بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / تعمیر میں مضمر فوائد

تعمیر میں مضمر فوائد


اس مرتبہ گویا مجھے باؤلے کُتے نے کاٹا کہ بنے بنائے گھر میں تھوڑی سی تبدیلی چاہی ‘یہ گھر میں نے دس سال بیشتر بنایا تھا لیکن بیچ میں چار پانچ سال میں ملک سے باہر زیادہ اور اندر کم رہا۔ جب بھی باہر بمع فیملی جاتا تو گھر کی چوکیداری اپنے بااعتماد ڈرائیور کو سونپتا اور خدا اسکا بھلا کرے کہ گھر کی خوب حفاظت کرتا رہا۔ تاہم گھر میں مسلسل نہ رہا جائے یا مرمت طلب معاملات نظر اندازکئے جائیں تو پھر ان پر زیادہ خرچ آتا ہے اسی لئے گھر میں کہیں سے پلستر اکھڑ گیا تھا اور کہیں غسل خانوں کی دیواروں میں پانی رستا رہا۔ بیگم کو شوق چرایا کہ کیوں نہ باورچی خانے کو بھی تھوڑاکشادہ کیا جائے میرا گھر آج سے دس سال قبل میرے ایک دوست شہباز نے بنا کر دیا تھا۔ موصوف اپنی تعمیر کے معیار کیساتھ بہت مشہور ہیں۔ بچے ان کے بڑے ہوگئے ہیں اسلئے میاں بیوی دونوں تعمیر کے کاروبار میں شانہ بشانہ کام کرتے ہیں اگر شہباز کو اچھے کاریگر کی پرکھ ہے تو بیگم صاحبہ کاذوق بھی بڑا لطیف ہے یوں دونوں مل کر نہایت خوبصورت اور پائیدار گھر بناتے ہیں۔ اسی سلسلے میں نہ صرف تعمیر کے سامان کی ضرورت پڑی بلکہ باتھ روم کے ٹائیلوں وغیرہ کا بھی انتخاب کرنا تھا۔ اچھے معیارکا سامان اسلام آباد اور پنڈی میں زیادہ ملتا ہے اور ویرائٹی بھی وہاں بہت ہے ۔ اس لئے پچھلے ویک اینڈ پر میرے دوست شہباز اور ان کی بیگم ہمیں ساتھ ہی لے گئیں۔ وہاں واقعی نہ صرف معیاری بلکہ ویرائٹی بھی اچھی ملی لیکن وہاں پر بزنس کے نئے طور طریقوں کا انکشاف بھی ہوا سب سے پہلے تو یہ ایک بازاری اصول بنایا گیا ہے کہ جہاں سے بھی آپ خریداری کریں،دکاندار قیمت کیساتھ ساتھ آپکا مکان بنانے والے ٹھیکیدار کا کمیشن بھی وصول کریگا۔

بلکہ یہ شے کی قیمت میں شامل ہوتی ہی ہے۔ وہ تو ہمارے دوست شہباز کا خدا بھلا کرے کہ وہ کمیشن انہوں نے ہمیں لوٹا دیا۔ اور یاد رکھئے کہ یہ کمیشن دو فیصد سے لے کر تیس چالیس فیصد تک ہوسکتا ہے اب میں نہیں جانتا کہ دکاندار سے یہ کمیشن کیسے وصول کیا جائے۔ شاید یہ بتانے پر کہ آپ خود ٹھیکیدار ہیں، وہ آپ کیساتھ رعایت کردے اگرچہ بنیادی اشیاء جیسے اینٹ، بجری، سریا کی قیمت کا ایک رینج مقرر ہے۔ تاہم دوسری تمام اشیائے تعمیر کی قیمت میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ دکاندار اور کارخانہ دار آپ کے خیال سے بھی زیادہ منافع کمارہے ہیں۔ چین کے میدان میں آنے سے مکان اور بلڈنگوں کے سامان کی قیمت میں اتنی کمی آئی ہے کہ ہر سال قیمت بڑھنے کی بجائے مسلسل گھٹتی جارہی ہے سینیٹری اور دروازوں کے مصنوعات کی بین الاقوامی برانڈز بھی اب چین ہی میں وہی سامان تیار کررہی ہیں اور اس سے بھی قیمت میں کمی کا رجحان ہوتا ہے۔ لیکن بات وہیں پر اصل اور نقل کی آجاتی ہے۔ نقل بھی کئی درجے کی ہوتی ہے اور ایک عام آدمی جسکو تعمیر کی شُدھ بدھ نہیں ہوتی، اس خریداری میں مار کھاجاتا ہے پاکستان میں تعمیر کا میدان ایک تشنہ کاروبار ہے یہاں اس وقت کم از کم نوے لاکھ مکانوں کی قلت ہے اگر اس میدان میں حکومت تھوڑی بہت محنت کرے ، معیاری قوانین بنائے، زمین کو پراپرٹی ڈیلروں سے بچا کررکھے اور صرف بنجر زمینوں پر پلاٹنگ کا قانون بنائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس سے پورے ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع نکل آئیں۔ صرف اس ایک تحریک سے کم از کم پینتالیس صنعتوں کا پہیہ رواں ہوسکتا ہے۔ مہذب ممالک میں یہ سارا کام تعمیراتی کام کی ماہر کمپنیاں کرتی ہیں لیکن حکومت کا جاری کردہ معیار برقرار رکھتی ہیں۔ حکومت کے پاس ہزاروں ایکڑ بنجر زمین ہوتی ہے جسے وہ پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر ڈویلپ کرسکتی ہے۔

