بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا موقف اور عالمی برادری

پاکستان کا موقف اور عالمی برادری

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی بریفنگ میں عالمی منظرنامے اور خطے کی صورتحال کے تجزیے کیساتھ پاکستان کی حکمت عملی کے نمایاں خدوخال کا احاطہ کیا گیا ہے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کوافغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے متعلق مسلسل آگاہ کیاجارہا ہے پاکستان بھارت کے حوالے سے یہ بات واضح کرتا ہے کہ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا کل بھوشن کے اعترافی بیان سے پاکستان میں دیگر دہشت گرد نیٹ ورک توڑنے میں مدد ملی دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بے سروپا بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے مقبوضہ وادی میں شہریوں پر ہونے والے مظالم کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی گئی ہے افغانستان کے حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے خود افغان صوبہ بلخ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشتگرد حملوں پر مورد الزام ٹھہرانا اندرونی مسائل سے نظر چرانے کی کوشش ہے پاکستانی موقف اجاگر کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہتے ہیں کہ بھارت نے امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا بارڈر مینجمنٹ کے لئے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے امید ہے افغانستان بھی مزید موثر اقدامات کرے گا افغانستان ہو یا بھارت پاکستان کی پالیسی اور مثبت عملی اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ایسے میں ذمہ داری عالمی برادری کی ہی بنتی ہے کہ وہ خطے میں امن کیلئے کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی موقف کو سپورٹ کرے ‘ جو برسرزمین حالات کی روشنی میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کا حق ہے اگر عالمی برادری اس پر خاموش رہتی ہے تو خود اسکی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت ہوتا ہے‘ وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ بھی کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ اس کی ساکھ متاثر نہ ہونے پائے۔

اب عملی نتائج کی ضرورت

خیبر پختونخوا حکومت نے ڈاکٹروں کی پروموشن کیلئے4درجاتی فارمولہ کے تحت نئے سروس سٹرکچر کی منظوری دے دی ہے ‘ اس میں گریڈ 18سے20تک کی آسامیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اسی روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 30 ٹرینی رجسٹراروں کی تعیناتی کے احکامات جاری ہوئے ہیں اس سے قبل بھی خالی آسامیوں پر تقرری کیساتھ ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کی مراعات کے حوالے سے متعدد فیصلے ہو چکے ہیں حکومت ہیلتھ سروسز کیلئے خاطر خواہ فنڈز بھی فراہم کررہی ہے اس سب کے باوجود برسرزمین حالات میں بہتری نظر نہیں آرہی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیلیور کرنے والے سٹاف کا مطمئن ہونابہتر نتائج کیلئے نا گزیر ہوتا ہے حکومت جب اپنے مہیا وسائل سے صحت کے شعبے اور اس سے وابستہ ملازمین کیلئے فنڈز خرچ کررہی ہے تو لازمی ہے کہ سرکاری شفاخانوں میں بہتری نظر آئے اس بہتری کیلئے چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے بصورت دیگر صرف ماہانہ رپورٹس پر اکتفا کرنا حقائق سے آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے ہمیں فراخدلی کیساتھ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ فنڈز کا استعمال ضیاع کی بجائے ریلیف کا ذریعہ بنے۔