بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انسداد تمباکو نوشی کیلئے خصوصی مہم شروع کرنیکا فیصلہ

انسداد تمباکو نوشی کیلئے خصوصی مہم شروع کرنیکا فیصلہ

پشاور ۔ انسداد تمباکو نوشی قوانین پر ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کیلئے ضلعی عمل درآمد اور مانیٹرنگ کمیٹی ( DI&MC) برائے انسداد تمباکو نوشی کا ایک اجلاس جمعہ کے روز ڈپٹی کمشنر پشاور کی زیر صدارت ان کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں انسداد تمباکو نوشی کیلئے قانون اور طریقہ کار سے متعلق سرکاری ہسپتالوں ، صحت عامہ کے مراکز ، پرائیویٹ کلینکس ، میٹرنٹی ہومز اور لیبارٹریز کے سربراہان کیلئے معلومات اور عوام کی آگہی کیلئے خصوصی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ٹرانسپورٹ مالکان ، ہسپتالوں ، صحت عامہ کے مراکز ، پرائیویٹ کلینکس ، میٹرنٹی ہومز ، لیبارٹریز اور دیگر عوامی اداروں کے سربراہان اپنے عملے اور متعلقہ افراد کو عوامی مقامات اور عوام کے کام کرنے کی جگہوں پر تمباکو نوشی کی ممناعت اور اسے جرم قرار دینے سے متعلق عوامی آگاہی و شعور کی بیدار ی کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں گے جبکہ ’’18سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے ‘‘ کا جملہ ہر سگریٹ کے پیکٹ اور دکانوں پر نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ہسپتالوں اور صحت عامہ کے مراکز کے اندر اور باہر ’’ تمباکو نوشی قانوناً جرم ہے ‘‘ کے بورڈ آویزاں کئے جائیں گے جبکہ تعلیمی اداروں کی حدود سے پچاس کلومیٹر تک سگریٹ کی فروخت اور تقسیم و ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔تمباکو نوشی کی ممانعت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سیکشن 6-5 اور10کی پہلی بار خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے تک جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ایک لاکھ روپے تک جرمانے اور سیکشن 8-7اور 9کی پہلی مرتبہ خلاف ورزی پر پانچ ہزار روپے تک جرمانہ اور دوبارہ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانے یا تین ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ قانون کا صرف جاننا ہی کافی نہیں بلکہ اس پر من و عن عمل کرنا بھی لازمی ہو گا۔ڈپٹی کمشنر پشاور نے اس موقع پر انسداد تمباکو نوشی سے متعلق قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں آپنی آئندہ نسلوں کو اس برائی اور لعنت سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانا ہوں گے۔