بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / شام، یمن، افغانستان تنازعات مشترکہ چیلنج

شام، یمن، افغانستان تنازعات مشترکہ چیلنج

ماسکو ۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر” مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں سنگین مسئلہ ہے اسے حل نہ کیا گیا تو اس سے پورے خطے کے امن واستحکام کو خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، شام، یمن، افغانستان اور شمالی افریقہ کے تنازعات بھی مشترکہ چیلنج ہیں۔ ماسکو کانفرنس مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کرے ہیمں ان مسائل پر بھی بات کر نا ہو گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز روس میں بین الاقوامی سلامتی کے بارے میں چھٹی ماسکو کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہو کیا ۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہشتگردی ، سماجی واقتصادی عدم مساوات ، ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سمیت مشترکہ مسائل کے علاوہ شام ، یمن ، عراق ، افغانستان اور شمالی افریقہ میں جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لئے کانفرنس کی اہمیت پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ ماسکو کانفرنس مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کرے ہیمں ان مسائل پر بھی بات کر نا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی طاقت کے ہمہ جہتی مراکز ، اقتصادی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرنے اور سیاسی اور تزویراتی اتحاد کو نیا رخ دینے کا دور ہے ۔انہوں نے چھٹی ماسکو سلامتی کانفرنس کی میزبانی پر روسی فیڈریشن کی وزارت دفاع کا شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ 21 ویں صدی کئی کثیرالجہت قوموں کا دور ہے۔

21 ویں صدی اقتصادی بحالی اور ایک دوسرے پر انحصاری کا دور ہے۔ آج کا دور سیاسی حکمت عملی کے الائنسز کو دوبارہ استوار ہے۔ وزیر ددفاع کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو یہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لئے خطرہ ہو گا۔ واضح رہے کہ وزیر دفاع چھٹی ماسکو کانفرنس میں شرکت کے لئے روس کے دورے پر ہیں۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ایران، برازیل اور بھارت کے وزرائے دفاع نے بھی شرکت کی۔