بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا کے کیس میں تاخیر

فاٹا کے کیس میں تاخیر

خیبرپختونخوا حکومت قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام سے متعلق اپنے موقف کو دوٹوک قرار دیتی ہے، وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فاٹا کا صوبے میں مکمل انضمام ہی مسائل کا واحد اور مستقل حل ہے، قبائلی اراکین پارلیمنٹ کے وفد سے بات چیت میں وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ فاٹا کو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا کر وفاق ہمیں جھگڑوں میں نہ ڈالے، اس سے مسائل کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوں گے، عین اسی روز قومی وطن پارٹی کے مرکزی سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ بھی فاٹا کے انضمام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے کیس میں پیشرفت نہیں ہو رہی جس پر ہمیں آگے آنا ہوگا، مخصوص جغرافیے اور درپیش حالات کے باعث قبائلی علاقہ جات تعمیر وترقی کی دوڑ میں پیچھے رہے ہیں، یہاں غربت اور بیروزگاری کیساتھ عام شہری بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے، اس علاقے کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اصلاحات واقعی میں ایک بڑا کام ہے جس کیلئے حکومتی سطح پر ہوم ورک کے طورپر لوگوں سے رابطہ بھی ہوا اور خصوصی کمیٹی نے مختلف علاقوں کے دورے بھی کئے۔

بعدازاں اصلاحات کے اعلان کو ایک طویل شیڈول کی صورت دی گئی، اس شیڈول کو غیر ضروری تاخیر کا حامل بھی گردانا گیا تاہم اس پر بھی عملی کام میں کوئی تیزی دکھائی نہیں دے رہی، خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کے قوانین طرز حکمرانی اور مقامی حکومتوں کے پلان کو قبائلی علاقوں تک توسیع دیدی جائے، اس طرح مقامی حکومتیں بنیادی مسائل کے حل کیلئے کام کرسکیں گی، فاٹا کے معاملات میں اگر کسی کے کوئی تحفظات اور مطالبات ہیں تو انہیں بھی ضرور سنا جائے، قبائلی عوام برسرزمین حالات کی روشنی میں تجاویز دے سکتے ہیں تاہم ضرورت اصلاحات کے اعلانات پر کام شروع کرنے کی بھی ہے تاکہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کاعمل پوری طرح شروع کیاجاسکے۔

پینے کا صاف پانی؟

وطن عزیزمیں آبادی کاایک بڑا حصہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، بڑے شہروں سے متعلق سرکاری کتابوں میں یہ بات فخر کیساتھ لکھی جاتی ہے کہ شہریوں کو پانی میسر ہے، اس پانی کو جسے کتابوں میں صاف اور شفاف کہاجاتا ہے، ٹیوب ویلوں سے انتہائی بوسیدہ اور زنگ آلود پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے، یہ پائپ اکثر مقامات پر سیوریج لائنوں کے اندر سے گزرتے ہیں جہاں سے گندہ پانی ٹوٹے ہوئے اور زنگ آلود پائپوں میں شامل ہوتا ہے، یہ پانی شہریوں کی صحت وزندگی کیلئے کتنا نقصان دہ ہے، اس کا صحیح جواب تو حکومت کے ذمہ دار ادارے ہی دے سکتے ہیں، عام شہری صوبائی دارالحکومت کی حد تک بوسیدہ اور زنگ آلود پائپوں کی تبدیلی کے منصوبے کا ایک مدت سے منتظر ہے، منتخب قیادت کی موجودگی میں ریاست کے ذمہ دار ادارے اگر اپنے شہریوں کو صاف پانی تک نہ فراہم کرسکیں تو یہ ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہوگا، جس کا جواب شہری اپنے منتخب نمائندوں سے طلب کریں گے، بعداز خرابی بسیار سہی وزیر اعلیٰ کو اب اس صورتحال کا خود نوٹس لیناہوگا۔