بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ترکی میں اب صدارتی راج نافذ ہوگا، الیکشن کمیشن

ترکی میں اب صدارتی راج نافذ ہوگا، الیکشن کمیشن


انقرہ۔ترکی میں صدار تی راج نافذ ہوگا، الیکشن کمیشن نے حتمی نتائج جاری کر دیئے ،ریفرنڈم کے حق میں 5141 اور مخالفت میں 4859 ووٹ پڑے۔ ترک میڈیا کے مطابق ترک الیکشن کمیشن نے دستور سازی بل کی ترمیم کیلئے 16 اپریل کو منعقدہ عوامی ریفرنڈم کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق ، ریفرنڈم کے حق میں 5141 اور مخالفت میں 4859 ووٹ پڑے ۔مجموعی طور پر ملک بھر میں 55 ملین 3 لاکھ 19 ہزار 222 رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔اس ریفرنڈم کی منسوخی کیلئے حزب اختلاف کی تین سیاسی جماعتوں نے جو درخواست الیکشن کمیشن کو دی تھی وہ بھی مسترد کر دی گئی ہے ۔وزیراعظم بن علی یلدرم نے ریفرنڈم سے متعلق کہا ہے کہ یہ عوامی فیصلہ ہے جسے دنیا کی کوئی بھی عدالت مسترد نہیں کر سکتی

۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی ورلڈ سے گفتگو کے دوران کہی اور حزب اختلاف کی طرف سے ریفرنڈم کو منسوخ کروانیکے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ترک عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ،حزب اختلاف اگر اسے قبول نہیں کرتی تو اس کی مرضی وہ چاہے تو یورپی حقوق انسانی کے ادارے یا دستور ساز عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹائے ،عوام کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا ۔

یہ فیصلہ عوام کا ہے اور وہ ہی اسے بدلنے پر قادر ہے ۔ملک میں آمرانہ طرز حکومت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ آمریت میں سیاسی جماعت یا عوامی ریفرنڈم کا سوال ہی نہیں اٹھتا، اگر ایسا ہوتا تو 50 ملین عوام اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام خواہ جتنا کامیاب ہو جائے اس کی مدت فرائض دس سال سے زیادہ نہیں ہوگی ۔یورپی یونین سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اب باری اس کی ہے کہ وہ اپنی اقدار اور وعدوں کا خیال رکھے یا پھر ایک مسیحی کلب بن جائے۔