بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا وفد افغانستان روانہ

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا وفد افغانستان روانہ


اسلام آباد۔ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر پاکستان کی تمام اہم جماعتوں کا ایک نمائندہ وفد سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق کی سربراہی میں (آج) ہفتہ کو افغانستان کا دورہ کریگا ٗاس دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کافی عرصے بعد دوطرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائیگا اس سے پہلے کئی مواقع پر افغان رہنماؤں نے پاکستان میں ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت سے انکار کر دیا تھا ۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ترجمان محسن اقبال کے مطابق افغانستان کا دورہ کر نے والے پاکستانی وفد میں سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق ٗقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٗ پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ ٗوفاقی وزیر ہاؤسنگ اور جے یو آئی کے رہنما اکرم خان درانی ٗ وفاقی وزیر میر حاصل بزنجو ٗ بلوچ رہنما محمود خان اچکزئی ٗعوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور ٗپیپلز پارٹی کے سید نوید قمر ٗ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار ٗ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ ٗ سینیٹر مشاہد حسین سید ٗوفاقی وزیر عبد القادر بلوچ ٗ خارجہ امور کمیٹی کے چیئر مین اویس لغاری ٗ وطن قومی پارٹی کے رہنما آفتاب احمد خان شیر پاؤ ٗپاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جی جی جمال شامل ہیں ۔

پاکستانی وفد افغان صدر اشرف غنی ٗ چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور افغان قومی اسمبلی کے سپیکر ابراہیمی کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کریگا ۔افغان اور سرکاری ذرائع نے ’’این این آئی ‘‘ کوبتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جمود گزشتہ ماہ لندن میں پاکستان افغانستان کے مشیروں کے درمیان مذاکرات کے بعد ٹوٹا ہے ۔ برطانیہ کی ثالثی کے ذریعے یہ ملاقات ہوئی تھی پاکستان اور افغانستان کے مشیروں سرتاج عزیز ٗ حنیف اتمر نے دو طرفہ مذاکرات سے معاملات حل کر نے پر اتفاق کیا تھا لندن کے اجلاس میں مفاہمت کی بنیاد پر جمعرات کو پاکستان کے اعلیٰ سطحی فوجی وفد نے بھی کابل کادورہ کیا تھا دورے کا اصل مقصد مزار شریف میں طالبان کے بڑے حملے میں جا ں بحق ہونیوالے فوجیوں کی اموات پر افغان حکام سے تعزیت کر نا تھا لیکن اس دور ان پاکستانی فوجی وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے سرحدی امور بہتر بنانے اور مشترکہ دشمن کے خلاف تعاون کر نے پر زور دیا تھا ۔’’این این آئی ‘‘کو معلوم ہوا ہے کہ پارلیمانی وفد کا دورہ گزشتہ چند ماہ کے دور ان اسلام آباد اور کابل میں ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آیا۔

ملاقاتوں سے آگاہ کئی رہنماؤں نے ’’این این آئی ‘‘ کو بتایا کہ ایک مرحلے پر پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی کابل کا دورہ کیا تھا صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد محمود خان اچکزئی نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے دور ان اپنے دورے کے حوالے سے رپورٹ دی تھی اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمرزاخیل وال نے کئی مرتبہ پشتون سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں کشیدگی ختم کر نے اور اعلیٰ سطحی رابطے بحال کر نے کیلئے مختلف تجاویز دیں ۔ان تجاویز میں پارلیمانی وفد کا دورہ بھی شامل تھا پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورے کے بعد ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے پاکستان کے دوروں کیلئے راہ ہموار ہو جائیگی ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے دونوں رہنماؤں کو دورے کی دعوت دی ہے تاہم کشیدہ تعلقات کی وجہ سے یہ دورے ابھی تک نہیں ہو سکے ۔ذرائع نے ’’این این آئی ‘‘کو بتایا کہ افغانستان کے اہم رہنماحاجی دین محمد نے بھی اسلام آباد کادورہ کیا تھا اور پاک افغان پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ سے کشیدگی کے خاتمے کیلئے بات چیت کی تھی ایک روز قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا تھا کہ ایسے دورے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ایسے دوروں سے پارلیمنٹ اور عوام کے درمیان رابطوں کو مضبوط کر نے میں مدد ملے گی ۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورے سے دونوں ممالک کی جانب سے دی گئی مطلوب افراد کی فہرستوں کے حوالے سے بھی پیشرفت کا امکان ہے ۔