بریکنگ نیوز
Home / کالم / تقریب کچھ تو…..

تقریب کچھ تو…..


سیاست میں خود کو زندہ رکھنے کیلئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی ہے اور ایک پارٹی لیڈر کے لئے تو یہ اور بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہماری سیاست میں اتنی تیزی پہلے کبھی نہ تھی جتنی2013 کے الیکشن کے بعد آئی۔ الیکشن میں اس سے پہلے کی حکمران پارٹی نے بری طرح شکست کھائی اور وہ صرف سندھ تک محدود ہو گئی۔ پارٹی نے شاید اس سے کچھ سبق سیکھا یا نہیں مگر اب جو میدان میں نکلی ہے تواس نے سیاست کواس طرح لیا ہے کہ اس کے لیڈروں کی تقریروں کے جملے واپس انہی پر برستے نظر آتے ہیں ان کے بے نظیر دور کے کارنامے اور ٹین پرسنٹ کے افسانے لوگوں کو از بر ہیں ۔ سابقہ دور میں چونکہ مصالحت ہو گئی ہوئی تھی اور محترمہ کی شہادت نے اور ایک عدد وصیت نے پی پی پی کو ایک نئی زندگی دی اور یہ پارٹی بر سر اقتدار آ گئی انکے اس اقتدار میں آنے کا ایک بڑا کریڈٹ جناب نواز شریف کی گو مگو کی پالیسی کو بھی جاتا ہے پہلے یہ مفاہمت کی سیاست کے پیش نظر کچھ ڈھیلے پڑے ہوئے تھے۔

اس لئے کہ انہوں نے ایک عدد معاہدہ کر لیا تھا کہ اب کے وہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالیں گے اور دوسرے محترمہ کی شہادت کی وجہ سے نواز شریف نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا عندیہ دے دیا تھا جس کو زرداری صاحب نے کہلوا کر ختم کروا دیا مگر جب وہ میدان میں نکلے تو ان کے سامنے صرف پنجاب تھااور انکے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ دوسرے صوبوں میں جا کر اپنی کیمپین چلاتے اور دوسرے صوبوں نے ان کے انکار کو ہی فائنل سمجھا تھا اس لئے ن لیگ کے ورکر ان صوبوں میں الیکشن کیلئے تیار ہی نہیں تھے اس کے باوجود کچھ سیٹیں ان صوبوں سے بھی مل گئیں مگر اکثریت پی پی پی نے سکور کر لیں ہاں پنجاب کی حکومت بہرحال مسلم لیگ ن نے حاصل کر لی2013 نے اپنا زور پنجاب تک محدود رکھا جس کی وجہ سے سندھ میں پی پی پی ، بلوچستان میں اچکزئی کی پارٹی اور مسلم لیگ سامنے آئیں جبکہ خیبر پختونخوا میں زیادہ سیٹیں پی ٹی آئی نے حاصل کیں اور یوں چاروں صوبوں میں چار مختلف پارٹیوں نے حکومت بنا لی جس کا نقصان بعد میں ہوا مگر جمہوریت کا حسن سمجھ کر اسے برداشت کر لیا گیاادھر جمہوریت کا حسن ایک او ر طرح سے سامنے آیا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا دیا اور الیکشن کے ایک سال بعد دھرنے دینے کا اعلان کر دیا کہ انتخابات میں مسلم لیگ ن نے دھاندلی بلکہ تاریخی دھاندلی کی ہے ورنہ سارے پاکستان میں جیتنے والی پارٹی تو پی ٹی آئی تھی اس دھرنے میں انکے ساتھ جناب ڈاکٹر طاہر القادری بھی شامل ہو گئے اور کئی ہفتوں تک یہ ڈرامہ چلتا رہا اور یہ آکے اے پی ایس کے بچوں پر حملے کی وجہ سے ختم کرنا پڑا ۔ویسے ڈاکٹر صاحب تو کچھ دن پہلے ہی کفن لپیٹ کر اپنے ہدیے شکرانے سمیٹنے یورپ اور امریکہ رونہ ہو گئے تھے ۔

تاہم یہ ہنگا مے اپنے اختتام کو پہنچے مگر اس میں الزامات میں کئیر ٹیکر جناب نجم سیٹھی کے پینتیس پنکچر بہت مشہور ہوئے یہ پنکچر دھرنے کے دوران خوب اچھالے گئے نجم سیٹھی صاحب قسمیں اٹھاتے رہے کہ انہوں نے نہ کسی کو پنکچر کیا ہے اور نہ پنکچر لگانے کی نوبت آئی ہے مگر عمران خان کے کان میں جو کچھ کہہ دیا گیا وہ فائنل تھا اس لئے دھرنا ختم ہونے کے کافی عرصہ بعد خود ہی کہہ دیا کہ یہ تو ایک سیاسی نعرہ تھاتاہم اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہونے کے باوجود عمران خان نے چھوڑا نہیں کہ ان کے ووٹ چرائے گئے تھے۔عمران خان حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے ہر حربہ ستعمال کر رہے تھے اور ان کے سپوکس مین بھی ہر طرح سے لیس ٹی وی کے پروگراموں میں حکومت کو زچ کرنے کے عمل میں لگے رہے اب پینتیس پنکچروں کا قصہ تو تمام ہو ا مگر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والی بات کہ کہیں سے کسی نے یہ بات عام کر دی کہ دنیا بھر کے حکمرانوں نے اپنے ٹیکس بچانے کے لئے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں ان میں حسین نواز اور حسن نواز کا نام بھی شامل تھا اب پی ٹی آئی نے نواز شریف کو بھی شامل کر دیا اور سپریم کورٹ میں چلی گئی وہاں سے جو فیصلہ آیا وہ کچھ یوں تھا کہ دونوں جانب سے مٹھائیاں بانٹی گئیں تاہم معاملہ ابھی گرم ہی تھا کہ ایک اور معاملہ سامنے آ گیا کہ خان صاحب کو کسی نے حکومت کی جانب سے دس ارب روپے کی آفر کی تھی اور جس کوخان صاحب سے ڈیل کے لئے بھیجا گیا تھا اسے بھی دو ارب کی آفر دی گئی تھی۔بات کیس دائر کرنے سے قبل کی ہے مگر خان صاحب کو اب یاد آیاہے مگر چلو یاد توآ ہی گیا ہے۔دیکھتے ہیں کہ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