بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں سی پیک سیمینار

خیبر پختونخوا میں سی پیک سیمینار


پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر ویز خٹک نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی طرف سے پشاور میں سی پیک سیمینار کے انعقاد کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ مجوزہ سیمینار آئندہ ماہ جولائی میں منعقد کیا جائے۔ صوبائی حکومت خود بھی جولائی میں سمینار کرنا چاہتی ہے جس میں چینی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا ماضی کے برعکس اب سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین بن چکا ہے اور چین سمیت دنیا بھرسے سرمایہ کاریہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ ہم سی پیک سے عام آدمی کو نفع پہنچانے کیلئے بھی سکیمیں پلان کر رہے ہیں۔ ہماری ترقیاتی حکمت عملی پنجاب سے مختلف ہے۔ ہمارے وسائل صرف پشاور میں ہی نہیں بلکہ پورے صوبے میں خرچ ہورہے ہیں۔ ہمارا ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبہ ملک کے دیگر منصوبوں سے زیادہ با سہولت، دیرپا اور نفع بخش ہوگا۔سات رابطہ روٹس، متعدد اضافی فیچرز اور مربوط سہولیات کے باوجود پشاور بس ریپڈ منصوبے کی لاگت پنجاب میٹرو سروس کے مقابلے میں بہت کم ہے جس پرصوبائی حکومت کو سبسڈی بھی نہیں دینا پڑے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سیکرٹری جنرل کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اعجاز الحق کی سربراہی میں کونسل کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی مشیر برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، سیکرٹری اطلاعات ارشد مجید اور ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات سید امیر حسین شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے قومی تعمیروترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ اب ماضی کے رحجانات میں تبدیلی لاکر زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہم سب کا ملک ہے جسے ہم نے اجتماعی کاوشوں سے ٹھیک کرنا ہے۔ پرویز خٹک نے واضح کیا کہ صوبے میں نظام کی تبدیلی اور اداروں کی بحالی ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ تاہم تعمیراتی منصوبے بھی اپنی جگہ جاری ہیں ہم گزشتہ 70 سال کے تباہ حال اداروں اور ٹوٹے پھوٹے انفراسٹکچر کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ میڈیا کو چاہئے کہ وہ ماضی کے تباہ حال اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اداروں کی بحالی کے اقدامات کو بھی اجا گر کرے۔ میڈیا خود وزٹ کرے اور زمینی حقائق کے مطابق ہمارے اصلاحاتی و ترقیاتی اقدامات کا ماضی اور دیگر صوبائی حکومتوں سے موازنہ کرے۔

وزیراعلیٰ نے پشاور ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کا پنجاب سے موازنہ کر تے ہوئے کہا کہ ہم نے اس منصوبے کی مجوزہ لاگت کا ایک ایک پیسہ بتا دیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے حقیقی لاگت چھپائی ہوئی ہے کیونکہ وہ اندر کے حقائق سے ایک دوسرے کو بھی باخبر نہیں کرتے۔ اسکے برعکس ہمارا سسٹم شفاف اور واضح ہے کیونکہ ہم صوبے کے مستقبل کا سوچتے ہیں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم بے ہنگم اور بے ربط اقدامات نہیں اٹھا رہے ہم کوئی ایسا سٹرکچر کھڑا نہیں کریں گے جو صوبے کے وسائل پر بوجھ بنے بلکہ ہمارا سٹرکچر اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہو گا۔ یہ بین الاقوامی نوعیت کا بہترین پراجیکٹ اور اپنی نوعیت کے دیگر منصوبوں سے بالکل منفرد ہو گا۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ پنجاب اور ملک میں دیگر منصوبوں نے ٹریفک کے مسائل حل نہیں کئے جبکہ ہمارا منصوبہ ٹریفک کے تمام مسائل کا کل وقتی حل دے گا۔یہ سات رابطہ روٹس کے ذریعے 5 لاکھ کے قریب مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا۔منصوبے کے تحت کمرشل سرگرمیوں سے جو وسائل پیدا ہونگے وہ اس پراجیکٹ کو چلانے کے لئے صرف کئے جائیں گے۔اس میں انٹرنیشنل میعار کی سو میٹر کے فیصلے پر کراسنگ ہو گی۔

رابطہ روٹس پر 9میٹر جبکہ مین کوریڈور پر 12میٹر طویل ائیرکنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی۔ پیدل چلنے والوں اور سائیکل وغیرہ کے لئے علیحدہ انتظام ہو گا۔ڈپو میں مسافروں کے اترنے اور سوار ہونے کا بہترین انتظام ہو گا۔پارکنگ کے لئے مختلف پاکٹس ہونگے جن میں جدید سہولیات ہونگی۔ملحقہ علاقے جیسے کہ جی ٹی روڈ سے ہسپتال تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے گا۔اس منصوبے سے روزگار کے 5ہزار مواقع پیدا ہونگے۔اس منصوبے کے تحت ہم جو اضافی فیچرز اور مربوط سہولیات دے رہے ہیں وہ پنجاب میٹرو سروس میں دستیاب نہیں ہیں اسکے باوجود پنجاب میٹرو سروس کی لاگت ہمارے منصوبے کی مجوزہ لاگت سے 20ارب روپے زیادہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بیجنگ روڈ شو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انکی کوشش ہے کہ کوئی منصوبہ بھی قرض پر نہ لیں جتنے منصوبوں پر ایم او یو ہو چکے ہیں وہ ہم BOTپر کریں گے۔شعبہ صحت میں اصلاحاتی اقدامات کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتال مثالی بن چکے ہیں۔ یہ واحد حکومت ہے جس نے ہسپتالوں کو خود مختاری دی۔ ڈاکٹروں کی تنخوائیں 45ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کر دی گیءں۔اب تمام اضلاع میں ڈاکٹر موجود ہیں۔شعبہ تعلیم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم 40ارب روپے سے زیادہ سٹرکچر اپ گریڈ کرنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی تباہی دکھانے کے ساتھ ساتھ گذشتہ چار سالوں میں موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات ، فراہم کی گئی سہولیات اور دیگر امور کو بھی اجاگر کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگوں کو ماضی کی ٹوٹی پھوٹی تباہ حال عمارت تو نظر آتی ہے مگر اس کے قرب میں یا اسی چاردیواری کے اندر ہماری تیار کی گئی دو منزلہ عمارت نظر نہیں آتی۔ماضی کی کمیشن زدہ عمارتوں اور تباہ انفراسٹکچر کو ہمارے کھاتے میں ڈال کر عوام کو دکھایا جاتا ہے۔مگر جو ادارے ہم نے ٹھیک کئے،جو عمارتیں ہم نے تعمیر کیں اور جو سہولیات گذشتہ چار سالوں میں ہم دے چکے ان کو نہیں دکھایا جاتا۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پشاور میں ماضی میں کسی نے ایک پھول تک نہیں لگایا مگر ہمارے اقدامات کی وجہ سے اب پشاور کے پارکس دیکھنے کے قابل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر سیکرٹری جنرل کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز اعجاز الحق کو 20ملین روپے گرانٹ کا چیک بھی پیش کیا۔