بینکوں سے آسان قرضے ہی پوری دنیا میں تعمیر کی شمع جلائے رکھتے ہیں۔ یہ قرضے افراد کو بھی دستیاب ہوتے ہیں اور تعمیراتی کمپنیوں کو بھی۔ یوں عوام میں سے بے گھر افراد کو فی خاندان بلاسود قرضہ دیا جاسکتا ہے جسے وہ دس سے تیس برس کی عمر میں اداکرسکتا ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں تعمیر کے کام میں انقلابات آرہے ہیں۔ ماڈُولر ہوم وہ گھر ہوتے ہیں جن میں معیاری یونٹ استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے کھڑکیوں کے چند ہی سائز دستیاب ہوتے ہیں۔ دروازے بھی چند ایک ہی سائز کے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح بنی بنائی دیواروں کے یونٹ ہوسکتے ہیں اور وہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کئے جاتے ہیں اور گھر کی تعمیر سالوں کی بجائے ہفتوں اور مہینوں میں ممکن ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ماحول دوستی کا ایک جز یہ ہے کہ مکان توانائی میں بچت کرے۔ شدید موسم سے بچنے کیلئے دیواروں اور کھڑکیوں کو موسم پروف بنایا جاسکتا ہے۔ سولر پاور اس وقت توانائی کاایک ایسا ذریعہ ہے جو نہ صرف لامحدود ہے بلکہ ایک دفعہ خرچ کرنے کے بعد مفت میں پڑتا ہے۔ اب تو ایسی کھڑکیاں بھی بننے لگی ہیں جو سولر پینلوں کی شکل میں بیک وقت توانائی بھی پیدا کرتی ہیں۔ حفاظتی نظام ایک الگ شعبہ ہے جس طرف ہمارے بڑی بے حسی پائی جاتی ہے۔ آگ‘ زلزلے اور دوسرے آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے معمولی رقم کے اضافے کیساتھ بندوبست کیا جاسکتا ہے۔ مجھے اس وقت جس چیز کی کمی محسوس ہورہی ہے وہ ہے ہنرمند کاریگرکی۔ پختونخوا میں بدقسمتی سے اس طرف لوگوں کا دھیان ہی نہیں جاتا اور مجبوراً ہمیں اچھے ٹائلز لگانے والے بھی پنجاب سے منگوانے پڑتے ہیں۔ سٹیل کا کام اس وقت بھی پورے صوبے میں زیادہ تر پنجاب کے باشندوں کے ہاتھ میں ہے۔

مقبول عام تعلیم ضروری ہے لیکن وہ ابتدائی درجوں تک۔ اسکے بعد جیسا کہ جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں نوے فیصد طلبہ فنی ہنر کی طرف جاتے ہیں، ہمیں ان فنّی اداروں کی شدید ضرورت ہے آج کے دور میں تو غیر ہنرمندوں سے اینٹیں بھی نہیں لگوائی جاتیں مشرق وسطیٰ میں پختونخواسے زیادہ تر غیر ہنرمند مزدورہی بھیجے جاتے ہیں جو نہ صرف کم کماتے ہیں بلکہ ان کے کام کا دورانیہ اور ماحول بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں چوکیداروں‘ڈرائیوروں اور بیلچے کے مزدوروں کے ایکسپورٹ سے اب نکلنا چاہئے۔ اگر صوبے میں ہنر مند افراد کی تعداد بڑھ جائے تو لوکل کھپت بھی کافی ہوسکتی ہے ایک معمولی لیکن تربیت یافتہ الیکٹریشن ایم اے پاس نوجوان سے ہر صورت میں زیادہ کماسکتا ہے۔ ہوم اکنامکس کی پروفیسر سے زیادہ کمائی ایک اچھی زنانہ ٹیلر کی ہوسکتی ہے۔ تجارت اور کسی بھی پیشے میں کامیابی کیلئے دیانتداری اور مناسب منافع ضروری ہوتے ہیں خیانت کرنیوالے یا عیب دار مال بیچنے والے کچھ عرصے میں تو شاید زیادہ کماسکیں لیکن نہ تو وہ کمائی برقرار رہ سکتی ہے اور نہ ہی اس میں برکت ہوتی ہے۔ کم منافع کیساتھ اللہ کاروبار میں برکت بڑھادیتا ہے جھوٹ جو تمام برائیوں کی جڑ ہے‘ تجارت اور کاروبارکیلئے سمِّ قاتل ہے۔ ایک ہزار سال تک دنیا کی سپرپاور رہنے والا مسلم دور صرف اور صرف صاف و شفاف تجارت و کاروبار کی بنیاد پر قائم رہا۔ آج محض اس جھوٹ کی بنیاد پر پوری دنیا ہم پر تنگ ہورہی ہے۔