بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبانوں کی جنگ:انگریزی کیوں؟

زبانوں کی جنگ:انگریزی کیوں؟


آخر کیا وجہ ہے کہ انگریزی کا جنون ہمارے سروں پر سوار ہے؟ آخر ہم کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ صرف انگریزی زبان میں مہارت ہی خواندہ ہونے کے لئے ضروری نہیں؟انگریزی زبان کیساتھ ملازمت اور ترقی کے مواقع جوڑنے والوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خواندگی کی سوچ ہی کو غلام کر دیا ہے! مجھے ایک نوجوان ماں نے سکول میں زیر تعلیم اپنی بیٹی کیساتھ پیش آئے ایک دل خراش تجربے کے بارے میں بتایا۔ بچی کو اس کے ٹیچر نے یہ کہہ رکھا تھا کہ ’کلاس میں جو بچہ انگلش نہیں بولتا‘ وہ اس کی شکایت انہیں آ کر دے۔‘ یہ سن کر مجھے حیرانی تو نہیں ہوئی مگر افسوس ضرور ہوا۔ کئی والدین کیساتھ بھی ایسا ہی تجربہ ہو چکا تھا اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ کئی والدین سمجھتے ہیں کہ انگلش سیکھنے کا فقط یہی ایک طریقہ ہے چند ماہ قبل ایک نامور اور مہنگے ’سکول نیٹ ورک‘ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ پاکستان میں زبانوں کی جنگ اب بھی جاری ہے ساہیوال میں واقع مذکورہ سکول نیٹ ورک کے کیمپس کے ہیڈ ماسٹر نے اپنی جانب سے والدین کو ایک نوٹس بھیجا جس میں بڑے ہی عجیب و غریب الفاظ میں ہدایات درج کی ہوئی تھیں۔ نوٹس میں سکول کی حدود میں ’فاؤل لینگویج‘ یا بے ہودہ زبان کے استعمال کی ممانعت کی گئی تھی۔ نوٹیفیکیشن میں واضح طور پر طعنوں‘ گالیوں‘ پنجابی اور نفرت انگیز زبان کو ’فاؤل لینگویج‘ میں شمار کیا گیا تھا مجھے اس نوٹس کے بارے میں اس وقت پتہ چلا تھا۔

جب میں ایک ایسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھی جو کہ پاکستان میں ہر استاد کو پڑھنی چاہئے۔ اس کا کتاب کا نام ’وائے انگلش؟ کنفرنٹنگ دی ہائیڈر‘ ہے۔ اس کتاب کو چار ممتاز ماہرین لسانیات (پاؤلن بنس‘ رابرٹ فلپسن‘ ویگھن رپتحانہ اور روانی ٹیوپس) نے ایڈٹ کیا ہے‘ اس کتاب سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بچے کو اس کی اپنی زبان کے استعمال کرنے سے منع کرنا اور انگلش نہ بولنے والے معاشروں کے سکولوں میں صرف انگلش بولنے اور درس و تدریس دینے پر زور دینا کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔کتاب کے تعارف میں ایڈیٹرز لکھتے ہیں کہ ’’انگلش کا بڑھتا ہوا رجحان دیگر زبانوں اور ان کی ثقافتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ جہاں انگلش صرف چند لوگوں کے لئے نئے مواقع اور رسائی پیدا کرتی ہے وہاں کئی ملکوں کا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ کئی لوگوں کے لئے انگلش کے دروازے ہی بند ہوتے ہیں۔‘‘ یہ ایک بڑی منافقت نہیں تو اور کیا ہے کہ جہاں حکومت مسلسل غربت ختم کرنے اور طبقات میں موجود محرومیوں کو مٹانے کا راگ الاپتی ہے وہاں اپنی نامناسب زبان پالیسی کے ذریعے نا انصافی کو فروغ دے رہی ہے جس طرح کتاب میں بھی بیان ہے کہ اس کتاب کے تمام چھبیس لکھاری بنیادی طور پر کسی ایک یا انگلش زبان کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کے لئے ضروری یہ بات ہے کہ انگلش زبان کو کس طرح تیسری دنیا کے ملکوں میں اونچے طبقے کی جانب سے اکثریت‘ انگلش نہ بولنے والے‘ کو خارج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور لوگوں کو بے وقوف اور ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اکثر ایک مقبول عام اور من گھڑت بات کو فروغ دیا جاتا ہے کہ انگلش ہی ہمارے تعلیمی مسائل کا ایک حل ہے۔ وہ والدین جو خود انگلش نہیں جانتے وہ ’انگلش میں دلائل‘ سے بھی کافی متاثر ہو جاتے ہیں مگر وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے بچے ناقدانہ سوچ پیدا کرنے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اب وہ ایک ایسی زبان پر منحصر ہو چکے ہیں جس میں وہ مکمل طور پر اپنا اظہار بھی پیش نہیں کر سکتے۔ بچپن سے سیکھی ہوئی زبان میں تعلیم فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے طلبہ میں رٹا لگا کر پڑھنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

وہ اس عادت سے کبھی اپنا پیچھا نہیں چھڑا پاتے کیونکہ وہ کسی بھی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت سیکھنے سے محروم رہے ہوتے ہیں تو پھر اس کا حل کیا ہے؟ انگلش موجودہ دور کی بین الاقوامی زبان ہے اور اس بات کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ وائے انگلش کے ایڈیٹرز اس کا ایک حل پیش کرتے ہیں وہ انگلش کے علاوہ دیگر زبانوں کا احترام کرنے اور تعلیمی نظام کو ان زبانوں اور ثقافتوں کے اعتبار سے تعمیر کرنے کا کہتے ہیں جن سے بچے آشنا ہیں دوسرے لفظوں میں کہیں تو اساتذہ کی تھوڑی ان سروس تربیت سے وہ اپنی زبان میں بہترین انداز میں پڑھا سکتے ہیں‘ جہاں تک بات بچوں کو انگلش پڑھانے کی ہے تو کچھ اساتذہ کو انگلش بطور ایک مضمون پڑھانے کے لئے تربیت فراہم کی جاسکتی ہے۔ اس پورے مقصد کے لئے ایک طویل اور زیادہ کامل و سخت تربیت درکار ہوگی۔ دوسری جانب جن مقامی زبانوں کو بچے سمجھتے ہیں اور جن میں اساتذہ مہارت رکھتے ہیں‘ ان زبانوں میں پڑھائے جانے والے تمام مضامین میں واضح بہتری دیکھی جا سکے گی۔ وائے انگلش کتاب کے مطابق ’’مادری زبان پر محیط ایک سے زائد زبانوں پر مشتمل تعلیم پر کی جانے والی تحقیق واضح طور پر شاہد ہے کہ اس طرح نہ صرف تعلیمی نتائج بہتر ہوں گے بلکہ انگلش پر بہتر دسترس حاصل ہوگی۔‘‘ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زبیدہ مصطفی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)