حصے میں عراقی فورسز کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔وہ قدیم شہر کی تنگ وتاریک گلیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور وہاں رہ جانے والے شہریوں کو عراقی فورسز کے خلاف جنگ میں اپنے دفاع کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

تنگ گلیوں کی وجہ سے عراقی فورسز کی قدیم شہر میں نقل وحرکت محدود ہوچکی ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے توپ خانے اور فضائی قوت کا بھی محدود استعمال کررہی ہیں اور اب داعش سے دوبدو لڑائی ہی ان کے لیے واحد راستہ رہ گیا ہے۔داعش نے جون 2014 کے بعد عراق کے بیشتر شمال اور شمالی مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے فوج اور دوسری عراقی فورسز کو نکال باہر کیا تھا۔اس طرح اس کا عراق کے قریبا چالیس فی صد علاقے پر قبضہ ہوگیا تھا۔عراقی فورسز نے گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کی لڑائی کے بعد داعش سے بیشتر علاقے واپس لے لیے ہیں اور اب اس تنظیم کے زیر قبضہ عراق کا صرف 6.8 فی صد علاقہ رہ گیا ہے۔اس جنگجو گروپ کا اس وقت عراق کے شمالی قصبوں قائم ،تلعفر اور حوائجہ پر کنٹرول برقرار ہے۔