بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیا کارنامہ

نیا کارنامہ

شروعات تو اچھی ہی ہوئی ہے اور امید نظر آتی ہے کہ انجام بھی اچھا ہی ہو گا۔ ایک ارمان ہماری ٹیم کو یہ تھا کہ اُس نے کبھی بھی ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی اس دفعہ ان کے ہوم گراؤنڈ پر ان کو ٹی ٹوینٹی اور ون ڈے میں شکست دینے کے بعد ٹیسٹ سیریز کی شروعات ہیں ۔ پہلے ٹیسٹ میں تو کامیابی سمیٹ ہی لی ہے اور اب امید یہ بھی لگ گئی ہے کہ انشاء اللہ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں بھی کامیابی ملے گی ۔ اس لئے کہ یوں لگتا ہے کہ ٹیم میں جو چپقلشیں ہوا کرتی تھیں وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتیں ۔ کپتان کا دھیمہ لہجہ کچھ زیادہ ہی کار گرنظر آتا ہے اور کپتان مصباح الحق اوریونس خان اپنے آخری ٹیسٹ میچ کو یاد گار بنانے کی کوشش میں ہیں اور ان دونوں کی کامیابی کے لئے پوری قوم بھی دست بدعا ہے کہ ان دونوں کو آخری ٹیسٹ میں اللہ کریم سرخرو کرے اور یہ بھی کہ مصباح الحق کی کامیابیوں میں مزید اضافہ ہو کہ اس کپتان کے زیر قیادت پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میں سب سے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں یہ آخری کامیابی ایک ایسی ٹیم کے خلاف ہو جائے کہ جس سے پاکستان کبھی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتا تو ایک تاریخ رقم ہو جائے گی۔پہلے ٹیسٹ میں تو پاکستانی ٹیم شروع سے ہی چھائی نظر آئی ۔ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے عباس نے پہلے ہی اوور میں ایک وکٹ لے کر مخالف ٹیم کا مورال ڈاؤن کر دیا تھا ۔ گو اس اننگز میں اسے مزید کامیابی نہ مل سکی مگر ابتدا ہی میں دوسری ٹیم کو دباؤ میں لانے کا جو کارنامہ اس نے انجام دیااس نے ویسٹ انڈیزٹیم کے حوصلے کو مات دے دی۔

اس کے بعد ٹیم جم کر نہ کھیل سکی اور جلد ہی آؤٹ ہو گئی دوسرے دن کا کھیل بارش نے متاثر تو کیا مگر پھر بھی کم اوورز میں پاکستان نے دو وکٹیں حاصل کر کے انکی مزید حوصلہ شکنی کر دی ہمارا خیال تھا کہ چونکہ کھیل کا ایک پورا دن ضائع ہو گیا ہے اس لئے اب میچ ڈرا کی طرف ہی جائے گا مگر پاکستان ٹیم کے دو لوگوں نے اس ٹیسٹ کو یادگار بنانے کی ٹھانی تھی اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ یونس خان کے دس ہزار رنز بھی پورے ہوئے اور مصباح بھی اپنی پوری ٹُک ٹُک کے ساتھ کریز پر جمے رہے بد قسمتی سے وہ کچھ کرنے سے قاصر رہے جو وہ کئی دفعہ پہلے بھی نہ کر سکے یعنی سنچری کے قریب پہنچ کو آؤٹ ہو گئے تا ہم اتنی لیڈ لے لی کہ اگلی اننگز میں مخالف ٹیم کو بہت کم سکور پر پویلین بھیج دیااور یہ سکور تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا ویسے ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ہمارے اوپنر ذرا سا دھیان سے کھیلتے اور مخالف ٹیم کو دس وکٹوں سے شکست دیتے اس لئے کہ ان کی لیڈ ایسی نہ تھی کہ ہمارے اوپنر حاصل نہ کر سکتے مگر شاید کچھ زیادہ ہی کانفیڈنس نے ان کو جلد واپس جانے پر مجبور کر دیا۔لڑکوں کو اس بات کا خیال بھی رکھنا ہو گا کہ ویسٹ انڈیز کوئی معمولی ٹیم نہیں ہے اور اس کو دل لگا کر کھیلنے سے ہی ہرایا جا سکتا ہے۔

اس دفعہ باؤلروں نے بھی اپنا کمال دکھایا اور یاسر شاہ نے ایک دفعہ پھر اپنے گھماتے بالوں سے ویسٹ انڈینزکوپریشان کیا اور ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی حاصل کیاور مرد میدان بھی بنے، امید ہے کہ اگلے ٹیسٹوں میں بھی ہمارے باؤلرز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اور بلے باز بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ اگلے ٹیسٹوں میں مصباح اوریونس خان سنچریاں بنانے کے کوشش کریں گے ۔اور خدا کرے کہ جاتے جاتے یونس خان اپنی ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ مزید بہتر بنائیں اور مصباح بھی اپنی کپتانی کو مزید یادگار بنائیں ۔ یو ں بھی ان دونوں نے تاریخ تو رقم کر دی ہے کہ ایک نے پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے اور دوسرے نے پاکستان کا پہلا بلے باز ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے کہ جس نے دس ہزار رنز کی حد کو عبور کیا ہے ۔اب ہماری ٹیم کے نئے لڑکوں کو ان سینئر ز کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جس حوصلے کے ساتھ ان لوگوں نے کھیلا ہے اور کسی جھنجٹ میں نہیں پڑے ہمارے نئے لڑکے بھی کرکٹ سے اور ٹیم سے سیاست کو بھگا کے دم لیں گے اور ہر لڑکا پاکستان کیلئے کھیلے گا اور اپنی ذات کے لئے نہیں کھیلے گا۔مسئلہ یہی رہا ہے کہ ہماری ٹیم نے ہمیشہ سیاست میں پڑ کر خود کو ناکامیوں میں ڈالا ہے اگر سیاست نہ کریں اور کپتان کو کپتان مانیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری ٹیم اپنی پوزیشن بہتر نہ بنا سکے۔